واصف علی واصفؒ کی کتاب ’قطرہ قطرہ قلزم‘ کے مضمون ’موتی‘ سے اقتباس

واصف علی واصفؒ کی کتاب ’قطرہ قطرہ قلزم‘ کے مضمون ’موتی‘ سے اقتباس
واصف علی واصفؒ کی کتاب ’قطرہ قطرہ قلزم‘ کے مضمون ’موتی‘ سے اقتباس

  

کہتے ہیں کہ بہت پرانے زمانے میں ایک گرو نے اپنے چیلے کو جڑی بوٹی کا رس اکٹھا کرنے کا حکم دیا۔ چیلے نے عمر بھر جواہر العقاقیر اکٹھا کیا۔ وہ خوشی خوشی خزانے سے بھری ہوئی شیشی لے کے چلا، اسے ٹھوکر سی لگی اور اس کے ہاتھ سے شیشی گر کر چکنا چور ہوگئی۔ وہ تڑپا، پھڑکا اور لگا رونے اور پکارنے کہ اے میرے گرو! میں برباد ہوگیا، میری کمائی لٹ گئی، میرا حاصل لا حاصل ہوگیا اب تو میں بوڑھا ہو گیا ہوں اب میں دوبارہ کیسے جتن کروں؟ میرے گرو میں مر گیا، میں تباہ ہو گیا، میری دولت مٹی میں مل گئی۔

’شکر ہے میرا باپ مر گیا، اب اس کے جنازے کی جگہ اسے۔۔۔‘ خاتون نے اپنے باپ کی موت پر ایسا اعلان کردیا جو دنیا کی تاریخ میں آج تک کسی بچے نے نہ کیا ہوگا

اس کا گرو سنتا رہا اور پھر اس نے خوشی سے قہقہہ لگایا، چیلے نے کہا ! گرو میں مر رہا ہوںاور آپ ہنس رہے ہیں؟ ۔ گرو نے کہا تم سمجھ رہے ہو تم لٹ گئے، میں جانتا ہوں آج تمہیں وہ دولت مل گئی ہے جس سے بوٹیوں میں رس پیدا ہوتا ہے۔ خزانہ گم نہیں ہوا ، خزانہ مل گیا ہے۔ چیلے نے پوچھا کون سا خزانہ؟ گرو نے کہا تیرے آنسو۔۔۔ یہ آنسو نہ ہوں تو دنیا میں ویرانی آجائے، میرے چیلے تجھے مبارک ہو، اب من کی چِنتا سے آزاد ہو جا۔۔۔ اس دنیا میں دل کی بوٹی کا امرت ، رس حاصل کرنا ہوتا ہے یعنی آنسو۔ آج تو سرفراز ہے، یہ تیرے من کے مندر کی مورتی کا درشن ہے۔

مسلمان خاتون کو حجاب پہننے کی عادت نے مالا مال کردیا، ایساکام ہوگیا کہ دنیا اور آخرت دونوں سنور گئیں

بہر حال انسان کے آنسو حصولِ رحمت کا قوی ذریعہ ہے، آنسوﺅں کی فریاد مقبول ہے ۔ نالۂِ نیم شب ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مقبول ہے۔ بارگاہِ صمدیت میں آنسوﺅں کی درخواست رد نہیں ہوتی۔ آنسوﺅں سے زمانے بدلتے ہیں ، مقدر بدلتے ہیں، نوشتے بدلتے ہیں، حوادث کے طوفانوں کے رخ بدل جاتے ہیں، گردشِ ایام کے طور بدل جاتے ہیں، معصیت کو مغفرت مل جاتی ہے، بدحال ماضی کو خوش حال مستقبل مل جاتا ہے، گمشدہ برآمد ہوتا ہے۔

مزید :

ادب وثقافت -