انورکمال خان مروت : ایک عہد ساز شخصیت

انورکمال خان مروت : ایک عہد ساز شخصیت
انورکمال خان مروت : ایک عہد ساز شخصیت

  



دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔۔۔ ایک وہ جو ہر چیز کا روشن پہلو ہی دیکھتے ہیں، وہ ہر کام اس یقین کے ساتھ شروع کرتے ہیں کہ اس میں ضرور کامیاب ہوں گے۔ وہ درپیش مشکلات اور عارضی رکاوٹوں کے ساتھ بہادرانہ جنگ لڑتے ہیں اور بالآخر کامیابی ان کے قدم چومتی ہے۔

قانون قدرت ہمیشہ اس نتیجے کی تائید کرتا چلا آرہا ہے۔ اللہ تعالیٰ بھی انہی لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں، جبکہ دوسری قسم ان کمزور لوگوں پرمشتمل ہوتی ہے، جو کام شروع کرنے سے پہلے کئی بار سوچتے ہیں کہ ہم اس میں کامیاب ہو جائیں گے ؟ایک بار ناکامی کا تجربہ ان کے پیش منظر رہتا ہے اور بالآخر انہی کمزوریوں کی بدولت وہ ہمیشہ ناکام رہتے ہیں۔

اس تناظر میں انورکمال خان مروت مرحوم کی سوانح حیات پر نظر ڈالیں جنہوں نے اپنے سیاسی کیریئر میں اپنے اور اپنے بچوں کے لئے کچھ نہیں بنایا، انہوں نے اپنی سفید پوشی کا بھرم قائم رکھنے کے لئے جائیداد فروخت کر کے گزارا کیا، ان کے بچے آج بھی نوکریاں کر کے اپنے خاندان کی کفالت کر رہے ہیں۔

اصولوں کے پکے، منافقت اور جھوٹ پرلعنت بھیجتے تھے۔ ان اوصاف کی بدولت ان کے سیاسی مخالفین نے بھی کبھی ان کے کردار پر انگلی نہیں اٹھائی ۔مروت قبیلے کے سپوت انورکمال خان مروت 19نومبر1947ء کو بنوں میں حبیب اللہ خان کے گھر پیدا ہوئے۔

ان کے والد حبیب اللہ خان سینیٹ آف پاکستان کے پہلے چیئرمین اور قائم مقام صدرپاکستان رہ چکے ہیں ۔1964ء میں سینٹ میری اکیڈمی راولپنڈی سے میٹرک کرنے کے بعد انورکمال مروت نے گومل ڈگری کالج ڈی آئی خان سے گریجویشن کی اور پشاورلاء کالج سے قانون کی ڈگری ایل ایل بی حاصل کی۔

زمانہ طالب علمی کے دوران 1967ء میں گومل ڈگری کالج میں پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر بھی رہے۔ ضلع لکی مروت کے نامور سیاسی گھرانے کے چشم و چراغ کے طورپر سیاسی زندگی کے آغاز کے ساتھ ہی 1980ء میں وہ بلامقابلہ میونسل کمیٹی لکی مروت کے چیئرمین منتخب ہو گئے۔ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دور 1981ء میں مجلس شوریٰ کے صوبائی کونسل مقررکئے گئے، اس عہدے پر 1985ء تک فائز رہے۔

1988ء میں انہوں نے آئی جے آئی کے ٹکٹ پر عام انتخابات میں حصہ لیا اور ایم پی اے منتخب ہوئے۔ 1990ء کے عام انتخابات میں مشال خان نے الیکشن میں انور کمال مروت کو شکست دی، تاہم 1993ء میں وہ اپنے سیاسی حریف مشال خان سے اتحادکر کے ایک بار پھر مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے اور کچھ ماہ کے لئے وزیراعلیٰ پیر صابر شاہ کی حکومت میں وزیر منصوبہ بندی و ترقیات رہے۔

تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں پیر صابر شاہ حکومت کے خاتمے کے بعد 1994ء میں وہ سرحد اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر بنے، 1997ء میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہوئے، 2002ء کے عام انتخابات میں وہ ایک بار پھر مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر ایم پی اے منتخب ہوئے اور سرحد اسمبلی میں مسلم لیگ(ن)کے پارلیمانی لیڈر بنے۔

پرویز مشرف کی آمریت کے خلاف پانچ سال تک اسمبلی کے اندر اور باہر للکارتے رہے، اصولوں پر سودے بازی نہیں کی اور یہ وہ مشکل ترین وقت تھا جب محمد نواز شریف کے قریبی ساتھی بھی ان کا ساتھ چھوڑ کر پرویز مشرف کی گود میں بیٹھ گئے تھے، لیکن انورکمال خان مروت نے ہر قسم کے دباؤ ،لالچ و مراعات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنے قائد محمدنواز شریف کا ساتھ دیا، صوبے میں مسلم لیگ(ن)کو زندہ رکھا اور موت کی آغوش تک مسلم لیگ (ن) کے ساتھ وفاداری نبھائی۔ 2008ء کے الیکشن میں وہ اپنے دیرینہ رفیق کار سابقہ ایم این اے حاجی محمد کبیر خان کے بھائی منورخان مروت سے صرف چند سو ووٹوں سے ہار گئے۔

جب 2006ء میں بھٹنی قبائل نے مروت قبیلے کی دوخواتین کو اغوا کر کے پشتون غیرت کوللکارا تھا تو انورکمال خان مروت خود اپنے قومی لشکر کی کمانڈ کر رہے تھے۔

اس وقت کے گورنر سرحد عارف بنگش کے دباؤ اور آپریشن کرنے کے الٹی میٹم کو مسترد کر دیا اور اغوا کاروں کے خلاف قومی لشکر کشی کی۔ جب وہ مستی خیل سے آگے پہاڑوں پر مورچہ زن ہوئے تو مقامی ناظم نے انہیں کہا کہ خان آگے جاؤگے تو موت آپ کی منتظر ہو گی۔

انہوں نے بڑ ی دلیری سے جواب دیا کہ مَیں نے سات دن سے کپڑے نہیں بدلے، پیچھے ہٹ کر کس منہ سے جاؤں، زندگی تو آنی جانی شے ہے۔

وہ دو ماہ تک پہاڑی میں مورچہ زن رہے۔ فروری 2011ء میں انور کمال خان مروت کو مسلم لیگ(ن)کو قبائلی علاقوں میں فعال اور منظم جماعت بنانے کے لئے کوارڈی نیٹر مقرر کیا گیا۔

فاٹا کے فرسودہ نظام ایف سی آر کے خاتمے اور اصلاحات کے لئے بھرپور کردار ادا کیا۔ وہ فاٹا کے عوام کو بنیادی انسانی حقوق دینے کے حق میں تھے، لیکن اچانک موت نے پورے صوبے کی طرح قبائلی عوام کو بھی غمزدہ کردیا اور وہ ایک اچھے، باکردار، مخلص اور اصول پسند لیڈرسے محروم ہو گئے۔ مرحوم کا خلاء کبھی پُر نہیں ہوگا، ایسی شخصیات صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں مسلم لیگ(ن)فاٹا نے انورکمال خان مروت کی وفات پر تین روزہ سوگ منایا اور ان کی مغفرت کے لئے ہر قبائلی ایجنسی میں ختم قرآن اور اجتماعی دعا کی گئی۔ صداقت، شرافت، ملنساری، قناعت، طبیعت میں سادگی آپ کی زندگی کے قیمتی اثاثے تھے، کیونکہ مرحوم کاخاندان ضلع لکی مروت کے بڑے خوانین میں سے تھا، لیکن گھر کے دروازے ہر حاجت مند،مظلوم اور پارٹی ورکروں کے لئے کھلے تھے۔ وہ جو بات کرتے اسے پورا کرتے۔ راقم کا مرحوم کے ساتھ تعلق سولہ سال سے تھا۔

ان میں جواوصاف تھے وہ بہت کم لیڈروں میں پائے جاتے ہیں۔ وعدے کے پکے تھے، صحیح بات ہرکسی کے منہ پر کہتے تھے، اسی وجہ سے ہر آدمی ان کا گرویدہ بن گیا ۔

مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوتے اور ظالم کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جاتے۔ حال ہی میں انور کمال خان مروت کوپاکستان مسلم لیگ(ن)کا صوبائی سینئر نائب صدربنادیا گیا، اس سے پہلے مرحوم مسلم لیگ(ن)کے جنرل سیکرٹری بھی رہ چکے تھے ۔

حالیہ برسوں میں انہوں نے شدت پسندوں کی کارروائیاں روکنے کے لئے اپنی قوم کو متحد کیا، ان کی موجودگی نہ صرف مروت قوم، بلکہ ضلع لکی مروت کی سرزمین پر بسنے والے دیگر اقوام کے افراد کو تحفظ کا احساس دلاتی تھی۔

یہی وجہ ہے کہ لوگ صحیح معنوں میں انہیں قائد تسلیم کرتے تھے اور ان پر فخر کرتے تھے۔ تحریک نجات کے دوران 1994ء میں جب انورکمال خان مروت گرفتار ہوئے اور انہیں ڈی آئی خان جیل میں پابند سلاسل کیاگیا تو انہیں پہلی مرتبہ جیل میں دل کا دورہ پڑا ۔13 فروری 2012ء کو ہفتہ کے روز پی سی ہوٹل پشاورمیں ایک سیمینار میں شریک تھے کہ دل کا دورہ پڑا، انہیں قریبی ہسپتال لیڈی ریڈنگ منتقل کیا گیا ۔ وہ خالق حقیقی سے جا ملے ۔13 فروری 2018ء کومرحوم کی چھٹی برسی منائی جا رہی ہے۔

مرحوم نے پسماندگان میں تین بیٹے۔ ناصر کمال مروت ایڈووکیٹ، منصور کمال مروت اور تیمور کمال مروت چھوڑے ہیں ۔ بیٹوں نے اپنے والد مرحوم کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے عوامی خدمت کو اپنا شعار بنایا ہے ۔اللہ تعالیٰ مرحوم کواپنے جوار رحمت میں جگہ عطاء فرمائے:

مزید : رائے /کالم