پیوٹن کا ایڈورڈ سناؤڈن کو امریکہ کے حوالے کرنے پر غور

پیوٹن کا ایڈورڈ سناؤڈن کو امریکہ کے حوالے کرنے پر غور
 پیوٹن کا ایڈورڈ سناؤڈن کو امریکہ کے حوالے کرنے پر غور

  

ماسکو (نیوز ڈیسک) روسی صدر ولادی میر پیوٹن اورامریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان گرمجوشی امریکیوں کے لئے پہلے ہی معمہ بنی ہوئی تھی مگر اب اس خبر نے تو ساری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے کہ ولادی میر پیوٹن اپنے دوست ٹرمپ کو خوش کرنے کے لئے باغی امریکی جاسوس ایڈورڈ سناؤڈن کو بطور تحفہ امریکا کے حوالے کرنے پر غور کر رہے ہیں۔این بی سی نیوز نے روسی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر ولادی میر پیوٹن سمجھتے ہیں کہ ایڈورڈ سناؤڈن کو امریکہ کے حوالے کرکے ڈونلڈ ٹرمپ پر مزید اچھا تاثر قائم کیا جاسکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ، ایڈورڈ سناؤڈن کے متعلق انتہائی سخت جذبات رکھتے ہیں اور برملاء ان کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔ وہ سناؤڈن کو جاسوس اور غدار قراردیتے ہوئے اس کے لئے سزائے موت کا مطالبہ کرچکے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس کے لئے ایڈورڈ سناؤڈن کو امریکہ کے حوالے کرنا بہرصورت ایک کامیابی ہوگی کیونکہ وہ پہلے ہی اس سے اہم اور قیمتی راز اگلواچکے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا البتہ محکمہ انصاف کا کہنا تھا کہ ایڈورڈ سناؤڈن کی امریکہ واپسی کو خوش آمدید کہا جائے گا۔

مزید :

صفحہ آخر -