بھارتی فلموں کامخمصہ

بھارتی فلموں کامخمصہ
 بھارتی فلموں کامخمصہ

  

یہ ایک عجیب و غریب مخمصہ ہے، گلی گلی محلے محلے بھارتی فلمیں دستیاب ہیں، آپ پچاس روپے کی ڈی وی ڈی لے کر کسی بھی بھارتی فلم کوبغیر کسی سنسر کے اپنے گھر میں بیٹھ کر پچاس مرتبہ دیکھ سکتے ہیں مگر ہماری قومی غیرت اس وقت سخت مجروح ہوتی ہے جب غیر ملکی فلموں کے نام پر امپورٹ کی گئی کسی بھارتی فلم کو باقاعدہ سنسر کے بعد سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ظالم بھارتی افواج کے ہاتھوں برہان وانی کی شہادت کے بعد کچھ سینما گھر کے مالکان نے از خود یہ پابندی لگائی تھی کہ وہ بھارتی فلموں کی نمائش نہیں کریں گے مگر انہیں جلد ہی علم ہو گیا کہ اگر انہوں نے اپنے سینما گھروں کو برقرار رکھنا ہے تو پھر یہ پابندی برقرار نہیں رکھ سکتے۔ ایک عرصے تک فلم اور سینما انڈسٹری کو ایک ہی سمجھاجاتا رہا مگر ان کے آپس میں جڑے ہونے کے باوجوددونوں کے کاروبار میں بہت فرق ہے۔

اس امر سے انکار نہیں ہو سکتاکہ بھارت سے ریلیز ہونے والی بہت ساری فلموں میں اسلام اور پاکستان کے خلاف مواد ہوتا ہے اور اس بنیادپر یہ دلیل بھی دی جا سکتی ہے کہ پاکستانیوں کے معصوم ذہنوں کو اس زہریلے پروپیگنڈے سے بچانے کے لئے بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی ضروری ہے لیکن یہ پابندی صرف سینما گھروں پر کیوں عائد ہوتی ہے، پابندی ان سی ڈی اور ڈی وی ڈی شاپس پر عائد کیوں نہیں ہوتی جو پاکستانی شائقین کے لئے ان فلموں کے کیمرا پرنٹ تک جاری کردیتی ہیں ۔ اب اگر آپ یہ دلیل دیں کہ ان سی ڈی اور ڈی وی ڈی شاپس کو ریگولیٹ نہیں کیا جا سکتا تو میں ایک دلیل کے ساتھ آپ سے اتفاق نہیں کر تا۔ کاپی رائٹس کا قانون آنے کے بعد میں نے ان دکانوں پر پاکستانی فلموں کے غیر قانونی پرنٹس کی فروخت رکتے ہوئے دیکھی ہے۔ آپ کسی عام یا خاص شاپ پر چلے جائیں، ان سے کسی پاکستانی فلم کی سی ڈی یا ڈی وی ڈی مانگیں، دکاندار صاف انکار کر دے گا اورکہے گاکہ چھاپے پڑتے ہیں، ایسی فلم برآمد ہوجائے تو ایف آئی آر بھی ہوتی ہے اور جرمانہ بھی ہوتا ہے۔

فرض کرنا فی الوقت محال ہے مگر کر لیتے ہیں کہ سینما گھروں کے بعد سی ڈی اور ڈی وی ڈی شاپس پر بھی آپ بھارتی فلموں کی سی ڈیز کی فروخت پر پابندی لگا دیتے ہیں تو کیا آپ انٹرٹینمنٹ کی ان تمام ویب سائیٹس کو بھی بند کر سکتے ہیں جہاں تمام بھارتی فلمیں ڈاون لوڈ کرنے اور آن لائن دیکھنے کے لئے دستیاب ہیں اور اس ویب سائیٹس تک ان بہت سارے نوجوانوں کی رسائی بھی ہے جو شائد سینما گھر کبھی کبھار ہی جاتے ہوں ۔ انٹرنیٹ اورگلوبلائزیشن کے اس دور میں یقینی طور پر آپ یہ نہیں کر سکتے تو پھر پابندی صرف سینما گھروں کے لئے باقی رہ جاتی ہے، وہ سینما گھر جو اس معاشرے میں دو سے تین دہائیوں کے بعد آباد ہونے لگے ہیں، اس معاشرے میں جہاں تفریح کے مواقع محدود سے محدود تر ہوتے چلے جا رہے تھے، اس معاشرے میں جو محبت تو چھپ چھپ کر تا ہے مگر نفرت ڈنکے کی چوٹ پر کرتا ہے۔ اس معاشرے میں انتہا پسندی در آئی ہے جوجان ہی نہیں چھوڑ رہی۔ یہاں ایک طرف وہ انتہا پسند ہیں جو بھارتی فلموں کی نمائش کی اجازت دینے پر حکومت پر تھو تھو کرتے ہیں اور دوسرے ا نتہا پسند وہ ہیں جو اجازت دینے کے چند دن بعد ہی شاہ رخ خان کی فلم پر پابندی لگا نے کے فیصلے کو آئین، جمہوریت اور بنیادی حقوق کی خلا ف ورزی ہی نہیں بلکہ حکومت کی آمرانہ اور دقیانوسی سوچ بھی قرار دے رہے ہیں۔ اس فلم میں ہماری سپر ماڈل اور اداکارہ ماہرہ خان نے بھی کہیں کہیں اداکاری کے جوہر دکھائے ہوتے ہیں یعنی وہ بھی کہیں کہیں نظر آئی ہے مگر گانا سنی لیون کا ہٹ ہو گیا ہے۔

آپ پوچھ سکتے ہیں کہ اگر فلمیں نہ دکھانا بھی قابل قبول نہیں اور فلمیں دکھانا بھی غداری ہے تو پھر ہمارے پاس راستہ کیا ہے؟ کہ ہمارے پاس بہترین راستہ یہ ہے کہ ہم ہر کسی کی انتہا پسندی کو مسترد کر دیں۔ وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ سینما گھروں میں بھارتی فلمیں دکھانے سے ان کی پاکستانیت متاثر ہو گی، ان کے گھروں میں بے حیائی در آئے گی تو انہیں کہا جا سکتا ہے کہ جناب آپ نہ خود یہ فلمیں دیکھیں اور نہ ہی اپنے بچوں کو سینما گھروں میں جانے کی اجازت دیں مگر برائے مہربانی اس امر کو بھی کنٹرول کریں کہ آپ کے گھر کے اندر ہی سینما نہ کھلا ہو اور اگر آپ اپنے گھر میں بیٹھ کر بھارتی فلم دیکھ رہے ہیں مگر سماجی اور سیاسی بنیادوں پر اس کی مخالفت کر رہے ہیں تو اس سے بڑی منافقت کوئی دوسری نہیں ہو سکتی۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو بھارت سے آنے والی ہر شے کو چوم چاٹ کر گلے سے لگالینے اور ماتھے پر سجا لینے کی وکالت کرتا ہوا نظر آتا ہے مگر ان فلموں کو واقعی برداشت نہیں کیا جانا چاہئے جو مسلمانوں کو مجموعی طور پر یا کسی فرقے کو بطور خاص بدنام کرتی ہوئی نظر آئیں۔ میرے خیال میں تو ماہرہ خان کو’ رئیس ‘میں کام کرنے سے پہلے سکرپٹ کا باقاعدہ جائزہ لینا چاہئے تھا مگر وہ بی بی بظاہر شاہ رخ خان کے ساتھ فلم کرنے پر ہی مر مٹی۔ کیا حکومت پاکستان اور سنسر بورڈ کے ’ رئیس‘ پر پابندی لگانے کے اقدام کی مخالفت کی جا سکتی ہے ، ہرگز نہیں، اگر ایسے ہی کسی مواد کے ساتھ کوئی پاکستانی فلم بھی سنسر بورڈ کے سامنے پیش ہوتی تو اسے بھی نمائش کی اجا زت نہ ملتی اور نہ ہی مذہبی رجحانات رکھنے والے کسی ملک میں ملنی چاہئے۔ ایک وقت تھا کہ بھارتی فلمیں ، پاکستانی مارکیٹ میں پیش کی جاتی تھیں تو پاکستانی فلمیں ان کا بھرپور مقابلہ کرتی تھیں مگر جب بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی لگی تو مقابلے کی فضا ختم ہونے کے بعد ہماری فلموں کا معیار بھی گرنے لگا۔80ء کی دہائی میں پاکستانی خاندانوں نے سینما گھروں کا رخ کرنا بند کر دیا اور نوے کی دہائی میں خود فلمیں بھی سینما گھروں میں نہ رہیں۔ معیاری اردو رومانوی فلموں کی جگہ پنجابی فلموں کاگنڈاسہ اور سٹیج ڈراموں کے لچر ذومعنی ڈائیلاگوں کے ساتھ ساتھ فحش ڈانسوں نے لے لی، پاکستانی فلموں کی مناپلی نے پاکستان فلم انڈسٹری کو مضبوط کرنے کی بجائے تباہ کر دیا۔مجھے وہ بہت سارے سینما گھر اب بھی یاد ہیں جن کی جگہ پلازے بن گئے، میرے گھر کے قریب شمع اور گلیکسی کے نام پر اب بھی فیروز پورروڈ پر بس سٹاپ موجود ہیں مگر بہت سارے مقامات پرتووہ نام بھی باقی نہیں رہے۔ مجھے نئے بنتے ہوئے سینما گھر اچھے لگتے ہیں مگر ان سے میری شکایت یہ ہے کہ ان کی ٹکٹ ہی نہیں بلکہ وہاں ملنے والے پاپ کارن بھی بہت مہنگے ہوتے ہیں۔

اگر آپ معاشرے میں عوام کو سستی اور معیار تفریح فراہم کرنا چاہتے ہیں، اپنی سینما انڈسٹری اوراس کے ذریعے فلم انڈسٹری کو بھی زندگی دینا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو مجبوری کی حالت میں بھارتی فلموں کی نمائش کی اجازت دینا پڑے گی۔ یہ ایک دلچسپ سائنس ہے کہ اگر سینما گھر برقرار رہیں گے تب ہی وہاں پاکستانی فلموں کی نمائش بھی ہو سکے گی لیکن اگر سینما گھر ہی نہ رہے تو پھر پاکستانی فلمیں بھی بزنس کے لئے کہیں پیش نہیں کی جا سکیں گی ۔ ہمیں حکومت اورسنسر بورڈ پران فیصلوں پر اعتماد کرنا پڑے گا کہ وہ تفریح اور سینما انڈسٹری کی بقا کے نام پر اسلام اور پاکستان کے بارے منفی فلموں کی نمائش کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔ حکومت کے ہر فیصلے کو غلط کہنا بہت ہی آسان ہوتا ہے مگر یہاں بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی ہٹانے اور بھارتی فلم رئیس پر پابندی لگانے سمیت دونوں فیصلے ایک معتدل سوچ اور درست سمت کی عکاسی کر رہے ہیں ۔ جب پاکستان کی فلم انڈسٹری اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ، وہ سینما گھروں کو اس کی ضروریات کے مطابق فلمیں پروڈیوس کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی تو آپ کو یقینی طور پر امپورٹڈ فلموں پر ہی گزارا کرنا پڑے گا مگر انہیں بھارتی معاشرے کی طرح اسلام دشمنی میں مادر پدر آزادی حاصل ہو، اس نظرئیے کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔

مزید :

کالم -