’ہم 200 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار سے گاڑی چلانے والوں کو نہیں پکڑتے کیونکہ۔۔۔‘ پولیس والے نے ایسا انکشاف کردیا کہ جان کر گاڑی چلانے والوں کی حیرت کی انتہا نہ رہے

’ہم 200 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار سے گاڑی چلانے والوں کو نہیں پکڑتے ...
’ہم 200 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار سے گاڑی چلانے والوں کو نہیں پکڑتے کیونکہ۔۔۔‘ پولیس والے نے ایسا انکشاف کردیا کہ جان کر گاڑی چلانے والوں کی حیرت کی انتہا نہ رہے

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) کسی بھی ملک میں مقررہ حدرفتار سے تیز گاڑی چلانے پر ڈرائیور کے ہاتھ میں چالان تھما دیا جاتا ہے۔ اس سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ گاڑی آہستہ چلائیں، مگر امریکہ میں اس چالان سے بچنے کا ایک طریقہ ایسا بھی ہے جو یقینا آپ کے لیے حیران کن ہو گا، اور یہ طریقہ گاڑی کو ”مزید تیز چلانا“ ہے، کیونکہ امریکی پولیس 200کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے جانے والی گاڑیوں کو نہیں پکڑتی۔ اس ’راز‘ کا انکشاف امریکہ کے ایک سابق ٹریفک پولیس آفیسر مائیک برکس نے کیا ہے۔

نوجوان نے ایک ایسی موبائل ایپ بناڈالی کہ اس سے تعلق قائم کرنے کیلئے لڑکیوں کی قطار لگ گئی، ایسا طریقہ کہ جان کر دنیا بھر کے مرد دنگ رہ گئے

دی ٹائم کی رپورٹ کے مطابق ویب سائٹ ’پاپولر مکینکس‘(Popular Machanics)سے گفتگو کرتے ہوئے مائیک کا کہنا تھا کہ ”میں نے دوران ڈیوٹی ایک نوجوان کو 200کلومیٹر کی رفتار سے بائیک پر جاتے ہوئے دیکھا لیکن اسے روکنے کی بجائے جانے دیا۔ کیونکہ اتنی رفتار سے جانے والے شخص کا پیچھا کرنے سے حادثات پیش آنے کا خدشہ ہوتا ہے جس پر پولیس کے خلاف مقدمات درج کروا دیئے جاتے ہیں۔“

مائیک نے مزید بتایا کہ ”ان حادثات میں پولیس کو، تیزرفتار گاڑی چلانے والے کو یا سڑک پر موجود دیگر لوگوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔1995ءسے تیزرفتاروں کو پکڑنے میں پیش آنے والے حادثات کے مقدمات پولیس کے خلاف درج کروائے جا رہے ہیں۔ چنانچہ اب پولیس اس رفتار سے گاڑی یا بائیک چلانے والے شخص کا پیچھا ہی نہیں کرتی۔ “

مزید :

ڈیلی بائیٹس -