ممتاز ادیب، دانشور اور محقق پروفیسر حنیف شاہد انتقال کر گئے

ممتاز ادیب، دانشور اور محقق پروفیسر حنیف شاہد انتقال کر گئے
ممتاز ادیب، دانشور اور محقق پروفیسر حنیف شاہد انتقال کر گئے

  



لاہور(انوار قمر سے) نامور ادیب، سکالر اور محقق پروفیسر محمد حنیف شاہد کئی ماہ کی علالت کے بعد گزشتہ روز انتقال کر گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون ان کی عمر79 سال تھی۔ وہ بیماری سے کچھ عرصہ قبل تک بزم اقبال کے ڈائریکٹر کے طور پر فرائض انجام دیتے رہے جبکہ کافی عرصہ نظریہ پاکستان ٹرسٹ میں قائد اعظم محمد علی جناح، علامہ اقبال اور تحریک پاکستان کے حوالے سے تحقیقی کام کرتے رہے۔ پروفیسر محمد حنیف شاہد نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے لائبریری سائنس کے بعد پنجاب پبلک لائبریری میں ملازمت اختیار کی جہاں وہ اورینٹیل سیکشن کے نگران اور پھر چیف لائبریرین بھی رہے اور تقریباً 27 سال یہاں خدمات انجام دیتے رہے۔ بعدازاں وہ سعودی عرب چلے گئے جہاں کنگ سعود یونیورسٹی میں تدریسی اور تحقیقی فرائض انجام دیتے رہے۔ پروفیسر حنیف شاہد مرحوم کی 70 سے زائد کتابیں طبع ہو چکی ہیں جبکہ پندرہ بیس زیر طبع ہیں۔ مرحوم کی زیادہ تر کتابیں علامہ اقبال، قائدا عظم، سر شیخ عبدالقادر اور دین اسلام کی حقانیت کے موضوعات پر ہیں۔انہوں نے اسلام کے حوالے سے انگریزی میں تحقیقی کتاب لکھی جس کا بعدازاں اردو میں ’’اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں‘‘ کے عنوان سے ترجمہ شائع ہوا۔ اس کتاب کو پڑھ کر350سے زائد غیر مسلموں نے اسلام قبول کیا۔ مرحوم کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر اکیڈمی آف لیٹرز کی عمارت میں ان کی تصویر لگی ہوئی ہے جبکہ کینیڈا میں بھی انہیں ایوارڈ سے نوازا گیا۔ مرحوم حنیف شاہد کے پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ اکلوتا بیٹا حفیظ شاہد اور 3بیٹیاں شامل ہیں۔ ان کی نماز جنازہ گزشتہ روز جہاں زیب بلاک نرسری گراؤنڈ میں ادا کی گئی جس میں چیف ایڈیٹر روزنامہ’’ پاکستان‘‘ مجیب الرحمٰن شامی، نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید کے علاوہ مختلف شعبہ حیات کے وابستہ سینکڑوں نمایاں افراد نے شرکت کی جبکہ سمن آباد کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ مرحوم کی رسم قل آج(پیر کو) بعد نماز ظہر جامع مسجد جہاں زیب بلاک علامہ اقبال ٹاؤن میں ادا کی جائے گی۔

مزید : صفحہ آخر /میٹروپولیٹن 4