محکمہ صحت کا 100موبائل ہیلتھ یونٹ خریدنے کا فیصلہ

محکمہ صحت کا 100موبائل ہیلتھ یونٹ خریدنے کا فیصلہ

  



لاہور(جاوید اقبال )محکمہ صحت پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ پنجاب کے سربراہ سیکرٹری ہیلتھ علی جان خان نے کہا ہے کہ پنجاب کے پسماندہ اور شہروں سے دوردراز بسنے والے مریضوں کو ان کی دہلیز پر صحت اور علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی کے لئے 100موبائل ہیلتھ یونٹ خریدنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے انھوں نے کہا کے ہم دعوے سے کہ سکتے ہیں کہ ضلعی ہسپتالوں کو تبدیل کر دیا گیا ہے یہاں سوفیصد ڈاکٹرز موجود ہیں۔ پرائمری اینڈسکینڈری ہیلتھ کی پہلی ترجیح بنیادی مراکز صحت کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے تاکہ دیہی علاقوں کے لوگ زیادہ سے زیادہ مستفید ہو سکیں ۔بنیادی مراکز صحت پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے کیونکہ دیہی مراکز بیماریوں کے علاج معالجہ میں بڑا اہم کردار ادا کر سکتے ہیں جب تک ان کو آباد نہیں کیا جائے گا پنجاب میں صحت کے مسائل کو حل کر نا ناممکن ہے ۔پنجاب حکومت کی جانب سے بنیادی مراکز صحت میں سہولیات کو یقینی بنانے کے لیے 5لاکھ 50ہزار روپے فی کس بنیادی مرکز کو دیے جارہے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز " روزنامہ پاکستان "سے خصوصی گفتگو میں کیا ۔انہوں نے مزید کہا کہ دیہی علاقوں میں اگر بنیادی مراکز صحت میں سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنا لیا جائے تو لوکل آبادی کو بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ نے پوسٹ گریجوایٹ ڈاکٹرز کی انڈکشن کے لئے BHUs پر خدمات کے خصوصی نمبر مختص کرکے بہت انقلابی قدم اُٹھا یا ہے جس کے نتیجہ میں 85فیصد بنیادی مراکز صحت پر ڈاکٹر ڈیوٹی دے رہے ہیں کیونکہ اس سے قبل ڈاکٹرز دیہی علاقوں میں جانے کو تیار نہیں تھے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ عوام کو ان کی دہلیز تک علاج کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے مزید 100موبائل ہیلتھ یونٹ خرید رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر صوبہ بھر کے دیہی علاقوں میں 24/7مفت محفوظ ماں ایمبولینس سروس کا آغازکر دیا گیا ہے ۔ ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ بہت سی قیمتی جانیں اسلئے ضائع ہو جاتی تھیں کہ دیہاتوں میں مناسب سہولتوں کا فقدان ہوتا تھا اور بنیادی مراکز صحت کا نا ہونا بھی انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بنتا تھا۔وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اس سال بھی صحت کا تاریخی بجٹ رکھا ہے تاکہ اس سے خاص طور پر دور دراز کے لوگ مستفید ہوسکیں۔انہوں نے کہا کہ ماں ایمبولینس سروس صرف حاملہ خواتین کے لئے ہے اور یہ سروس بلا معاوضہ ہوگی۔سروس کے حصول کے لئے ایمرجینسی ہیلپ لائن1034پر مفت کال کی صورت میں مرکزی کال سینٹر فوری طو رپرآپ کے علاقے میں موجود ایمبولینس کو ہدایت جاری کریگا اور یہ ایمبولینس حاملہ خاتون کو نزدیک ترین بنیادی مرکز صحت پہنچائے گی ۔پیچیدگی کی صورت میں مریضہ کو اسی ایمبولینس کے ذریعے تحصیل یا ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا جا ئے گا۔ابتدائی طور پر36اضلاع میں193ایمبولیسزکا اجراء کیا جاچکا ہے تاہم وقت کے ساتھ اس میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔اس کے علاوہ250ایمبولیسز800بنیادی مراکز صحت کے ساتھ منسلک کی جا چکی ہیں اور یہ ریسکیو1122کی طرح ہر قسم کی ایمرجنسی میں اپنا کردار نبھائیں گی۔انہوں نے کہا کہ بنیادی مراکز کو آباد کر نے کے لیے خصوصی انتظامات کیے جارہے ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب پنجاب کے تمام بنیادی مراکز صحت میں سہولیات کی فراہمی کا عمل مکمل ہو جائے گا ۔انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب بھر میں 24سو سے زائد بنیادی مراکز صحت عوام کو علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں ۔وزیراعلی پنجاب کی جانب سے عوام کو صحت کی تمام سہولیات کی فراہمی کے لیے بہت سے اقدامات کیے جارہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نے ہسپتالوں کی حالت زار کو بہتر بنانے کیلئے مختلف اضلاع میں ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن کے منصوبہ پر کام شروع کر دیا ہے جس کے لیے خطیر رقم بھی مختص کیا گیا ہے ۔پنجاب حکومت کی جانب سے اربوں روپے کے فنڈز صوبہ کی عوام کو بہترین سہولیات فراہم کر نے کے لیے دیے گئے ہیں ۔بنیادی مراکز صحت صحیح معنوں میں علاج گاہیں ثابت ہو گئی ۔ دیہاتوں میں کام کر نے والے ڈاکٹرز ،نرسز اور پیرا میڈیکس کوخصوصی مراعات دی جارہی ہیں ۔ محکمہ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر پنجاب نے صوبہ بھر میں جعلی ادویات کے خاتمہ کے لیے بے شمار اقدامات کیے جس کی بدولت آج صوبہ میں کافی حد تک اس گناؤنے کا روبار کا خاتمہ ممکن ہو ا جبکہ اس حوالے سے ابھی بھی مزید اقدمات کی ضرورت ہے ۔عوام کو معیاری ادویات کی فراہمی کے لیے مزید اقدمات کیے جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ڈرگ سیل لائسنس کا اجراء کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے کرپشن کے خاتمہ میں مدد ملے گی ۔ایک سوال کے جواب میں علی جان خان نے کہا کہ لاہور کے مضافات میں واقع چھوٹے ہسپتالوں اور دیہی مراکز صحت پنجاب ہیلتھ فسیلٹیز مینجمنٹ کمپنی (PHFMC) کے سپر د کیے جائیں گے اور کمپنی اپنے مالی وسائل اِن ہسپتالوں اور دیہی مراکز صحت میں ترقیاتی کام کرائے گی اور اِنہیں احسن طریقے سے چلانے کی ذمہ دار ہوگی۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کی ہدایت پر محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ نے پنجاب ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کے تحت کوریئر سروس کے ذریعے ہیپاٹائٹس کے رجسٹرڈ مریضوں کو ادویات کی ان کے گھروں پر ترسیل کا آغاز کر دیا ہے اور مرحلہ وار تمام دیگر ہیلتھ پروگراموں کی ادویات بھی کوریئر سروس کے ذریعے مریضوں کی دہلیز پر پہنچائی جائیں گی۔ صوبے میں 83 ہزار ہیپاٹائٹس کے مریضوں کو ادویات ہر ماہ باقاعدگی سے ٹی سی ایس کے ذریعے ان کے گھروں پر پہنچائی جائیں گی اور کوریئر کے اخراجات بھی حکومت ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مریض کو ہر ماہ اپنے قریبی ہسپتال میں اپنا طبی معائنہ کرانا ہو گا تاکہ دوائی کی مقدار میں کمی بیشی کی جا سکے۔ اس مقصد کے لئے ہر مریض کو اس کے موبائل نمبر پر میسج بھجوایا جائے گا۔ یہ نظام مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ اور آن لائن ہے جس میں تمام مریضوں کا ڈیٹا، ادویات کی ترسیل کا ریکارڈ محفوظ رہے گا۔ جلد ہی تپ دق، ایڈز اور دیگر بیماریوں میں مبتلا رجسٹرڈ مریضوں کو ادویات ان کے گھروں پر کوریئر سروس کے ذریعے ملنا شروع ہو جائیں گی۔یہ ایک انقلابی قدم اور تاریخی سنگ میل ہے جو محکمہ صحت پنجاب نے عبور کر لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ پنجاب کی جانب سے مختلف شعبوں سے وابستہ 23 افراد پر مشتمل وفد تربیت کے لیے ترکی روانہ کر دیا ہے اس وفد میں 10 ڈاکٹرز و نرسز رجب طیب اردگان ہسپتال مظفر گڑھ ، ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹر ی ملتان اور بہاولپور سے 10 ماہرین جبکہ ریسکیو 1122 سروس کے 3 افراد شامل ہیں۔اِ ن تمام افراد کی تربیت وزرات صحت ترکی کی جانب سے سپانسرڈہے ۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ85فیصد بنیادی مراکز صحت پر میڈیکل آفیسرزڈیوٹی کر رہے ہیں ۔بائیو میٹرک حاضری کے سسٹم میں بہت بہتری آئی ہے اورہسپتالوں میں حاضری کا تناسب60سے100فیصد تک پہنچ گیاہے۔جسے مزیدبہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔ بائیو میٹرک سسٹم کے باوجود غیر حاضر رہنے والے سٹاف کی لسٹیں تیارکرکے انکے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور اس سلسلہ میں کسی سے کو ئی رعایت نہ برتی جائیگی ۔تمام ضلعوں کے سی ای او ہیلتھ فوری طور پر اپنے اپنے ضلع کی سطح پرواٹس ایپ گروپ بناکر تمام افسران کو شامل کریں اور کسی بھی صورتحال سے باخبر رہنے کی کوشش کریں۔ علی جان خان نے کہا کہ تمام BHUsاورRHCsاور ہسپتالوں میں بجلی و پانی کی فراہمی کو یقینی بنایاجارہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہر ضلع میں آن لائن ڈرگ سیل لائسنسنگ کے لئے ایک مرکزی دفتر بنایاجائیگا ۔ کیمسٹ کے لائسنسنگ کی تجدید میں کوئی رکاوٹ نہیں اور شیڈول جی میں دو سال کی توسیع کی جارہی ہے۔ RHCs,BHU پر فنڈزنہ ہونے کا تصور ختم ہو گیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف نے صحت کے شعبہ کیلئے بلینک چیک دیا ہے شرط یہ ہے کہ اب فیلڈ افسران کا رکردگی کا مظاہر ہ کریں ، رورل ایمبولینس سروس برائے حاملہ خواتین کوزیادہ سے ذیادہ فروغ دیں جس کے لیے مقامی سطح پر آگاہی پیدا کی جائے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1