از خود نوٹسوں کی بہار!

از خود نوٹسوں کی بہار!
از خود نوٹسوں کی بہار!

  


آج کل از خود نوٹسوں کی بہار آئی ہوئی ہے، جب بھی کوئی ٹی وی چینل کھولو، چیف جسٹس ثاقب نثار کے کسی از خود نوٹس کا ذکر ہو رہا ہوتا ہے۔

جب کراچی رجسٹری میں از خود نوٹس پر چیف جسٹس نے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو طلب کیا تھا تو یہ چہ میگوئیاں ہونے لگی تھیں کہ کیا وزیراعلیٰ شہبازشریف کو بھی ایسے ہی طلب کیا جا سکے گا؟ بلاول بھٹو زرداری نے تو ایسے ٹویٹ بھی کئے تھے کہ پنجاب میں بھی صحت اور پانی کی صورتِ حال کچھ زیادہ بہتر نہیں، کیا چیف جسٹس اُدھر بھی توجہ دیں گے؟ چیف جسٹس نے بالآخر شہباز شریف کو بھی طلب کر لیا اور وہ پیش بھی ہو گئے۔

چیف جسٹس نے دوران سماعت انہیں یہ بھی کہہ دیا کہ اگلے وزیر اعظم بھی آپ ہوں گے، جس پر وزیراعلیٰ نے دلچسپ جواب دیا کہ آپ کیوں مجھے نوکری سے نکلوانا چاہتے ہیں؟ اگر دونوں طرف بہتری کی نیت ہو تو معاملات خراب نہیں ہوتے، بلکہ بہتر ہو جاتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ دس برس سے پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہیں، مسائل حل کئے ہوتے تو آج یہاں نہ کھڑے ہوتے۔

شہباز شریف نے کہا کہ اربوں روپے کے عوامی منصوبے جاری ہیں، پانی کا مسئلہ بھی حل کر لیں گے۔ سیکیورٹی کے نام پر سڑکیں بند کرنے کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ عدلیہ کا دل سے احترام کرتے ہیں، رکاوٹیں ہٹانے کے حکم پر مکمل عملدرآمد کیا جائے گا۔ چیف جسٹس نے کہا بہتر ہوتا آپ کل ہی یہ رکاوٹیں ہٹوا دیتے، کیونکہ عدالت کے حکم کا تو آپ کو علم ہو ہی گیا ہوگا۔

ہر بات کو سیاست کی طرف گھسیٹنے کی بجائے اس میں سے خیر کا پہلو نکالنا چاہئے، حکومت کے وزیر اور مشیر جو آئے دن یہ واویلا کرتے رہتے ہیں کہ عدلیہ انتظامیہ کے معاملات میں مداخلت کر رہی ہے، انہیں شہباز شریف کے طرز عمل سے سبق سیکھنا چاہئے۔ شاید شہباز شریف کے اسی رویئے کو دیکھتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اپنے ساتھیوں کو بھی یہ بات سمجھائیں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار اگرچہ از خود نوٹس بہت لے رہے ہیں، مگر ان کا انداز افتخار محمد چودھری والا نہیں، وہ نہ تو کسی کی تضحیک کرتے ہیں اور نہ ہی ڈراتے ہیں، وہ بہت پیار سے سمجھاتے ہیں کہ اداروں کو کام کرنا چاہئے کیونکہ یہ ملک ان سے تقاضا کرتا ہے۔

پچھلے دنوں افتخار محمد چودھری نے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار ان کے جوڈیشل ایکٹو ازم کے نظریئے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

یہ ان کی خوش فہمی، بلکہ غلط بیانی ہے۔ ان کے از خود نوٹس شخصی ہوتے تھے۔ پھر وہ اپنے بیٹے ارسلان افتخار کی وجہ سے متنازعہ بھی ہوگئے تھے۔ ان کا انداز تضحیک کرنے والا تھا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے سپریم کورٹ کو بابا رحمتا کہہ کر یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ اس منصب پر بیٹھ کر جو کچھ بھی کہیں گے، وہ ایک بابا جی کی رائے ہو گی، اُسے سننا بھی پڑے گا اور تسلیم بھی کرنا پڑے گا۔ اب یہ پانی کا مسئلہ ہی لے لیں، اسے کبھی پہلے اس طرح نہیں دیکھا گیا جیسے سپریم کورٹ اب دیکھ رہی ہے۔

سندھ میں جسٹس ریٹائرڈ امیر ہانی مسلم یہ معاملہ دیکھ رہے ہیں۔ اب پنجاب سے رپورٹ طلب کی ہے اور وزیر اعلیٰ نے اس حوالے سے ایک جامع منصوبہ بنانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ آلودہ پانی کے استعمال سے بیماریاں پھیل رہی ہیں اور ہسپتال مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں۔

سرکاری سطح پر صاف پانی کی فراہمی عنقا ہونے سے منرل واٹر کی ایک صنعت وجود میں آچکی ہے، کروڑوں روپے کا پانی روزانہ بیچا جارہا ہے، یہ مافیا کیوں چاہے گا کہ لوگوں کو شفاف پانی ملے؟ سو ملی بھگت سے سب کچھ ہورہا ہے۔ اب سپریم کورٹ نے نوٹس لیا ہے تو بہتری کی کچھ امید پیدا ہوئی ہے، وگرنہ تو یہ مسئلہ کسی حکومتی سطح پر قابل توجہ تھا ہی نہیں۔

حکومت کے بیسیوں ادارے کام کررہے ہیں، مگر جب بھی چیف جسٹس کے کسی از خود نوٹس کی غرض و غائیت پر غور کرتا ہوں تو یہ کہنے پر مجبور ہوجاتا ہوں کہ اس کی اشد ضرورت تھی۔

ابھی کل ہی چیف جسٹس نے مرغیوں کی خوراک بارے از خود نوٹس لیا ہے۔ پورا شعبہ طب پریشان ہے کہ شرح اموات اتنی کیوں بڑھ گئی ہے؟ دل، جگر، گردے اور کینسر کے امراض میں اس قدر اضافہ کیوں ہوگیا ہے؟

ہمارے ہاں محکمے تو موجود ہیں، مگر انہیں کرپشن نے بے بس کردیا ہے۔ کسی نے یہ نوٹس نہیں لیا کہ مرغیوں کو کم سے کم وقت میں تیار کرنے کے لئے جو کیمیکلز ملی خوراک فراہم کی جارہی ہے، اس کے عام آدمی پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟ کیا مرغیوں کے نام پر لوگوں کو زہر کھلایا جارہا ہے؟ دنیا میں کہیں مرغیوں کی گروتھ اتنی تیز نہیں جتنی پاکستان میں ہے۔

اب پاکستان میں مرغیوں کے کنٹرولڈ شیڈ آگئے ہیں جو مصنوعی ماحول میں اور ہارمونز بڑھانے والی ادویات سے تیار کئے جانے والی فیڈ کے ذریعے چھ ہفتوں میں تیار ہونے والے چوزے کو صرف تین سے چار ہفتے میں موٹی تازی مرغی بنا دیتے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ جن اجزاء سے وہ برق رفتاری کے ساتھ بڑے ہوتے ہیں وہ ان کے گوشت میں موجود ہیں۔

برائلر مرغی کا گوشت تو ویسے ہی مصنوعی ہوتا ہے، اوپر سے جب اس میں کیمیکلز شامل ہوجاتے ہیں تو وہ خطرناک ایٹم بم بن جاتا ہے، جو انسانی جسم کے اندر جا کر شدید نقصان کا باعث بنتا ہے۔

مضحکہ خیز صورت حال یہ ہے کہ محکمہ فوڈ ریستورانوں، ہوٹلوں، بیکریوں اور تکہ شاپوں پر جاکر صحت و صفائی کا معیار تو چیک کرتا ہے، مگر جو مرغی تمام ڈشوں میں ڈالی جارہی ہے، اس میں سٹیرائیڈ اور کیمیکلز کی تعداد کتنی ہے؟ وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ کہیں مری ہوئی مرغیوں کا گوشت تو استعمال نہیں کیا جارہا، یہ نہیں دیکھتا کہ جو مرغیاں زندہ کھڑی ہیں، وہ کس خوراک سے بنی ہیں؟

اب اگر کوئی چیف جسٹس کے ایسے نوٹسوں کو یہ کہہ کر تنقید کا نشانہ بناتا ہے کہ اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں کا نوٹس لینا سپریم کورٹ کا کام نہیں، تو وہ پرلے درجے کا احمق اور لا علم ہے۔

یہ چھوٹا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، جس نے ہماری زندگیاں خطرے میں ڈال رکھی ہیں، دل کے دوروں کی شرح بڑھ گئی ہے، حتیٰ کہ نوجوان بھی اس کی زد میں آگئے ہیں۔ ملتان کے کارڈیالوجی ہسپتال میں جب بھی جانا ہوتا ہے یوں لگتا ہے جیسے پورا شہر دل کے مرض میں مبتلا ہوچکا ہے۔

اس قدر رش کہ دیکھ کر وحشت ہوتی ہے۔ پہلے زیادہ تر مریض نزلے، زکام اور بخار کے ہوتے تھے، اب دل اور کینسر کے ہوتے ہیں، آخر کچھ تو ہے جس نے یہ قیامت ڈھائی ہے۔ مرغی ہماری خوراک کا جزو لازم ہے، اب اگر اس میں بیماریوں کے اجزاء شامل کردیئے گئے ہیں تو کیسے بچا جاسکتا ہے؟ بہت عرصے سے یہی مطالبہ کیا جارہا تھا کہ پولٹری کی صنعت میں پیسہ کمانے کی اندھی دوڑ کے باعث پیدا ہونے والی سنگین صورت حال کا نوٹس لیا جائے، لیکن حکومتیں یہ کام کیسے کرسکتی ہیں؟ ان کی صفوں میں تو خود ایسے لوگ شامل ہیں جو اس کے ذریعے اپنی تجوریاں بھررہے ہیں، سو یہ کام بھی چیف جسٹس کو کرنا پڑا ہے اور انہوں نے پولٹری فیڈ کے بارے میں جامع رپورٹ طلب کی ہے۔

امید ہے کہ سپریم کورٹ ماہرین کی نگرانی میں پولٹری فیڈ کا ایک معیار متعین کردے گی اور اس سے ہٹ کر پولٹری فیڈ تیار کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم بھی جاری کرے گی۔

یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ چیف جسٹس شخصیات کے خلاف نہیں، بلکہ مختلف ایشوز پر نوٹس لے رہے ہیں۔ اچھی بات یہ بھی ہے کہ وہ صرف حکم جاری نہیں کرتے، بلکہ باور بھی کراتے ہیں کہ حکومت کو اس سلسلے میں عدلیہ کی جو سپورٹ چاہئے ہوگی، مہیا کی جائے گی۔

یہ بات انہوں نے میرج کلبوں کے خلاف کراچی میں کارروائی کا حکم دیتے ہوئے بھی کہی تھی اور ماتحت عدلیہ کے ججوں کو یہ بھی حکم دیا تھا کہ وہ ناجائز تجاوزات کے خلاف کارروائی رکوانے کی کسی درخواست پر حکم امتناعی جاری نہ کریں، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دنوں میں بیسیوں غیر قانونی میرج کلب مسمار کرکے ان کی سرکاری زمین واگزار کرا لی گئی۔

اصولاً تو شہری سہولتوں سے متعلق ہر کام وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو کرنا چاہئے، لیکن کتنے ہی ایسے کام ہیں جو بالکل سامنے نظر آتے ہیں، مگر حکومتوں کی ان پر نظر نہیں پڑتی، مثلاً یہی دیکھئے کہ ینگ ڈاکٹروں اور صوبائی حکومتوں کے درمیان گزشتہ کئی برسوں سے کھینچا تانی موجود ہے، کئی کئی دن تک یہ ڈاکٹر ہسپتالوں کو احتجاج کی خاطر عملاً بند کردیتے ہیں، اور غریب مریض ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتے ہیں۔

اب چیف جسٹس نے اس ساری صورت حال کا از خود نوٹس لیا ہے۔ ایک طرف ینک ڈاکٹرز کی تمام تنظیموں کو ہڑتال سے روک دیا ہے اور دوسری طرف چاروں صوبائی حکومتوں سے ینگ ڈاکٹروں کا سروس سٹرکچر طلب کرلیا ہے۔

پنجاب کے چیف سیکرٹری سے جب انہوں نے اس حوالے سے استفسار کیا تو انہوں نے بتایا کہ سروس سٹرکچر نہیں بنایا گیا۔ چیف جسٹس نے جب ان کی تنخواہوں کا پوچھا تو جو تنخواہ بتائی گئی، اسے سن کر چیف جسٹس نے کہا کہ اس سے زیادہ تنخواہ تو سپریم کورٹ کا ڈرائیور لیتا ہے۔

ملک کے سب سے ذہین طالب علم بڑی مشکل سے میڈیکل کالجوں میں داخلہ لے کر ڈاکٹر بنتے ہیں، مگر انہیں اتنی کم تنخواہیں دی جارہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اب اس حوالے سے مزید زیادتی نہیں ہونے دے گی، ساتھ ہی انہوں نے ینگ ڈاکٹروں کو بھی خبردار کیا کہ وہ احتجاج اور ہڑتال کرنا چھوڑ دیں، کیونکہ ان کی ہڑتال سے بہت سی جانیں چلی جاتی ہیں۔

میرے نزدیک تو چیف جسٹس کے از خود نوٹس عوام اور خود حکومت کے لئے بھی ایک نعمت ہیں، کیونکہ جو کام وہ سیاسی مجبوریوں یا مصلحتوں کے تحت نہیں کرپاتی تھی، سپریم کورٹ کی سپورٹ سے وہ آسانی کے ساتھ کرسکتی ہیں، بشرطیکہ کام کرنے کی نیت بھی ہو۔

مزید : رائے /کالم