سٹی ٹریفک پولیس کی ناقص منصوبہ بندی ، شہر بھر میں جابجا کھدائی دھرنوں سے ٹریفک کا نظام درہم برہم

سٹی ٹریفک پولیس کی ناقص منصوبہ بندی ، شہر بھر میں جابجا کھدائی دھرنوں سے ...

  



 لاہور ( لیاقت کھرل) سٹی ٹریفک پولیس کی ناقص منصوبہ بندی اور اداروں کی عدم اشتراک کے باعث مال روڈ پر مستقل دھرنوں،جابجا کھدائی، شہر کی شاہراہ سے گلی محلے کی سڑک تک ٹریفک کی روانی تو کجارینگنا بھی ناممکن ہوکر رہ گیا ہے۔ ٹریفک حکام نے ناقص کارکردگی کو چھپانے کے لئے جرمانوں اور سزاؤں کے حوالے سے نئے سرے سے قانون سازی کا بہانہ بنا اپنے آپ کو بری الذمہ ٹھہرانے لگے ہیں، ’’پاکستان‘‘ سروئے میں شہری سٹی ٹریفک حکام مال روڈ پر مستقل دھرنوں اور جگہ جگہ کھدائی کے خلاف پھٹ پڑے، اس موقع پر شہری اکبر علی، حسن رضا، علی رضا، رضا حسین، کلثوم بی بی، میاں اسلم ناز نے کہا کہ مال روڈ پر مستقل احتجاجی دھرنوں اور اورنج ٹرین لائن کی کھدائی نے آدھے شہر میں ٹریفک کے نظام کو متاثر کررکھا ہے، جبکہ اورنج ٹرین لائن کی کھدائی کے ساتھ سٹی گورنمنٹ، واسا، سوئی گیس، لیسکو اور سیف سٹی نے کسی ادارے کے ساتھ اشتراک کرنے کی بجائے اپنے طور پر ہی سڑکوں اور چوراہوں کی کھدائی کررکھی ہے اور اداروں کی اشتراک نہ ہونے سے ٹریفک کا نظام مفلوج اور زندگیاں شدید متاثر ہوکر رہ گئی ہیں۔ شہریوں اختر علی، آصف علی، راجہ انور، رانا اصغر، ارشد علی، ثمینہ بی بی، عائشہ بی بی، محمد شریف اور عمران جاوید نے کہا کہ ایک طرف مال روڈ پر مستقل دھرنے دیئے جارہے ہیں دوسری جانب اورنج لائن ٹرین کی کھدائی کے باعث جی پی او چوک، لکشمی چوک،منٹگمری روڈ، ایبٹ روڈ، میکلوڈ روڈ اور چوبرجی روڈ سمیت آدھے شہر میں ٹریفک کا نظام متاثر ہے جبکہ سٹی گورنمنٹ، واسا، سوئی گیس، لیسکو اور سیف سٹی کے ترقیاتی کاموں نے شہریوں کی زندگیوں کو شدید متاثر کرکے رکھ دیا ہے۔ محمد اسلم، جنید اختر، شیرعلی، عاصم نور اور دیگر نے کہا کہ ٹریفک حکام یہ کہہ کر جان چھوڑا رہے ہیں کہ مال روڈ پر ٹریفک کی بندش کی بنیادی وجہ مستقل دہرنے، اورنج لائن ٹرین اور ترقیاتی کاموں کے لئے کھدائی ہے، شہریوں نے کہا کہ اس حوالے سے سٹی ٹریفک پولیس نے کسی قسم کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کررکھی ہے اور الٹا اداروں کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں جو کہ سٹی ٹریفک پولیس کی مبینہ غفلت اور ناقص پالیسیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے اس موقع پر شہریوں نے کہا کہ ٹریفک حکام کو چاہئے کہ شہر میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے بہاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی اور پلان بنائے، شہریوں نے ایک طرف ایمبو لینس کی گاڑی دوسری جانب سکولز اور کالجز کی گاڑیاں جبکہ کاروبار اور دفاتر جانے والے سڑکوں پر ٹریفک حکام کو کوستے رہتے ہیں تو عام آدمی کا تو خدا ہی حافظ ہے، اس شہر کی شاہراہ سے گلی محلے تک ٹریفک کا نظام مفلوج ہے، کوئی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہے، جس سے حادثات کی شرح میں 100فیصد اضافہ ہو کر رہ گئیا ہے۔ اس پر وزیر اعلیٰ کو نوٹس لینا چاہئے وگرنہ صورت حال اسی طرح رہی تو گرمیوں میں تو بچے، بوڑھے اور مریض گاڑیوں میں پھنسے رہیں گے اور مزید جانی حادثات جنم لیں گے۔ شہریوں نے کہا کہ ٹریفک کے بہاؤ میں بہتری کے لئے جیل روڈ اور کینال روڈ پر سگنلز فری منصوبہ ترتیب دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود بھی ٹریفک کے بہاؤ میں بہتری نہیں آ سکی ہے۔ ٹریفک نظام کے مفلوج رہنے کے ساتھ ساتھ حادثات میں بھی کمی نہیں آئی ہے ۔ حکام خود کہتے ہیں کہ فری سگنلز منصوبے ٹریفک کے بہاؤ میں کوئی مددگار ثابت نہیں ہوئے ہیں۔ اس سے ون وے کی خلاف ورزی بڑی ہے۔

مزید : علاقائی