اگلی پارلیمنٹ سینیٹ انتخاب کا طریقِ کار بدل دے

اگلی پارلیمنٹ سینیٹ انتخاب کا طریقِ کار بدل دے

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ضمیر خرید کر سینیٹ میں آنے والوں کو شرمندہ کریں گے جو لوگ ہارس ٹریڈنگ میں ملوث ہوں گے اور ووٹ خرید کر سینیٹ میں آئیں گے انہیں بے نقاب کریں گے، ایسی سیاست کے خلاف جہاد کریں گے، مارچ میں سینیٹ انتخابات ہونے جارہے ہیں جس جماعت کا ایک صوبے میں ایک ایم پی اے بھی نہیں وہاں اس کے امیدوار کیسے منتخب ہوسکتے ہیں اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ووٹ خریدے جائیں جو لوگ ووٹوں کی خرید و فروخت میں ملوث ہوں گے وہ سینٹ کو کچھ نہیں دے سکتے، ہم نے اس سیاست کو ختم کرنا ہے، جو لوگ ہارس ٹریڈنگ میں ملوث ہوں گے ان کا مقابلہ کرنا ہماری ذمہ داری ہے، وہ میانوالی کی تحصیل عیسیٰ خیل میں گیس فراہمی کے منصوبے کا افتتاح کرنے کے بعد عام اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔

ویسے تو سینیٹ کے انتخابات میں ووٹ کی خرید و فروخت کا سلسلہ کسی نہ کسی انداز میں اس وقت سے چل رہا ہے جب سے سینیٹ کا ادارہ وجود میں آیا ہے۔ سینیٹروں کو صوبائی اسمبلیوں کے ارکان منتخب کرتے ہیں اور جب بھی انتخاب ہوتا ہے پہلے سے ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ کس صوبے سے کون سی جماعت کتنے سینیٹر منتخب کرا سکتی ہے۔ پارٹی پوزیشن کے مطابق ارکان اگر ووٹ دیں تو نتیجہ اس کے مطابق سامنے آجاتا ہے لیکن کہیں کہیں آزاد امیدوار تھوڑا بہت اپ سیٹ بھی کردیتے ہیں اور ارکانِ اسمبلی سے اپنے تعلقات کی بنیاد پر یا پھر پیسے کے زور پر ووٹ حاصل کرلیتے ہیں، ماضی میں ایسی مثالیں دیکھی جاتی رہی ہیں اور اب بھی امکان ہے کہ امیدوار اپنی اپنی حیثیت کے مطابق جہاں بھی ضروری اور ممکن ہوا ووٹ خریدیں گے، یہ امکان بلوچستان میں اس لئے قوی تر ہے کہ وہاں حال ہی میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی عمل میں آئی ہے۔ ستمِ ظریفی یہ ہے کہ بلوچستان اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت (مسلم لیگ ن) کے وزیراعلیٰ کے خلاف اچانک عدم اعتماد کی تحریک پیش کردی گئی، انہوں نے حالات اپنے حق میں ساز گار نہ پا کر تحریک کا سامنا کرنے کی بجائے استعفا دے دیا۔ چنانچہ ان کی جگہ نیا وزیراعلیٰ منتخب کرلیا گیا۔ وزیراعلیٰ کا تعلق مسلم لیگ (ق) سے ہے جس کے ارکان کی تعداد اسمبلی میں پانچ ہے البتہ انہیں منتخب کرنے والوں میں دوسری جماعتوں کے ارکان بھی شامل ہیں کہنے کو تو یہ تبدیلی اسمبلی کے اندر سے جمہوری طریقے سے آئی ہے لیکن اس کے متعلق اگر محمود خان اچکزئی کے بیان کو سامنے رکھا جائے تو بعض سوالات بھی اٹھتے ہیں۔

ایک سوال تو یہی ہے کہ اس تبدیلی کی ضرورت آخر کیوں پیش آگئی تھی؟ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ایوان کے ذریعے تبدیلی کے بعد جلد ہی سینیٹ کے انتخاب ہورہے ہیں تو یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس صوبے میں ووٹوں کی خریداری ہوگی، بعض سیاستدانوں نے تو ووٹ کا ریٹ بھی نکال دیا ہے اب معلوم نہیں وہ اس خریداری میں بروکر کا کردار ادا کررہے ہیں یا انہیں کہیں سے اطلاعات ملی ہیں کیونکہ ریٹ یا تو خریدنے والوں کو پتہ ہوتا ہے یا بیچنے والوں کو، دونوں کے مفاد کا تقاضا بھی یہی ہوتا ہے کہ اس خرید و فروخت پر پردہ پڑا رہے، کیونکہ یہ کوئی ایسا ’’کاروبار‘‘ نہیں جس کی معلومات افشا کرکے کوئی نیک نامی کمائی جاسکے، اس لئے لگتا ہے کہ ریٹ نکالنے والے زیادہ تر اندازے سے ہی بات کررہے ہیں۔ بہرحال اتنی بات تو واضح ہے کہ بلوچستان میں منڈی لگی ہے، خریدار بھی موجود ہیں اور ووٹ بیچنے والے بھی، نتائج کے بعد اندازہ ہوجائیگا کہ کس نے کتنے ووٹ خریدے۔ اسی طرح دوسرے صوبوں میں بھی گاہک اور مال دونوں موجود ہیں، لیکن وہاں بازار کی گرم بازاری اتنی نہیں ہے، زیادہ تر ووٹ تو پارٹی وابستگی کے مطابق ہی پڑیں گے، البتہ چند دن سے سندھ میں ایم کیو ایم (پاکستان) کے اندر ڈاکٹر فاروق ستار کے خلاف جو بغاوت چل رہی تھی۔ اس کا اونٹ ڈاکٹر صاحب کی برطرفی کی کروٹ میں بیٹھ گیا ہے۔ عین ممکن ہے یہ بھی کوئی سموک سکرین ہو جس کے پردے میں ووٹوں کی خریداری کے ذریعے کسی کو فائدہ اور کسی کو نقصان پہنچا دیا جائے یہ بھی نتائج سے ہی پتہ چلے گا جس پارٹی کو اپنے ارکان سے زیادہ ووٹ ملیں سمجھ لیں کہ وہاں دولت نے کوئی نہ کوئی کرشمہ دکھایا ہے۔

سیاسی جماعتوں نے سینیٹ کے لئے اپنے جو امیدوار نامزد کئے ہیں ان پر اگر ایک سرسری سی نظر ہی ڈال لی جائے تو معلوم ہوجائیگا کہ ان میں زیادہ تر ایسے ارب پتی رئیس ہیں جنہیں اگر کامیابی کے لئے زیادہ یا تھوڑے ووٹ خریدنے کی ضرورت پڑ جائے تو وہ ایسا کرسکتے ہیں، امیدواروں کا انتخاب کرتے وقت شاید ایسا اہتمام دانستہ کیا گیا ہے تاکہ ضرورت کے وقت خزانوں کے منہ کھولے جاسکیں، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو بھی اس کا اندازہ ہے اور عین ممکن ہے ان کے پاس اداروں کی جانب سے مہیا کی گئی اطلاعات بھی ہوں اس لئے انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ووٹوں کی خرید کے ذریعے جو لوگ سینیٹر منتخب ہوکر آئیں گے وہ اس ادارے میں کوئی کردار ادا نہیں کرسکیں گے۔ انہوں نے ایسے لوگوں کو ’’شرمندہ کرنے‘‘ اور ان کا ’’مقابلہ کرنے‘‘ کا عندیہ بھی دیا ہے، ان کے ذہن میں کوئی خاکہ تو ہوگا جس سے کام لے کر وہ یہ دونوں کام کرسکیں لیکن خالی خولی شرمندہ کرنے سے کوئی مفید مطلب نتیجہ برآمد نہیں ہوسکتا، نہ ہی اربوں روپے خرچ کرنے والے اتنی آسانی سے شرمندہ ہوتے ہیں، اگر ہو بھی جائیں تو ان کا کیا بگڑ جائیگا چھ سال کے لئے وہ سینیٹر تو منتخب ہو ہی جائیں گے اور انہوں نے جو رقم خرچ کی ہوگی اسے منافع سمیت ریکور کرنے کی منصوبہ بندی بھی انہوں نے ابھی سے اچھی طرح کرلی ہوگی۔

سینیٹ کے انتخابات کے نتائج سے سب کچھ واضح ہوجائیگا اسی لئے تو وزیراعظم نے اس معاملے پر اپنی تشویش ظاہر کردی ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ مستقبل کے لئے طویل المیعاد منصوبہ بندی کی جائے جس سے ہارس ٹریڈنگ سے بچا جاسکے۔ اس وقت سینیٹ کا الیکشن بالواسطہ طور پر ہوتا ہے اور منتخب کرنے والے ایم پی اے ہوتے ہیں کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ سینیٹ کے اتنخابات بھی اسی طرح براہ راست کرائے جائیں جس طرح قومی اسمبلی کے انتخاب ہوتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے 2018ء کے عام انتخابات کے بعد نئی پارلیمنٹ وجود میں آنے کے بعد آئینی ترمیم کی جاسکتی ہے، جو بھی جماعت برسر اقتدار آئے وہ پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھنے والی دوسری جماعتوں کو اعتماد میں لے کر سینیٹ کے انتخابات کا براہ راست نیا طریقہ وضع کرلے، ہمارے خیال میں یہی ایک طریقہ ہے جسے کام میں لاکر ووٹوں کی خریداری کی بڑھتی ہوئی قبیح رسم کو روکا جاسکتا ہے۔ ویسے تو قومی اسمبلی کے انتخاب میں بھی ووٹ خریدے جاتے ہیں اور پیسے کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے لیکن براہ راست انتخاب کی وجہ سے اس الیکشن میں پیسے کا کردار محدود ہوتا ہے، بات ہزاروں یا زیادہ سے زیادہ کِسی گروپ کو موٹر سائیکلیں دینے تک محدود رہتی ہے، کروڑوں کے ریٹ تو سینیٹ میں لگتے ہیں، آئین میں ترمیم کرکے سینیٹ کے انتخابات اگر ہر تین سال بعد براہ راست کرالئے جائیں تو ووٹوں کی خریداری کی لعنت بڑی حد تک ختم ہوجائے گی اور انتخاب بھی صحیح معنوں میں نمائندہ ہوگا۔ سینیٹ کے انتخابات کا مروجہ طریقِ کار اگر ختم نہ کیا گیا تو خدشہ ہے اگلے برسوں میں یہ کاروبار وسیع تر ہوجائیگا اور جب بھی انتخابات ہونے والے ہوں گے کسی نہ کسی صوبے میں بلوچستان کی طرح سے حکومتیں بھی بدل دی جایا کریں گی اور کوئی ایسی پارٹی بھی سینیٹر منتخب کرانے کے لئے تیار ہوجائے گی جس کا اپنا ایک بھی ووٹ نہ ہوگا۔ وزیراعظم عباسی اگر ضمیر کے کاروبار کرنے والوں کو محض شرمندہ کرنے تک محدود رہ گئے تو اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، سیاست میں شرمندگیوں کا چلن عرصہ ہوا غفرلہ، ہوچکا ہے۔

مزید : رائے /اداریہ