کشمیر کے بغیر بھارت سے مذاکرات نہیں ہوں گے ،بحرہند میں تبدیلیوں سے لاتعلق نہیں رہ سکتے ، سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں :سرتاج عزیز

کشمیر کے بغیر بھارت سے مذاکرات نہیں ہوں گے ،بحرہند میں تبدیلیوں سے لاتعلق ...

  

 کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہاکہ ہم بحر ہند میں تبدیلیوں سے لاتعلق نہیں رہ سکتے، پاکستان کی تجارت کا بڑا حصہ بحر ہند سے گزرتاہے۔ میری ٹائم کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہاکہ میری ٹائم سکیورٹی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ہر ممکن تیار ہے،میری ٹائم سیکیورٹی بحرہندکے خطے کے ملکوں کی سلامتی سے براہ راست تعلق رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بحر ہند کاتیسرااہم ملک ہے اورخطے میں اہم تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔سرتاج عزیز نے مزید کہا کہ تقریباً 30ممالک بحرہند کے خطے سے جڑے ہیں، دنیا کی 40 فیصدتجارت بحر ہند سے گزرتی ہے، بحر ہند کا خطہ معاشی اور سیاسی طور پر انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔مشیر خارجہ نے مزید کہاکہ آبنائے ہرمز اور ملاکابحر ہند کے راستے کی اہم ترین گزر گاہیں ہیں اور دنیا میں تیل و گیس کے30 فیصد ذخائر بحر ہند کے خطے میں ہیں۔

سرتاج عزیز

کراچی(صباح نیوز)مشیرخارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے امید ہے کہ نئی امریکی حکومت سے اچھے تعلقات قائم ہوں گے۔ کراچی میں پاکستان انسٹی ٹیویٹ آف انٹرنیشنل افیئرز( پی آئی آئی اے ) میں ایک تقریب سے خطاب کے بعدمیڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا کہ سرحد پر ہونیوالے واقعات کا بھارت کو بھر پور جواب دیتے ہیں۔بھارت کشمیر سے توجہ ہٹانے کیلئے سرحد پر دراندازی کررہا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ ہم مسئلہ کشمیر کو ہر فورم پر اٹھا رہے ہیں اور یہ ہماری کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ بھارت پر عالمی دباؤ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ قبل ازیں خارجہ پالیسی سے متعلق منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیرخارجہ نے کہا ہے کہ خطے میں چین اور روس کے کردار سے صورتحال تبدیل ہو رہی ہے ،معاشی سرگرمیوں کی وجہ سے 21 ویں صدی ایشیاء کی ہے۔مشیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ20 سال میں دنیا کے حالات تیزی سے تبدیل ہوئے لہٰذاسفارتی ماہرین حالات پر گہری نظر رکھیں اور رہنمائی کریں کیونکہ نئے حالات اور صورتحال سے باخبر رہنا سفارت کاروں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے تین چاربرسوں میں عالمی سطح پر بڑی تبدیلیاں ہو سکتی ہیں کیونکہ آج دنیا کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے اورکوئی بھی ملک تنہاء ان چیلنجز سے نبردآزما نہیں ہو سکتا لہٰذا ان چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پوری دنیا کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر پناہ گزینوں کا مسئلہ بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس مسئلے کے حل کیلئے بھی پوری دنیا کو اپنا کردار اداکرنا چاہئے۔مشیر خارجہ نے کہا کہ یکساں تجارت کا فروغ ہی پوری دنیا میں خوشحالی کا باعث بن سکتا ہے ۔پاکستان کے چین سے قریبی دوستانہ تعلقات ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں جبکہ پاکستان کے روس سے تعلقات بھی بہتر ہو رہے ہیں۔سرتاج عزیز نے کہا کہ جنوبی ایشیائی ممالک کی معیشتیں تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہیں۔19ویں صدی کی تاریخ ایک مرتبہ پھر خود کو دہرائے گی کیونکہ خطے میں معاشی سرگرمیوں کے باعث 21 ویں صدی ایشیائی ممالک کی ہے۔سینیٹر سرتاج عزیز نے کہا کہ امریکا پاکستان کے خلاف کوئی سفری یا دیگر پابندیاں عائد نہیں کررہا ہے،بھارت میں اس وقت ریاستی انتخابات ہورہے ہیں لہٰذااب یہ دیکھنا ہوگا کہ اب بھارت کب مذاکرات کرتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاک بھارت مذاکرات جب بھی ہوں گے پاکستان کا واضح موقف ہے کہ ایجنڈے میں مسئلہ کشمیر اور تمام تصفیہ طلب امور شامل ہونے چاہئیں ،پاکستان کے اندرونی معاملات میں بھارت نے مداخلت کی ہے ،جس کا واضح ثبوت کلبھوشن یادیو کی گرفتاری ہے ۔اس معاملے کو ہم نے عالمی فورمز پر موثر انداز میں اٹھایا ہے ،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دنیا نے پاکستان کے کردار کو سراہا ہے اور وہ ہماری قربانیوں کا اعتراف کرتے ہیں ۔سرتاج عزیز نے کہا کہ افغانستان کا مسئلہ طاقت سے نہیں بلکہ مذاکرات سے حل ہوگا جبکہ پاکستان افغانستان میں قیام امن اور مذاکرات کی بحالی کیلئے کوششیں جاری رکھے گا ۔مشیر خارجہ نے کہا کہ حافظ سعید کی گرفتاری نیشنل ایکشن پلان کا حصہ ہے اوراس کا خارجہ پالیسی سے کوئی تعلق نہیں ہے جبکہ الطاف حسین کے خلاف ریڈ وارنٹ کا اجرا اور دیگر معاملات وزارت خارجہ نہیں بلکہ وزارت داخلہ دیکھ رہی ہے ۔

مشیر خارجہ

مزید :

صفحہ اول -