سابقہ حکومت نے 10 دن کے اندر 25 ہزار ملازمتیں تقسیم کیں

سابقہ حکومت نے 10 دن کے اندر 25 ہزار ملازمتیں تقسیم کیں
 سابقہ حکومت نے 10 دن کے اندر 25 ہزار ملازمتیں تقسیم کیں

  



جب عبدالمالک بلوچ کی حکومت آخری مرحلے سے گزر رہی تھی تو چیف سیکرٹری چٹھہ صاحب نے جاتے جاتے اعلان کیا کہ بلوچستان میں 30 ہزار ملازمتیں خالی پڑی ہوئی ہیں ، عبدالمالک اور ان کے وزراء نے با جماعت کورس گانا شروع کر دیا کہ پہلے کیوں نہیں بتایا اس با جماعت ترانے کے بعد مکمل خاموشی اختیار کر لی۔

یوں عبدالمالک نے اپنے ڈھائی سال پورے کر لئے اور مسلم لیگ (ن) کے وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری نے وزیر اعلیٰ کا تاج اپنے سر پر سجا لیا اور سفر شروع کر دیا۔

نئے وزیر اعلیٰ نے خضدار میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ہماری حکومت بلوچستان کے بے روز گاروں کو بہت جلد 30 ہزار ملازمتیں فراہم کرے گی۔

یہ اعلان بھی کیا کہ 10 جنوری کو صوبائی کابینہ میں اس کی حتمی منظوری دے دی جائے گی، اس کے ساتھ ہی ایک اعلان اور بھی کر دیا کہ گوادر میں 10 ہزار سے زیادہ نوجوان روز گار حاصل کر سکیں گے، جبکہ پہاڑ پر جانے والوں سے کہا کہ وہ واپس آ جائیں۔

11 جنوری کو بلوچستان کی صوبائی کابینہ کا اجلاس نواب ثنا اللہ کی صدارت میں ہوا اور بھرتیوں کی پالیسی کی منظوری دی گئی اور طے کیا گیا کہ محکمہ تعلیم اور صحت میں ٹیسٹنگ سروس کے ذریعے گریڈ 1 سے 13 تک کی آسامیوں پر سلیکشن کمیٹی کے ذریعے بھرتیاں کی جائیں گی۔

اس فیصلے پر عمل درآمد نہ ہوا تو متعلقہ سیکریٹری کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور یہ بھی اعلان کیا گیا کہ 3 ماہ کے اندر اندر ان تمام آسامیوں کو پر کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد 13 جون 2017ء کو حکومت بلوچستان نے بجٹ پیش کر دیا۔

یہ بجٹ 328 ارب روپیہ کا تھا۔ اعلان ہوا کہ 14 ہزار طالب علموں کو وظائف دیئے جائیں گے۔ سوئی کے علاقے میں 57 ہزار ایکڑ زمین زیر کاشت لائی جائے گی اور 50 ہزار بلڈوزر تقسیم کئے جائیں گے یہ بجٹ سردار اسلم خان بزنجو نے پیش کیا۔

امن و امان کے لئے بجٹ میں 14 فیصد اضافہ کیا گیا اور 30 ارب مختص کئے گئے۔ دسمبر 2017ء تک حالات کا رخ بدلنا شروع ہو گیا، مسلم لیگ (ن)، نیشنل پارٹی ا ور پختونخوا کی حکومت میں ارتعاش کی کیفیت نے جنم لینا شروع کر دیا۔ دسمبر کے آخر تک نواب ثنا اللہ کی حکومت کے دھڑن تختے کا فیصلہ ہو گیا اور 2018ء کا سورج طلوع ہوا تو مسلم لیگ(ن) کے نواب ثناء اللہ کی حکومت کا سورج غروب ہو گیا۔ وزیراعلیٰ کے ساتھ شامل پارٹیوں کو اندازہ ہو گیا کہ اب حکومت چند دن کی مہمان ہے تو ان تینوں پارٹیوں کے سربراہوں نے فیصلہ کیا کہ اب جاتے جاتے ان پوشیدہ ملازمتوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ،اس پر اتفاق ہو گیا کہ ان کو جلد از جلد پر کر لیا جائے اور ان تینوں پارٹیوں نے 10 دن کے اندر اندر 25 ہزار ملازمتوں کو آپس میں خاموشی سے تقسیم کر دیا۔

اس راز کا نئے وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے ایک بیان میں انکشاف کیا اور کہا پچھلی حکومت نے 10 دن میں 25 ہزار ملازمتوں پر تعیناتی کی اور میرٹ کو مد نظر نہیں رکھا گیا۔

بلوچستان کے ہزاروں نوجوان اس امید پر تھے کہ حکومت ان ملازمتوں کی بھرتی کا اعلان کرے گی تو وہ اس کے لئے درخواستیں دیں گے، لیکن ہزاروں نوجوان کف افسوس ملتے رہ گئے، بلوچستان بلکہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا ہوگا کہ 25 ہزار ملازمتوں کو چند دن کے اندر اندر بانٹ دیا گیا ہو۔

نیشنل پارٹی پختونخوا اور مسلم لیگ (ن) نے جو کچھ کیا وہ تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے، اس کے خلاف وفاق کو ایکشن لینا چاہئے ۔ سب سے بہتر یہ ہوگا کہ سپریم کورٹ اس انتہائی غلط فیصلے کے خلاف سو موٹو نوٹس لے۔

ہزاروں نوجوانوں کو اس غلط انداز سے نظر انداز کرنا کسی طرح بھی درست نہیں ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتیں خاموش کیوں ہیں، کیا وہ ان بچی ہوئی 10 ہزار ملازمتوں پر نظر لگائے ہوئے ہیں۔

بجٹ رفتہ میں نواب ثنا اللہ زہری نے کہا کہ کرسی مستقل نہیں ہوتی، ترقی کے سفر میں سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتا ہوں۔ حکومت اور حزب اختلاف دونوں قابل احترام ہیں۔

یہ بات انہوں نے حزب اختلاف کے قائد سے گفتگو کے دوران کہی، مولانا واسع اور اے این پی کے اچکزئی نے کامیاب بجٹ پر مبارک باد دی اور جنوری 2018ء میں وزیر اعلیٰ کو چلتا کیا۔اب حزب اختلاف اس اہم مسئلے پر مسلسل خاموش ہے، اس لئے کہ جمعیت علما اسلام کو ایڈووکیٹ جنرل کی پوسٹ دے دی گئی۔ جمعیت علما اسلام نے ووٹ کا نعم البدل حاصل کر لیا ہے، اس لئے اب حزب اختلاف بھی وہ ہے جو نئے وزیر اعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ دے چکی ہے۔

مزید : رائے /کالم