پٹرول بم....نئے سال کا تحفہ!

پٹرول بم....نئے سال کا تحفہ!

  



2018کا آغاز پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے ہوا ہے ، تشویش ناک بات یہ ہے کہ نہ صرف جنوری میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا بلکہ فروری کے مہینے میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔ ماہ فروری کے لئے پٹرول کی قیمت میں 2روپے 98پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیاگیا ہے ، یار لوگ اسے حکومت کی جانب سے عوام کے لئے نئے سال کا تحفہ قرار دے رہے ہیں ۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کے 12بج کر 24منٹ پر تیل کی قیمتوں میں بے رحم اضافے کی شدیدمذمت کی ۔ انہوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ شریف برادران نے جاتی امرا کسی نئے ملک میں بنانے کی ٹھان لی ہے ۔ پاکستانی عوام پر پٹرول بم گرا کر ان سے بدلا لیا جا رہا ہے ، عوام کا معاشی قتل کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ شریف برادران عوام کے خون کا آخری قطرہ بھی چوس لینا چاہتے ہیں، پیپلز پارٹی ظالمانہ اضافے اور مہنگائی کے طوفان کے خلاف سینہ سپر ہے اور ہر فورم پر نون لیگ کی طرف سے معاشی حملے کا مقابلہ کرے گی۔ انہوں نے تیل کی قمتوں میں اضافے کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ پیپلز پارٹی کا جینا اور مرنا عوام کے ساتھ ہے ۔

دوسری جانب وزیر اعظم کے ترجمان نے بیان جاری کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث بڑھائی گئی ہیں۔ تاہم حکومت نے تجویز کردہ اضافے سے کم قیمتیں بڑھائی ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں 8.07فیصد اضافہ ہوا ہے جس کے باعث پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا ہے۔ ابھی بھی حکومت اضافی بوجھ اپنے سر لے رہی ہے ۔

اس سے قبل جب جنوری کے آغاز میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا تو اپوزیشن کی ہر جماعت سراپا احتجاج نظر آئی تھی ، کسی نے اسے پٹرول بم تو کسی نے اسے نئے سال کا تحفہ قرار دیا تھا اور اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کو پارلیمنٹ میں ایک ایشو کے طور پر اٹھائیں گے۔ اپوزیشن نے حکومت یہ نتبیہ بھی کی تھی کہ پٹرول کی قیمتوں میں فی الفور اضافے کو اگر واپس نہ لیا گیا تو اپوزیشن معاملے کو سڑکوں پر لے آئے گی اور ملک گیر احتجاج کرکے حکومت کو یہ اضافہ واپس لینے پر مجبور کرے گی۔ پیپلز پارٹی نے تب بھی قومی اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس داخل کیا تھا جبکہ ایم کیو ایم نے تحریک التوا جمع کروائی تھی۔ عمران خان نے حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کو حسب معمول ’شرمناک‘ قرار دیا تھااور کہا تھا کہ بجائے ٹیکس نیٹ بڑھانے اور منی لانڈرنگ کرنے والوں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کے حکومت عوام پر پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ بڑھارہی ہے۔

پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اگست 2017سے دیکھنے میں آرہا ہے ، تب پٹرول کی فی لیٹر قیمت 77روپے 47پیسے تھے جو آج بڑھ کر 84 روپے 51پیسے ہو گئی ہے ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تسلسل کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے ، وزیر اعظم کے مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل جنوری کے مہینے میں پٹرول کی قیمتوں میں 4روپے 6پیسے فی لیٹر اضافے کا دفاع کرتے ہوئے بتا چکے ہیں کہ بھارت میں پٹرول کی قیمت پاکستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑھائی گئی ہے بلکہ ان کے مطابق تو پاکستان میں پٹرول کی قیمت بھارت، بنگلہ دیش اور ترکی کے مقابلے میں کم اضافہ کیا گیا ہے ۔

دلچسپ امر ی یہ ہے کہ حکومت نے جنوری کے مہینے میں جب تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا تب حکومت کی سیاسی پوزیشن انتہائی پتلی تھی ، متحدہ اپوزیشن 17جنوری کو لاہور شہر کی مال روڈ پر ایک عظیم الشان عوامی مظاہرہ کرنے جا رہی تھی اور خیال کیا جا رہا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کے فقید المثال اجتماع کے سامنے حکومت خس و خاشاک کی طرح بہہ جا ئے گی، نہ صرف یہ بلکہ تحریک ختم نبوت کی تحریک کا علیحدہ سے حکومت پر پریشر تھا اور امکان تھا کہ جب ان کی جانب سے بھی پورے ملک میں دھرنا دیا جائے گا تو حکومت کو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ تاہم دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا کے مصداق 17جنوری آیا اور گزر گیا، متحدہ اپوزیشن تتر بتر ہو گئی جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سرگودھا میں پیر حمید الدین سیالوی کے گھٹنوں کو ہاتھ لگا آئے اور یوں عوامی غم و غصے کا جو ریلا آنا تھا، نہ آیا۔ یہی وجہ ہے کہ متحدہ اپوزیشن کی اس ناکامی نے حکومت کو یہ ہمت دی کہ وہ فروری کے آغاز میں پٹرول کی قیمت میں اضافہ کرلے۔ پٹرول کی قیمت میں تسلسل کے ساتھ دوسری مرتبہ اضافہ اپوزیشن کی ناکامی ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت ابھی بھی عوامی سطح پر پذیرائی رکھتی ہے ۔حالانکہ ماہرین معیشت و سیاست کا کہنا ہے کہ انتخابی سال میں پٹرول کی قیمت میں اضافہ حکومت کے لئے ایک چیلنج سے کم نہیں ہے اور سیاسی اعتبار سے اسے بھاری قیمت ادا کرنی پڑسکتی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ عوام جب کارکردگی کے ترازو میں حکومت اور اپوزیشن کی جماعتوں کو تولتی ہے تو حکومت کا وزن کہیں زیادہ دکھائی دیتا ہے ، اس لئے وہ اس یقین اور امید کے ساتھ پٹرول کی قیمت میں اس اضافے کو قبول کر رہی ہے کہ جونہی عالمی سطح پر قیمتوں میں کمی ہوئی ، حکومت فوری طور پر عوام کو ریلیف دے گی۔ حکومت کے حوالے سے عوامی پذیرائی کا یہ عالم ، اور وہ بھی انتخابی سال میں، کم کم دیکھنے میں آتا ہے ، بلاشبہ میڈیا کی فراوانی سے اب عوام کو بیوقوف نہیں بنایا جا سکتا ہے کیونکہ اس کے پاس پل پل کی خبر ہوتی ہے اور ہر سیاسی جماعت، خواہ وہ حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں ، کی خبر ہوتی ہے اور کہنے والے غلط نہیں کہتے کہ عوام سب جانتے ہیں۔

پٹرول کی قیمت میں اضافے کے نوٹیفیکیشن کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس اضافے میں تین چوتھائی حصہ پی ایس او کی جانب سے سپلائی کی لاگت کی مد میں ہے جو کہ جولائی 2017میں 40روپے 65پیسے فی لیٹر تھی اور نومبر 2017میں بڑھ کر 46روپے 84پیسے فی لیٹر ہو گئی جبکہ جنوری 2018میں یہی لاگت 49روپے 91پیسے ہو گئی ہے اور فروری 2018میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے بے سبب شور مچانے کے بجائے اس کا حل بتانا چاہئے کہ کس طرح پی ایس او کی سپلائی کی لاگت میں کمی لائی جا سکتی ہے اور وہ کون سی معاشی اصلاحات کی جا سکتی ہیں جس سے مہنگائی پر قابو پایا جا سکے کیونکہ حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمتوں پر سبسڈی دیتے رہنا کوئی دانشمندی نہیں ہے ۔

محکمہ شماریات کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق جنوری 2018کے دوران ملک میں مہنگائی کی شرح 4.4فیصد رہی جو کہ جنوری 2017 کے دوران 3.7فیصد تھی۔ خیال کیا جارہا ہے کہ مہنگائی کی شرح میں یہ اضافہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے سبب سے ہے جو کہ گزشتہ سال کے وسط سے شروع ہوا تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ دسمبر2017میں مہنگائی کی شرح 4.6فیصد تھی اور جنوری کے دوران اس شرح میں کمی ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ ملک بھر سے 480اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہونے والے اتار چڑھاؤ کی بنیاد پر مہنگائی کا تعین کیا جاتا ہے۔گزشتہ سال کے دوران اپریل سے لے کر اب تک یہ دوسری مرتبہ ہے کہ مہنگائی کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا ہے ۔خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں جس تسلسل کے ساتھ اضافہ ہوا ہے اس کی وجہ سے آنے والے مہینوں میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اسکے علاوہ پاکستانی روپے کی قیمت میں ڈالر کے مقابلے میں ہونے والی کمی بھی مہنگائی میں اپنا کردار ادا کرے گی کیونکہ درآمد شدہ مصنوعات کی قیمت میں اضافہ ہو جائے گا ۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف مصنوعات کی درآمد ی ڈیوٹی میں اضافہ بھی ان کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنے گا۔ واضح رہے کہ اکتوبر 2017سے ریگولیٹری ڈیوٹیوں کی شرح میں اضافہ کیا گیا تھا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ جولائی 2017سے جنوری 2018تک مہنگائی کی اوسطاً شرح 3.85فیصد رہی ہے جو کہ تقابلی عرصے میں بھی اتنی ہی تھی جبکہ اس عرصے کے دوران، یعنی اپریل 2016سے جنوری 2017تک کے عرصے میں پٹرول کی قیمتوں میں اس طرح اضافہ نہیں دیکھا گیا تھا جس طرح بعد کے عرصے میں دیکھی گئی ہے۔ واضح رہے کہ رواں مالی سال کے دوران حکومت نے مہنگائی کی شرح کا ٹارگٹ 6فیصد رکھا گیا ہے جبکہ پہلی ششماہی گزرنے پر بھی مہنگائی کی کل شرح 4.4فیصد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پٹرول کے علاوہ دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام رہا ہے ۔ ان اشیائے ضروریہ میں پان چھالیہ، چکن، فروٹ، چاول، دال مونگ، گندم اور چاول شامل ہیں جن کی قیمتوں میں استحکام رہا ہے جبکہ ٹماٹر ، آلو، سبزیوں، انڈوں، پیاز، بیسن، دال ماش، گڑ اور چینی کی قیمتوں میں کمی دیکھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے باوجود کہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اگر روزمرہ استعمال کی اشیائے ضروریہ کے طلب اور رسد میں استحکام رہتا ہے تو پٹرول کی بڑھتی قیمتوں سے ایک دم سے کوئی آسمان نہیں گر جائے گا۔ہاں البتہ اگر پٹرول کی قیمتیں سیٹرھی لگا کر تیزی سے آسمان کی طرف چڑھتی چلی گئیں تو یقینی طور پر ان اشیاء کی رسد کے باوجود طلب کے محاذ پر قیمتوں کا چڑھاؤ بے قابو ہو سکتا ہے اور یہی وہ وقت ہوگا جب مارکیٹ کمیٹیوں اور دیگر ایسے اداروں کی کارکردگی ٹیسٹ ہوگی۔

دریں اثناء اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کو چیلنج کردیا گیا ہے جس میں حکومت کو جواب دینے کے لئے 12فروری کی تاریخ رکھی گئی ہے۔یقینی طور پر آئندہ آنے والے دنوں میں اگر اس مقدمے کی ریگولر سماعت ہوئی تو آئل اینڈ گیسو ریگولیریٹی اتھارٹی یعنی اوگرا کی کارکردگی زیر بحث آئے گی ۔ عمومی تصور یہ ہے کہ پاکستان میں خودمختار ریگولیٹری اتھارٹیاں تو بنادی گئی ہیں لیکن ابھی تک یہ اتھارٹیاں حکومتی اثرو رسوخ سے باہر نہیں آسکی ہیں۔ مثال کے طور پر پیمرا کے حوالے سے یہ بحث عام ہے کہ حکومت اس ریگولیٹری اتھارٹی کو حکومت نے ہاتھ کی گھڑی بنا کر رکھا ہوا ہے ، اسی لئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود کی خبر کا سوؤ موٹو نوٹس لیا زمانے بھر کے جید صحافیوں کو طلب کیا لیکن اگر نہیں کیا تو پیمرا کو نہیں کیا۔ کچھ ایسا ہی معاملہ اوگرا کا بھی ہے کہ تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے حوالے سے اس کا کردار صرف اور صرف کیلکولیشن کی حد تک ہے جبکہ قیمت میں کتنا اضافہ کرنا ہے ، اس کا اختیار حکومت نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مشیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل اور ترجمان وزیر اعظم ڈاکٹر مصدق ملک اس بات کا کریڈٹ لیتے نظر آتے ہیں کہ اوگرا نے تیل کی قیمتوں میں 10فیصد اضافے کی سفارش کی تھی لیکن حکومت نے 5فیصد اضافہ کیا جبکہ 5فیصد کا بوجھ خود اٹھالیا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بقیہ 5فیصد کا بوجھ بھی قومی خزانے سے ہی پورا کیا جائے گا جس کے لئے آئے روز عوام پر نت نئے ٹیکسوں کی بھرمار کی جاتی ہے۔ یعنی حکومت نے کان ادھر سے نہیں اُدھر سے پکڑ لیااور ہر دو جانب سے عوام ہی متاثر ہوئے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت تیل کی قیمتوں میں استحکام لانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے ۔ ہر ماہ اس کی قیمتوں میں اضافے کا ڈھونگ رچانے سے مارکیٹ عدم استحکام اور بے یقینی کا شکار رہتی ہے کیونکہ مارکیٹ پلیئرز قیمت میں اضافے پر اشیائے ضروری، خاص طور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ تو فوراً کردیتے ہیں لیکن اگلے ماہ جب قیمتوں میں کمی ہوتی ہے تو بڑھائے ہوئے کرائے میں کمی کے حوالے سے حیل و حجت کا مظاہر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ امید ہے کہ حکومت اس ضمن میں ٹھوس پالیسی بنائے گی اور یقینی طور پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں اس حوالے سے بحث سے بھی سوچ کے نئے دریچے وا ہوں گے۔

مزید : ایڈیشن 2