پیپلزپارٹی اپنا دور نہ بھولے

پیپلزپارٹی اپنا دور نہ بھولے
پیپلزپارٹی اپنا دور نہ بھولے

  



جیسے جیسے دن گزرتے جا رہے ہیں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی سیاست بھی دم توڑتی چلی جا رہی ہے۔ گزشتہ چند ضمنی انتخابات میں بمشکل ایک دو ہزار ووٹ کی بنا پر شاید انہیں اس قدر دھچکاپہنچا ہے جس سے ان کی سیاسی بصیرت متاثر ہوئی ہے اور اس کا اثر ان کی تقریروں اور بیانا ت میں دکھائی دیتا ہے جن میں وہ واضح طور پر غیر دانشمندانہ قسم کی باتیں کر رہے ہیں۔

انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی ذات کے لئے جو زبان استعمال کی اسے دہراتے ہوئے بھی افسوس ہوتا ہے۔ ناسور وہ ہوتا ہے جو عوام کے لئے شروع کئے جانے والے ہر منصوبے سے کمیشن وصول کرتا ہے۔ زرداری صاحب دوسروں کو نصیحت اور خود میاں فضیحت والا حساب نہ کریں۔

اگر وہ حکمران جماعت مسلم لیگ ن اور ان کے قائدین پر کیچڑ اچھالتے ہیں تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے چھینٹے خود ان پر پڑیں گے اور ان کی بچی کھچی سیاست کو بھی داغدار کر جائیں گے۔ ویسے ان کی سیاست میں بچا ہی کیا ہے جو ختم ہو جائے گا۔

بی بی شہید کے بعد ان کے وارے نیارے ہو گئے تھے اور انہیں شاید ایسے ہی دن کا انتظار تھا جب خزانوں کی کنجی ان کے ہاتھ میں آ جائے اور وہ دونوں ہاتھوں سے ملک کی دولت کو لوٹنا شروع کر دیں۔ اس میں ان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ ان کے بارے میں تو ایم بی بی ایس کا لقب بھی مشہور ہے۔

کیونکہ گیلانی صاحب کا تو غالباً پورا خاندان ہی کرپشن کی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لئے تیار بیٹھا تھا۔ انہوں نے اس ملک کے اداروں اور قومی خزانے کو لوٹ کا مال سمجھ رکھا تھا۔ ان کے دور میں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا جب عجب کرپشن کی غضب کہانیاں منظر عام پر نہ آتی ہوں۔ ہر دن ایک نیا سکینڈل لے کر طلوع ہوتا تھا۔

آج زرداری صاحب کو دوسروں کی کرپشن دکھائی دے رہی ہے لیکن انہیں وہ چھ ملین ڈالر شاید بھول گئے ہیں جو سوئس بینکوں میں پڑے ہیں اور جنہیں واپس لانے کے لئے سپریم کورٹ نے یوسف رضا گیلانی کو خط لکھنے کا حکم دیا لیکن یوسف رضا گیلانی بھی شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار نکلے اور انہوں نے عدالت کا حکم ماننے سے صاف انکار کر دیا۔

وہ اپنے دور میں منصفوں کے احکامات کو ٹالتے رہے اور آج عدلیہ کے چیمپئن بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اخبارات کے صفحات اس بات کے گواہ ہیں کہ درجنوں مرتبہ عدالت عالیہ کی جانب سے کہا گیا کہ سوئس حکومت کو خط لکھا جائے تاکہ عوام کے چھ کروڑ ڈالر وطن واپس آ سکیں لیکن مجال ہے کہ عدالت کے حکم کو ماننے کا کسی کو خیال بھی آیا ہو۔

کیا یہ عدلیہ کی توہین نہ تھی۔ آج دوسروں کو طعنے دینے والے اور دوسروں پر انگلیاں اٹھانے والے آصف علی زرداری خود عدلیہ کے احکامات کو جس طرح پس پشت ڈالتے رہے وہ تاریخ میں آج بھی موجود ہے۔

زرداری صاحب شاید خود کو عقل کل سمجھتے ہیں۔ انہیں یہ احساس نہیں کہ یہ میڈیا کا دور ہے۔ عوام کو اگر باتیں بھول بھی جائیں تومیڈیا بہت کچھ یاد کرا دیتا ہے۔ زرداری صاحب کے دور میں کراچی کا جو حال تھا کیا وہ کسی کو معلوم نہیں۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا کہ کراچی میں دس پندرہ لوگ قتل نہ ہوتے ہوں۔ کوئی شام ایسی نہ گزرتی تھی کہ جس شام کو بوری بند لاشیں نہ ملتی ہوں۔

کوئی صبح ایسی نہیں گزرتی تھی، جس صبح کراچی کے تاجروں کو بھتے کی پرچیاں نہ ملتی ہوں اور کوئی رات ایسی نہ گزرتی تھی جب کسی اہم شخص کی ٹارگٹ کلنگ نہ ہوتی ہو۔

صرف مرکز ہی نہیں بلکہ سندھ میں بھی پیپلزپارٹی کی ایک عرصہ سے حکومت چلی آ رہی ہے لیکن مجال ہے کہ کراچی میں کبھی ایک دن کے لئے بھی سکون آیا ہو۔ کراچی کے عوام کی زندگی پیپلزپارٹی اور اس کے کرتا دھرتا لیڈروں نے عذاب بنا کر رکھ دی تھی۔

یہ تو بھلا ہو موجودہ حکومت کا کہ انہوں نے ملک کے دیگر حصوں کی طرح کراچی کو بھی امن کا گہوارا بنانے کے لئے دن رات ایک کر دئیے اور سول ملٹری تعاون سے کراچی کو ایک ایسا پرامن شہر بنا دیا جو آج اپنی آب و تاب سے چمک رہا ہے۔

کراچی کی رونقیں واپس لوٹ رہی ہیں۔ کراچی کی روشنیاں پھر سے جگمگا رہی ہیں۔ کراچی کے تاجروں کے چہرے پھر سے کھل اٹھے ہیں۔ کوئی انہیں اب بھتے کی پرچیاں نہیں بھیجتا۔ کوئی انہیں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ نہیں بناتا۔

کوئی ان کے امن کو تباہ کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ آج وہ اپنا کاروبار کرنے کے لئے آزاد ہیں۔ کراچی کی شامیں پھر سے آباد ہو چکی ہیں۔ کراچی کی سڑکیں پھر سے زندہ ہو چکی ہیں۔

سرمایہ کاردوبارہ کراچی کا رخ کر رہے ہیں۔ جو کراچی ہم نے کبھی کھو دیا تھا اور جس کا ہم خواب دیکھتے تھے وہ کراچی ہمیں واپس مل چکا ہے اور اس کا کریڈٹ سابق وزیراعظم نواز شریف کو جاتا ہے اور آج بھی ان کی حکومت اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کراچی کو پرامن رکھنے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں اور اس میں وہ سو فیصد کامیاب رہے ہیں۔

اگر کراچی میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے یہ جادو کر دکھایا ہے تو زرداری صاحب کو سوچنا چاہیے کہ ان کے حصے میں آئندہ الیکشن میں کیا آئے گا۔ وہ کس منہ سے ووٹ مانگنے جائیں گے۔ انہوں نے تو اپنے حلقوں کو کھنڈر بنا کر رکھ دیا ہے۔

ترقیاتی کام تو دور کی بات ان کی پارٹی کا کوئی بندہ کبھی اپنے حلقے میں نہیں جاتا جبکہ وہ تنقید مسلم لیگ ن پر کر۱ رہے ہیں جو تیزی سے ترقیاتی منصوبے مکمل کر رہی ہے اور ملک کو ایک جدید اور ترقی یافتہ ملک بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔

زرداری صاحب کو چاہیے کہ وہ آئندہ ایسی تنقید سوچ سمجھ کر کریں اور ایسا کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک لیا کریں ۔پیپلزپارٹی کو واقعی کسی اور سے خطرہ نہیں بلکہ خود آصف علی زرداری سے ہے جنہوں نے اس کی لٹیا ڈبو کر رکھ دی ہے اور اسے ماضی کا قصہ بنا دیا ہے۔

مزید : رائے /کالم