عدلیہ کے پاس الفاظ کی طاقت ہوتی ہے، ایس ایم ظفر

عدلیہ کے پاس الفاظ کی طاقت ہوتی ہے، ایس ایم ظفر

  



لاہور (فلم رپورٹر)عدلیہ کے پاس الفاظ کی طاقت ہوتی ہے۔ جب ادارے آئین کے تقاضوں کے مطابق اپنا کام نہیں کرتے تو عدلیہ جوڈیشل ریویو کے ذریعے ان کو فعال بنانے کی کوشش کرتی ہے۔ پاکستان میں مارشل لاء کے ادوار کے دوران میں بھی جوڈیشل ریویو کے ذریعے انصاف کے تقاضے پورے ہوتے رہے۔ ان خیالات کا اظہار جوڈیشل ایکٹوازماور گورننس‘‘ کے موضوع پر ٹیک سوسائٹی کلب میں پاکستان ویژنری فورم کی 60 ویں کانفرنس کے دوران مقررین نے کیا جن میں سابق وفاقی وزیر قانون سینیٹر ڈاکٹر ایس ایم ظفر، جسٹس (ر) شریف حسین بخاری،قیوم نظامی، ڈاکٹر محمد صادق، محمد زبیر شیخ، رانا طارق محمود، ڈاکٹر حسیب اللہ، انجینئر محمد عظیم، محمودالرحمن چغتائی، جمیل گشکوری، عبدالمجید خان،سابق آڈیٹر جنرل پنجاب جمیل بھٹی ، خالد محمود سلیم، پروفیسر ڈاکٹر عطیہ سید، سلمان عابد، میجر (ر) شبیر احمد، انجینئرمنصور احمد، ڈاکٹر اکرام کوشل اورمشکور احمد نے کیا۔ مقررین نے مزید کہا کہ عدلیہ جوڈیشل ریویو کے ذریعے مسائل کی نشاندہی کرتی ہے تاہم ان مسائل کا آخری حل سول سوسائٹی ہی ہے جیسا کہ عدلیہ بحالی تحریک کے دوران سول سوسائٹی نے اپنا کردار ادا کیا۔

اور مسئلہ حل ہوگیا۔پاکستان میں اگر صحیے معنوں میں فلاحی ریاست قائم ہو جائے تو نظریہ ضرورت خود بخود دفن ہو جائے گا اور نہ جوڈیشل ریویو کی ضرورت پڑے گی نہ ازخود نوٹسز کی۔پاکستان میں حقیقی ترقی کیلئے جمہوریت اور قانون کی حکمرانی دونوں لازم ہیں۔ باربار انتخابات کا ہونا ہی جمہوری عمل ہے جبکہ انتخابات کا نہ ہونا غیر جمہوری عمل ہے۔ بعض اوقات ججوں کے الفاظ ہی قانون بن جاتے ہیں۔ ججوں کے کم بولنے میں ہی مصلحت ہے۔چھوٹی عدالتیں جہاں پر 90% مقدمات سنے جاتے ہیں انکی کارکردگی بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4