جمہوریت اور انسانی حقوق کیلئے آواز بلند کرنے والی خاتون کا انتقال

جمہوریت اور انسانی حقوق کیلئے آواز بلند کرنے والی خاتون کا انتقال

  



انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے بلند ہونے والی آواز اتوار 11 فروری کو ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئی۔ سینئر ایڈووکیٹ اور معروف سماجی رہنما عاصمہ جہانگیر 66 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ وہ اپنے گھر میں اہل خانہ سے گفتگو کر رہی تھیں کہ اُن کی طبیعت ایک دم خراب ہو گئی۔ اُنہیں فوری طور پر نیم بے ہوشی کی حالت میں ایک نجی ہسپتال پہنچایا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق عاصمہ جہانگیر کو برین ہیمرج ہُوا۔ اُن کا بلڈ پریشر کم کرنے کی تمام کوششیں ناکام رہیں۔ دورانِ علاج اُنہیں دل کا دورہ پڑا اور وہ اِس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ عاصمہ جہانگیر نے اپنے شاندار کیریئر میں کئی اعزازات حاصل کئے۔ ایک کامیاب وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ انہوں نے سماجی بہبود کے شعبے میں بھی بہت کام کیا۔ انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے انہوں نے ہمیشہ بڑھ چڑھ کر آواز بلند کی۔ وکالت کے ساتھ ساتھ آمرانہ قوتوں کے خلاف بڑی جرأت اور بھرپور دلائل کے ساتھ جدوجہد کی۔ خصوصاً جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا میں وہ بنیادی حقوق کی جدوجہد میں پیش پیش رہیں۔ ایک سے زیادہ مرتبہ وہ جیل گئیں۔ اُن کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ وہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی پہلی خاتون صدر منتخب ہوئیں۔ وکلاء برادری نے اپنی لیڈر کے طور پر ہمیشہ اُن کی حمایت کی۔ لاہور بار، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ بار کے الیکشنوں میں عموماً ان کے حمایت یافتہ پینلز کو کامیابی حاصل ہُوا کرتی تھی۔ عاصمہ جہانگیر نے ایم آر ڈی کے پلیٹ فارم پر بھی فعال کردار ادا کیا۔ انہوں نے جنرل پرویز مشرف کے مارشل لا دور میں بھی بحالی جمہوریت اور انسانی حقوق کے تحفظ کی تحریک میں بھرپور طریقے سے حصہ لیا۔ وہ انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے بانیوں میں شامل تھیں۔ عدلیہ تحریک کی کامیابی کے لئے بھی انہوں نے خدمات انجام دیں۔ 2010ء میں انہیں حکومت پاکستان کی طرف سے ہلالِ امتیاز کے اعزاز سے نوازا گیا۔ عاصمہ جہانگیر نے ہمیشہ اصولوں کی بنیاد پر اپنی حمایت اور مخالفت کا فیصلہ کیا۔ وہ بڑے دھڑلے اور بہادری سے اپنا موقف پیش کرتی تھیں۔ انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے دَور میں بعض سیاسی معاملات پر اُن کی کھُل کر مخالفت کی حالانکہ بے نظیر بھٹو اور عاصمہ جہانگیر بچپن کی سہیلیاں تھیں۔ اُن کی پیشہ ورانہ خدمات کو اندرونِ ملک ہی نہیں، عالمی سطح پر بھی خراجِ تحسین پیش کیا جاتا رہا۔ بعض معروف پاکستانی تنظیموں کی جانب سے انہیں کئی ایوارڈ دیئے گئے جبکہ بیرونِ ملک معروف عالمی تنظیموں نے بھی اُن کی خدمات کو سراہتے ہوئے ایوارڈز دے کر اُن کی عزت افزائی کی۔ ان میں مارٹن انل ایوارڈ (1995ء)، ریمن میک سیبے ایوارڈ اور لیو ہیٹنگز ایوارڈ (2002ء) اور فریڈم ایوارڈ (2010ء) نمایاں اور قابل ذکر ہیں۔ عاصمہ جہانگیر اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی میں کبھی پیچھے نہیں رہی تھیں۔ انہوں نے وفات سے دو روز قبل سپریم کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 62 ون، ایف کی تشریح کے کیس میں اپنے دلائل پیش کئے تھے۔ ایسی باصلاحیت، نڈر، اصول پسند، بے دھڑک اور قانون کی بالادستی کے لئے زندگی بھر جدوجہد کرنے والی خاتون کا انتقال معاشرے کے لئے عظیم نقصان ہے۔ اُن کے اس دنیا سے رخصت ہونے سے جو خلاء پیدا ہُوا ہے، وہ تادیر پُر نہیں ہو سکے گا۔ جمہوریت اور قانون کی بالادستی کے لئے اُن کی خدمات کو ہمیشہ شاندار الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔ اُن کے لواحقین اور پرستاروں کے لئے صبرِ جمیل کی دعا، اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔

مزید : رائے /اداریہ