پاکستان میں مہنگائی کا طوفان!

پاکستان میں مہنگائی کا طوفان!

مہنگائی سے مراد ہے اشیاء کی قیمتوں کا آمدن کے مقابلے میں بڑھ جانایعنی آمدن اتنی ہی ہے یا اس نسبت سے نہ بڑھے جس نسبت سے اشیاء کی قیمتیں بڑھ جائیں۔ معاشیات کی زبان میں اس کی تعریف یوں کی جاتی ہے کہ زر کی بہت زیادہ مقدار کے مقابلے میں اشیاء کی بہت تھوڑی مقدار کا حاصل ہونا۔ وطن عزیز پاکستان میں اس وقت مہنگائی عروج کو چھو رہی ہے اور اشیاء خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی نظر آرہی ہیں اور عوام الناس اس میں اپنے ا پنے زاویہ فکر وسوچ کے لحاظ سے تبصرے کرتے نظر آرہے ہیں۔ ایک عام خیال یہ ہے کہ پاکستان میں اس وقت افراط زر (مہنگائی) اپنی بلند ترین سطح کو چھو رہا ہے یعنیHyper Inflation اس وقت پاکستان میں دیکھنے میں آرہی ہے۔ ہمارے ہاں اس وقت بد دیانتی عروج پر ہے اور ہر محکمہ و ادارہ خطرناک حد تک کر پٹ میں ہو چکا ہے۔ جس میں مالی وقانونی واخلاقی کرپشن شامل ہے۔ یہاں پر جائزکام کے لئے جان بوجھ کر تاخیرحربے ہے اپنائے جاتے ہیں‘ جن سے عاجز ہوگی سائل عملہ کو فرمائشیں پوری کرنے اور رشوت دینے میں مجبور ہو جاتا ہے۔ جہاں لوگوں سے نوکریوں کے عوض رشوتیں لی جاتیں نمود نمائش کی خاطر فضول اخراجات پورا کر نا بھی تنخواہ و آمدن میں ممکن نہیں رہتا تو پھر اس کے لئے بھی کرپشن کرنا مجبوری بن جاتی ہے۔ جب چادر دیکھ کر پاؤں نہ پھیلائے جائیں تو پھر نتیجہ بالاخر یہی نکلتا ہے کہ اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے بددیانتی کی جاتی ہے۔ جب ملکی روپیہ کی قدر کو غیر شرعی معیار کے لحاظ سے مقرر کیا جائے اور اس کو غیر ملکی کرنسی کی باندی بنا دیا جائے تو اس سے بھی ملک میں معاشی افراتفری پھیلتی ہے اور اشیاء کی قیمتوں کو مناسب سطح میں بر قرار رکھنا ممکن نہیں رہتا۔ اگر یہ کہا جائے کہ ملک عزیز میں معاشی بگاڑ (افراط زر) کی اصل اور سب سے بڑی وجہ سودی نظام کا اپنانا ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ محصولات بھی قیمتوں کے بڑھاؤمیں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کیونکہ محصولات بلالواسطہ ہوں یا بلاواسطہ‘ صارفین میں لے کر ہی ادا کئے جاتے ہیں اور ادا کرنے والے محصولات کا بوجھ ہمیشہ اپنی جیب کی بجائے دوسروں کی جیب پر ڈال دیتا ہے۔علاوہ ازیں ذخیراہ اندوزی کے تحت اشیاء کو کم قیمت اور بعض اوقات کوڑیوں کے مول خرید کر ذخیرہ کرلیا جاتا ہے اور پھر قیمتیں بڑھا کر ان کو فروخت کرنے کے لئے منڈیوں و بازار میں لایا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ بلیک مارکیٹنگ کا عنصر بھی اشیاء کی قیمتوں کو بڑ ھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور بین الاقوامی دبا ؤبھی افراط زر کا باعث بنتا ہے۔ کیونکہ طاقتور بین الاقوامی اثرات کی وجہ سے کمزور معیشتوں میں اشیاء کی قیمتیں متوازن نہیں رہ پاتیں جس سے معاشرتی طور پر بے چینی پھیلتی ہے اور مہنگائی بڑھتی چلی جاتی ہے ملکی غیر ملکی قرضہ جات وامداد پر دیئے جانے والے سود ودیگر شرائط کے باعث زیادہ حکومتی آمدن کے حصول کے باعث بھی قیمتوں کی سطح غیر مستحکم ہوجاتی ہے۔ غیر اسلامی کاروباری‘ تجارتی و صنعتی طریقے اقتصادی سر گرمیوں کو غیر مستحکم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں غیر مفید صرف دولت مثلاًنام نہاد رسموں وتہواروں پرکئے جانے والے اخراجات‘ نام نہاد نمو دو نمائش پر کیاجانے والا اصراف ‘ پیسے کے لالچ میں کی جانے والی غیر ضروری برآمدات‘ کم غذائی اثرات کی حاصل خوراک کی پیداوار جس کے باعث یا تو خوراک میں زیادہ اخراجات کرنے پڑتے ہیں یا پھر دوائیوں کے ذریعے اس غذائی قلت کو دور کرنے کے لئے اخراجات کرنے پڑتے ہیں۔ زر کی رسد میں زیادتی جیسے کہ حکومتی اخراجات ومعاشی خسارہ پورا کرنے کے لئے نوٹ چھاپنا‘ معاشرے میں افراط زر کا سیلاب آجاتا ہے جو کہ اشیاء کی قیمتوں کوبہت زیادہ یعنی متوازن کردیتا ہے۔ اگر اسلامی تعلیمات کے مطابق بیت المال کا نظام قائم دیا جائے کئی سماجی بہبودکے فرائض انجام دیئے جاسکتے ہیں مثلاً اس کے سبب معیشت پر بوجھ بننے والے پنشن کے نظام سے بھی چھٹکارا پایا جاسکتا ہے پنشن کے نظام کے روا رکھے جانے کے باعث بھی حکومت کوزائد آمدن کی ضرورت پڑتی ہے جو کہ وہ محصولات میں اضافہ کر کے پورا کرتے ہیں جو قیمتوں میں اضافہ کا باعث بنتے ہیں۔ تعلیم وصحت وہ غیرہ جیسے شعبوں کو نجی ہاتھوں میں دینے سے ایک طرف تو حکومت کا رعایا کی بہبود سے پہلو تہی نظر آتی ہے جبکہ دوسری طرف نجی شعبہ ظالمانہ ہتھکنڈوں کے ذریعے عوام کو لوٹنے کا ذریعہ تلاش لیتے ہیں کے مہنگائی بذات خود ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور اپنی جگہ مسلم ہے غیر مساوی تقسیم دولت بھی مہنگائی کا ایک اہم سبب ہے۔ کیونکہ اس کے تحت کمزور و کم وسائل کے حامل طبقہ کو لوٹنے کا سلسلہ جاری رکھا جاتا ہے۔ تاکہ طاقتور وسائل کے حامل طبقات کو مزید تقویت پہنچائی جاسکے۔ دوسری طرف حقیقی طور پر کاروبار لین دین نہ ہونے کی باعث ایک کافائدہ حتمی طور پر دوسرے کے نقصان پر منتج ہوتا ہے مختصراً اگر ہم ساری بحث کا جائزہ لیں نتیجہ یہ اخذ ہوتا ہے کہ یہ سب دین اسلام سے دوری اور اسلامی پرعمل نہ کرنے کے سبب ہے۔ ہماری حکومتوں کا مطمع نظر کبھی بھی اقتصادی استحکام نہیں رہا اور بلکہ ذاتی مفادات کا حصول بنیادی ضروریات اور معاشی مسائل کو نظر انداز کرتے چلے آنے کے باعث آج نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ معاشرتی و معاشی بے چینی عروج کو پہنچ چکا ہے۔

مہنگائی آج کے عوام کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔موجودہ دور حکومت میں مہنگائی جس تیزی سے بڑھی ہے ، پاکستان کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ چند ماہ کے دوران مہنگائی بڑھنے سے غریب عوام کے ساتھ ساتھ متوسط اور سفید پوش گھرانے بھی براہ راست متاثر ہوئے ہیں خصوصاً خواتین جو گھر کو سنبھالنے کی ذمے دار ہیں ، آج کل مہنگائی کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔جہاں یہ مشکلات ان کی زندگیوں سے سکون دور کر رہی ہیں ، وہیں ان کی صحت اور ذہنی نشو و نما پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔عمومی طور پر یہ سمجھا جا تا ہے کہ ہمارے ملک کی خواتین کا معیشت کی ترقی و تنزلی میں کوئی حصہ نہیں، تاہم یہ سوچ درست نہیں۔ اگر آدمی باہر کی دنیا میں نکل کر کام کرتے ہیں تو گھریلو خواتین اس گھر کی ذمے داری سنبھالتی ہیں جہاں پر پیسہ خرچ ہوناہوتا ہے۔ ایسے میں گھریلو خواتین کا کردار بہت اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ کیا آج کی پاکستانی گھریلو خواتین مہنگائی سے نمٹنے کی تدابیر جانتی ہیں ؟ ۔گھر کی ذمے داری عورتوں پر ہی ہوا کرتی ہے۔اگر وہ چاہیں تو اپنی سمجھ داری سے بوجھ بھی کم کر سکتی ہیں تاہم آج کل کی خواتین عموماً یہ فریضہ انجام نہیں دے پاتیں۔ ماضی میں خواتین بچت کی عادی تھیں اور کم خرچ میں نت نئے طریقے نکال لیا کرتی تھیں۔ ان کے پاس چھوٹی موٹی بیماریوں سے بچاؤ کے گھریلو ٹوٹکے بھی ہوا کرتے تھے تاہم آج کی خواتین کی اکثریت اس رجحان سے دور ہیں۔ اگر خواتین چاہیں تو مہنگائی کے طوفان کا مقابلہ اپنی سمجھ کے ذریعے کر سکتی ہیں۔مہنگائی کے خلاف محاذ بنانے کی ضرورت ہے۔ آج مہنگائی صرف پاکستان ہی کا نہیں بلکہ عالمی مسئلہ ہے اس سلسلے میں گھریلو خواتین اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ہمیں مہنگائی کے سیلاب میں سے سستی اشیا کو ڈھونڈنا اور انھیں استعمال کرنا ہو گا۔ زیادہ تر قومی سطح پر تیار کی گئی اشیا خریدیں اس سے بھی زرمبادلہ بچے گا اور ملک کا سرمایہ ملک میں رہے گا۔ اگر ہم نے ایک قوم کی حیثیت سے سوچنا شروع کر دیا تو اس سے معاشرے میں بہت تبدیلی آئے گی۔

تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے اور زمانے لوٹ کر آ تے ہیں۔ اب آج کل مہنگائی نے ہمیں پرانے زمانے کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور کیا ہو ا ہے۔ہم آج بھی بجلی کے بغیر رہتے ہیں۔ پانی جمع کر کے حفاطت سے استعمال کرتے ہیں۔گوشت ہفتے میں ایک بار اور دعوتوں میں سادگی رکھتے ہیں۔ شاید سادگی اور دکھاوے سے دوری ہی گھریلو خواتین کا شعار ہو نا چاہیے۔ آج کل ہمارے اعمال کی بدولت ہر چیزسے برکت اٹھ گئی ہے۔ ہمارا یہ فعل بنتا جا رہا ہے کہ ہم عام استعمال کی ہر چیز ناچ ناچ کے بیچتے ہیں۔ آپ ٹی وی پر چلنے والے اشتہارات دیکھ لیں۔جب ہمارے اعمال ہی ایسے ہیں تو ان کی مدد بھلا کیسے آئے گی۔ آج کل ہر کوئی اپنے لیے بچانے کی فکر کرتا ہے اور دوسروں کی ضرورت پوری نہیں کرتا۔ جب تک صبر ، برداشت اور مدد کاجذبہ پیدا نہیں ہوگا، تب تک دنیا کی بد حالی ختم نہیں ہو نے والی۔حکمرانوں کو آج تک اپنے وسائل کا استعمال کرنا نہیں آ یا۔ ہم قدرتی طور پر اتنی دولت سے مالا مال ہیں مگر انھیں تلاش کر کے زرمبادلہ کمانے کی بجائے اپنی قیمتیں جگہیں ٹھیکے پر دیگر ممالک کو دے دیتے ہیں اور وہ ہمارے وسائل سے خود جیبیں بھرتے ہیں۔ جب تک ہم بے ایمانی سے دور نہیں ہونگے ہمارے مسائل بھی کم نہیں ہونگے۔اشیائے ضروریہ کی قیمتیں عوام کی دسترس سے باہر ہو جانا، ہمارے ہاں آئے روز کا معمول ہے اور عوام کو اشیائے خورونوش کے حصول میں مشکلات درپیش ہیں۔ مہنگائی حد سے بڑھ جائے تو بھوک کا باعث بنتی ہے۔ بھوک بہت سفاک ہوتی ہے ، خالی پیٹ میں جب بھوک کا شعلہ بھڑکتا ہے تو وہ تہذیب و تمدن کی سچی جھوٹی سبھی دلیلوں کو جلا کر راکھ کر دیتا ہے۔ تبھی کہا جاتا ہے بھوک مٹانے کے لئے روٹی چوری کرنے والے کا نہیں حاکم وقت کا ہاتھ قلم کیا جائے۔پاکستان میں بفضل خدا نوبت یہاں تک نہیں آئی لیکن حالات کو تسلی بخش بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پاکستان میں حالیہ مہنگائی کی وجوہات کا جائزہ لیا جائے تو اس میں روپے کی بے قدری، تیل کی قیمتوں میں اضافہ سر فہرست ہیں۔ ڈالر کی قیمت میں اضافے اور تیل کی قیمتیں بڑھنے سے ہمارے ملک میں مہنگائی کا بڑھنا معمول کی بات ہے۔ رواں سال کے دوران مہنگائی کی شرح میں 2.85فیصد اضافہ ہو گیا، ملک کے 17بڑے شہروں میں 53اشیا ء کی قیمتوں کے تقابلی جائزے سے عیاں ہوا کہ چکن، انڈہ، نمک، سرخ مرچ، ایل پی جی سلنڈر، چاول ، گندم اور چینی سمیت 13اشیاء مہنگی ہوئی ہیں۔ یہ سبھی اشیاء وہ ہیں جو بنیادی ضروریات میں شامل ہیں اور ان کے بغیر گزارہ ممکن نہیں۔ ان اشیا ء کی گرانی عوام پر اضافی بوجھ ثابت ہو گی اور وہ جو پہلے ہی مہنگائی سے نڈھال ہیں، مزید مشکلات کا شکار ہو جائیں گے جبکہ یوٹیلیٹی بل تو ان کی رہی سہی قوت خرید کا بھی خاتمہ کر دیں گے۔ حکومت وقت فوری طور پر کوئی موثر اقدام کرے تا کہ مہنگائی مزید بے لگام نہ ہو اور عوام کا دال دلیہ با عزت طور پرچلتا رہے۔

مزید : ایڈیشن 2