ایم کیو ایم کے یونٹ آفس جرائم استعمال ہورہے تھے اس لئے بند کئے: ڈی جی رینجرز سندھ

ایم کیو ایم کے یونٹ آفس جرائم استعمال ہورہے تھے اس لئے بند کئے: ڈی جی رینجرز ...

  



کراچی(این این آئی)ڈائریکٹر جنرل پاکستان رینجرز سندھ میجر جنرل محمد سعید نے کہا ہے کہ کراچی میں امن کی بحالی پاکستان کی بقاء کیلئے ناگزیر ہے، ہمیں دہشتگردی میں ملوث اندرونی و بیرونی طاقتوں کا پورا ادراک ہے، کراچی میں پائیدار امن کو یقینی بنائیں گے ، دہشتگردوں، عسکری ونگز ، اغواکاروں، قبضہ مافیا اور بھتہ خوروں کے خلاف آپریشن جاری رہے گا۔ ایم کیو ایم کے یونٹ آفس جرائم کی سرگرمیوں کے لیے استعما ل ہورہے تھے اس وجہ ان کو بند کیا گیا انہیں کھولنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی کوششیں کی جار ہی ہیں ۔ملک دشمن عناصر کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے من حیث القوم ہمیں متحد ہو کر کام کرنا ہوگا ۔خصوصی گفتگو میں ڈی جی رینجرز نے کہا کہ شہر میں قیام امن کے لیے دن رات کام کررہے ہیں ۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کاروائیوں کی وجہ سے کراچی کے شہری آج ماضی کے مقابلے میں خود کو محفوظ تصور کرتے ہیں ۔ ٹارگٹ کلنگ ،بھتہ خوری ،اغوا برائے تاوان کی وارداتوں نمایاں کمی واقع ہوئی سٹریٹ کرائم کے خاتمے کے لیے ہمارے پاس اختیارات نہیں لیکن اس کے باوجود گزشتہ برسوں کے مقابلے میں ان وارداتوں میں کمی ہوئی ہے ۔ اس طرح کی وارداتیں پوری دنیا میں ہوتی ہیں اور بعض ممالک میں تو سٹریٹ کرائم کی وارداتیں کراچی سے بھی زیادہ ہیں ۔امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک بھی اس کی لپیٹ میں ہے اور پولیس کا موثر نظام موجود ہونے کے باوجود وہاں روزانہ سٹریٹ کرائم کی سیکڑوں وارداتیں ہوتی ہیں۔ ہمیں اسٹریٹ کرائمز کے خاتمے کا ٹاسک مل جائے تو بہتر نتائج دیں گے ۔ا پولیس کے مقابلے میں ہماراچیکنگ کا نظام زیادہ موثر ہے ۔ہم کسی کو بھی شہر میں اسلحہ لہرا کر چلنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ کراچی میں آپریشن کے دوران ہمیں عوام کی بھرپور حمایت حاصل رہی ۔ہم نے جن علاقوں میں بھی آپریشنز کیے وہاں کے عوام نے ہمارا بھرپور ساتھ دیاہماری کوششوں کو سراہا ہے کیونکہ ان علاقوں کے عوام کافی عرصے سے جرائم پیشہ عناصر کے نرغے میں پھنسے ہوئے تھے ۔قیام امن کے لیے سیاسی اور عسکری قیادت نے جن نکات پر اتفاق کیا ہے اس پر عمل ہونا اشد ضروری ہے ۔ رینجرز نے آئینی حدود سے کبھی تجاوز نہیں کیا ۔شرجیل میمن کو رینجرز نے نہیں بلکہ نیب نے گرفتارکیا لیکن تاثر ایسا دیا گیا کہ جیسے یہ کارروائی رینجرز نے کی ۔رینجرز دوسرے اداروں ایف آئی اے ،نیب اور کسٹم کی آپریشنل معاونت کرتی ہے لیکن ہم نے کبھی ان اداروں کے کام میں مداخلت نہیں کی ۔ڈی جی رینجرز نے کہا کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ۔ہمارا ایک ہی بنیادی مقصد شہر میں امن کا قیام ہے ۔اس سلسلے میں مختلف سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوتی ہیں تاہم اس کو سیاسی رنگ دینا مناسب نہیں ۔ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کے معاملات سے ہمارا براہ راست کوئی تعلق نہیں ۔کراچی میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں بھی ہمارا کردار سب کے سامنے ہے ۔پرامن پولنگ کے لیے کیے گئے اقدامات کو تمام سیاسی جماعتوں نے سراہا ہے اور کسی نے بھی ہم پر جانبداری کا الزام عائد نہیں کیا ۔ہمیں پاکستانی ہونے پر فخر ہے، آزادی ایک بڑی نعمت ہے اس کی قیمت کا اندازہ آزادی سے محروم لوگوں کو دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے۔ معاشرے میں صحت مندانہ رحجانات کے فروغ کیلئے نظم و ضبط اور برداشت کے رویے کو پروان چڑھانے کی ضروت ہے ۔ کراچی میں قائم ہونے والے امن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ کراچی کے عوام کا تعاون کلیدی حیثیت رکھتا ہے ، اس سلسلے میں عوام بالخصوص نوجوانوں کی اپنے اردگرد کسی بھی مشکوک سرگرمی اور اس پر فوری ردعمل سے آگاہی نہایت ضروری ہے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کو دہشتگردوں اور مجرموں سے نجات دلا کر دم لیں گے۔ پرائیویٹ سکیورٹی کمپنیوں کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے ۔ان کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے گارڈزکو اعلیٰ پائے تربیت دلوائیں اور تمام معلومات حاصل ہونے کے بعد گارڈز بھرتی کیا جائے ۔ ہم پاک بھارت بارڈر پر اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہیں ۔رینجرز کا دائرہ اختیار اندرون سندھ تک بڑھانے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں میجر جنرل محمد سعید نے کہا کہ ابھی ہماری پوری توجہ کراچی کی طرف ہے ۔ہم شہرمیں پائیدار امن کا قیام چاہتے ہیں ۔تاہم اگر حکومت چاہے گی تو ہم اندرون سندھ بھی کام کرنے کے لیے تیار ہیں ۔ شہر میں ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کا خاتمہ کردیا گیا سیاست سے جبروزبردستی ختم ہونے کے بعد عوام سماجی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں ۔جرائم کا جڑ سے خاتمہ کرکے شہر کو مکمل طور پر محفوظ اور روشنیوں کا شہر بنادیا جائے گا۔ آج کا لیاری گزرے کل سے اگر مکمل مختلف ہے تو اس کی وجہ سندھ رینجرز کے جوانوں کی دن رات کی محنت اور قربانیاں ہیں، جنہوں نے اس آپریشن کے دوران 20ہزار سے زائد جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کیا۔ مقابلوں میں بھی درجنوں جرائم پیشہ افراد مارے گئے۔ متعدد افسروں اور جوانوں نے جام شہادت نوش کرکے اس شہر کی روشنیاں بحال کیں۔ آج کاروباری افراد بھتہ کی پرچیوں سے محفوظ ہیں۔ ماؤں کی گودیں آباد ہیں تو اس کی وجہ جام شہادت نوش فرمانے والے یہ شہید ہی ہیں جنہیں ہم کبھی بھی فراموش نہیں کرسکتے۔

مزید : صفحہ آخر