برکی 9روز قبل اغواء شدہ 22سالہ کانسٹیبل کی تشدد زدہ لاش صوئے آصل نالے سے برآمد

برکی 9روز قبل اغواء شدہ 22سالہ کانسٹیبل کی تشدد زدہ لاش صوئے آصل نالے سے برآمد

  



لاہور(خبرنگار) برکی کے علاقے سے چند روز قبل اغوا ہونے والے 22سالہ کانسٹیبل کی تشدد زدہ لاش کاہنہ سے برآمد ، مغوی کو 2فروری کو نامعلوم افراد نے گھر سے ڈیوٹی پر جاتے ہوئے اغوا کیا اور 9روز بعد قتل کر کے لاش نالے میں پھینک کر فرار ہو گئے، ورثا تھانے کے چکر لگاتے رہے۔ تفصیلات کے مطابق برکی کے علاقے برکی خورد کا رہائشی 22سالہ عدنان کانسٹیبل عباس لائن میں تعینات تھا ،وہ2فروری کو گھر سے ڈیوٹی پر جانے کیلئے نکلا اور رات گئے تک واپس نہ آیا جس پر اس کے اہلخانہ نے اپنے رشتہ داروں اور اس کے دوستوں کے ہاں اسے تلاش کرنے کی کوشش کی مگرکوئی سراغ نہ مل سکا۔ اس کے والد امانت نے 8فروری کو تھانہ برکی میں عدنان کے اغوا کی اطلاع دی جس پر متعلقہ پولیس نے مقدمہ درج کر کے مغوی کی تلاش شروع کر دی ۔گزشتہ روز تھانہ کاہنہ کے علاقے سوئے آصل کے قریب نالے میں 22سالہ نوجوان کی لاش پڑی دیکھ کر مقامی افرادنے پولیس کو اطلاع دی جس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو قبضے میں لے لیا جس کی بعد ازاں شناخت برکی سے اغوا ہونے والے کانسٹیبل عدنان کے طور پر ہو ئی۔ذرائع کے مطابق مقتول عدنان کالعدم تنظیموں کی نگرانی کے لئے سپیشل ڈیوٹی پر مامور تھا ۔پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول عدنان کو سر میں آہنی راڈ سے وار کر کے قتل کیا گیا ، ا س کیس کی مختلف زاویوں سے تفتیش جاری ہے، اصل حقائق پورسٹ مارٹم رپورٹ آنے اور تفتیش کے بعد سامنے آئیں گے ۔مقتول کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ دو بچوں کا باپ تھااور برکی کے نواحی گاؤں برکا کلاں کا رہائشی تھا۔ مقتول کے والد امانت علی نے’’پاکستان‘‘ کو بتایا کہ اُس کے بیٹے کی کسی کے ساتھ دشمنی نہیں تھی۔ ایس پی انویسٹی گیشن ڈاکٹر آنوش مسعود چوہدری کا کہنا ہے کہ مقتول کانسٹیبل کے ٹیلی فون ڈیٹا کے ریکارڈ سے بھی مدد لی جارہی ہے اور جلد اصل حقائق سامنے آجائیں گے۔

مزید : علاقائی