چیف منسٹر خود روزگار سکیم: ایک اہم سنگ میل

چیف منسٹر خود روزگار سکیم: ایک اہم سنگ میل
چیف منسٹر خود روزگار سکیم: ایک اہم سنگ میل

  



ڈاکٹر امجد ثاقب کا شمار اُن لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے پاکستان، بالخصوص پنجاب میں غربت کے خاتمے اور عام آدمی کا معیار زندگی بلند کرنے کے لئے پوری لگن اور جذبے سے دن رات کام کیا۔

ان کی کاوشوں کے باعث آج پنجاب حکومت کے مشترکہ تعاون سے اخوت فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر پنجاب کے عوام کو بلاسود قرضوں کی فراہمی جیسی بے مثال تاریخ رقم کی جا رہی ہے۔

اخوت کا مطلب بھائی چارہ اور مواخات کا ہے، یعنی معاشرے میں بلا تفریق اور بلا نسل غربت ختم کرکے لوگوں کو معاشی طور پر مستحکم کیا جا سکے، اس کے لئے مائیکرو فنانس کے ذریعے بلاسود قرضوں کی فراہمی ممکن بنائی جا رہی ہے ۔

اب تک لاکھوں لوگ ان قرضوں کی فراہمی سے اپنے کاروبار چلا رہے ہیں اور باعزت روزگار کا حصول ممکن بنا رہے ہیں، نیز اخوت سے جڑی ہوئی 20ملین فیملیز کو سپورٹ کیا جارہا ہے۔

اخوت کی بنیاد 2003ء میں رکھی گئی اور پہلا قرضہ ایک بیوہ خاتون کو دیا گیا جو 10ہزار تھا۔یہ سلسہ بڑھتا گیا اوراب تک اخوت کی 771 برانچوں کا سفر مکمل ہو چکا ہے۔

اخوت کے پلیٹ فارم سے اسلامی فنانسنگ کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک کروڑوں، اربوں روپے تقسیم کیئے جا چکے ہیں۔ چیف منسٹر سیلف ایمپلائنمنٹ سکیم کے تحت ان قرضوں کی حد 50ہزار روپے تک ہے اور یہ قرضے صرف چھوٹے کاروبار کے لئے تربیت یافتہ اور ہنر مند مرد و خواتین کو فراہم کئے جاتے ہیں۔

اخوت کے اشتراک سے چھوٹے قرضے صوبہ بھر کے 36اضلاع میں قائم 556 دفاتر سے جاری کئے جاتے ہیں۔ ترقی و خوشحالی لانے کے لئے حکومت پنجاب 27کروڑ روپے کے فنڈز کے ذریعے معذور افراد کو برسرروزگار بنانے کے لئے بلاسود قرضے فراہم کررہی ہے،کیونکہ معذور افراد صرف حکومت نہیں، بلکہ معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہیں۔ ان کی بحالی اور ان کو معاشرے کا کارآمد فرد بنانے کے لئے ہم سب کو کچھ نہ کچھ ضرور کرنا چاہیے۔

فروری 2018ء کی جاری کردہ پراگریس رپورٹ کے مطابق اب تک 55بلین روپے کی تقسیم کی گئی ،جس میں مردوں کو 58 فیصد، جبکہ خواتین کو 42 فیصد قرضہ فراہم کیا گیا، اس سے 2,437,111 خاندان مستفید ہوئے، جبکہ قرض کی واپسی کا عمل بھی بغیر کسی رکاوٹ کے 100 فیصد کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ قرضوں کی تقسیم کا عمل مساجد، مذہبی عبادت گاہوں یا گرجا گھروں وغیرہ میں کیا جاتا ہے تاکہ لوگوں میں تقسیم کا منصفانہ عمل ممکن بنایا جا سکے، اس کے علاوہ ہر اکاؤنٹنگ سال کے اختتام پر آڈٹ شدہ رپورٹ بھی ویب سائٹ پر جاری کر دی جاتی ہے تاکہ شفافیت کے معیار پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔حکومت پنجاب آزاد جموں وکشمیر کی حکومت کو اسی طرز پر بلاسود قرضوں کی فراہمی کے لئے 75 کروڑ روپے کی خطیر رقم فراہم کر چکی ہے۔

گزشتہ دنوں بادشاہی مسجد لاہور میں ایک عظیم الشان تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں خصوصی طور پر وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے شرکت کی اور اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت پنجاب خود روزگار سکیم کے تحت 7سال قبل بلاسود چھوٹے قرضوں کی سکیم شروع کر چکی ہے، جس کے تحت بے روزگار افراد کو کاروبار شروع کرنے کے لئے سرمایہ فراہم کیا جاتا ہے۔

چیف منسٹر خودروزگار سکیم کا آغاز ایک ارب روپے سے کیا گیا تھا، الحمد للہ آج یہ فنڈ12ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ ساڑھے اٹھارہ لاکھ سے زائد افراد 40ارب روپے سے زائد کے بلا سود قرضوں کی سہولت سے مستفید ہو چکے ہیں قابل ذکر اور قابل ستائش امر یہ ہے کہ ان قرضوں کی وصولی 99فیصد سے زائد ہے۔انہوں نے بھی ڈاکٹر امجد ثاقب کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ غربت کے خاتمے کے مشن میں مجھے ڈاکٹر امجد ثاقب کا ساتھ میسر ہے۔

جو خوشیاں بانٹنے اور دوسروں کا بوجھ اٹھانے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔قابل فخر ہیں وہ لوگ جو معاشرے کے لئے بظاہر بوجھ سمجھے جانے والے لوگوں کو بوجھ اٹھاتے ہیں۔

ان کا دکھ سکھ بانٹتے ہیں،ان کی ضروریات کے لئے اپنے آرام وسکون کو قربان کرتے ہیں۔یہی لوگ معاشرے کا حسن ہیں اور انہی کی وجہ سے معاشرہ قائم ودائم ہے۔

عبدالستار ایدھی ہو ں، ڈاکٹر رتھ فاؤ یا انہی کی طرح اپنی زندگیوں کو دوسروں کے لئے وقف کرنے والے لوگوں کی وجہ سے آج ہم فخر سے سر اٹھا کر چلنے کے قابل ہیں۔ہم بہت خوش نصیب ہیں کہ ہمیں ان لوگوں کے دور میں زندگی گزارنے کا اعزاز حاصل ہے۔

قابل غور بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی غربت اور بے روزگاری عالمگیر سطح کا مسئلہ بن چکی ہے۔

مختلف ممالک کی حکومتیں ان مسائل سے نمٹنے کے لئے مختلف طریق کارپر غور کرتی ہیں۔ ان طریقہء کار میں سب سے موثر اور بہترین طریقہ مائیکروفنانسنگ یا چھوٹے قرضوں کو سمجھاجاتا ہے۔

مائیکرو فنانس کے ذریعے غربت کا خاتمہ کامیاب حکمت عملی ہے۔ معاشی اعداد و شمار یہ کہتے ہیں کہ پنجاب، بلکہ پورے پاکستان میں کئی لاکھ گھرانوں کواپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لئے چھوٹے قرضوں کی ضرورت ہے، لیکن اس ٹاسک کو نبھانے کے لئے حکومت کی کاوشوں کے ساتھ ساتھ مائیکرو فنانس بینک اور ’’نوپرافٹ نولاس‘‘ پر کام کرنے والے اداروں، یعنی این جی اوز وغیرہ کو بھی ساتھ نبھانا چاہیے۔

یہ دھرتی کا قرضٗ ہے، اس قرض کو چکانے کے لئے سبھی کو کوشش کرنا ہو گی۔حکومت پنجاب محبت اور رواداری کے جذبوں کے فروغ کے لئے دیگر صوبوں میں بھی مائیکرو فنانسنگ میں معاونت کا اراد ہ رکھتی ہے، کیونکہ سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد جموں و کشمیر سمیت پاکستان کے کونے کونے میں بسنے والے ہر فرد کی خوشحالی پاکستان کی ترقی کے لئے ناگزیر ہے۔پنجاب۔

بلکہ پورے پاکستان کے نوجوانوں کی اعلیٰ تعلیم و تربیت کا اہتمام حکومت کا فرض ہے، لیکن کیا تمام نوجوان طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے مساوی مواقع میسر ہیں؟ اختتام پر کہنا چاہوں گا کہ وزیراعلیٰ کی خود روزگار سکیم کے تحت غربت کو خوشحالی میں بدلنے کے خواب کی عملی تفسیر پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ایسی کوششیں جاری رہیں تو انصاف، مساوات، ترقی اور خوشحالی کا سورج ضرور طلوع ہو گا، غربت کی رات ضرور ڈھلے گی اورایک ایسا معاشرہ وجود میں آئے گاجو صحیح معنوں میں اسلامی فلاحی معاشرہ کہلائے گا۔

مزید : رائے /کالم