2018ء کے انتخابات کرپٹ مافیا کیلئے یوم حساب ثابت ہونگے: سراج الحق

2018ء کے انتخابات کرپٹ مافیا کیلئے یوم حساب ثابت ہونگے: سراج الحق

  



لاہور (آن لائن)امیر جماعت اسلامی سر اج الحق نے کہاہے کہ 2018 ء کے انتخابات کرپٹ مافیا کے لیے یوم حساب ہو نگے ۔آئین کے مطابق سینٹ کی تشکیل آباد ی کے بجائے چاروں صوبوں کی اکائیوں کو مساوی حیثیت دینے سے ہوتی ہے ۔ ایوان بالا کی اس طرز پر تشکیل سے وفاقی ڈھانچہ پختہ بنیادوں پر کھڑا ہوتاہے ۔ سینٹ کے لیے اسلا م آباد سے دو سیٹوں کے لیے قومی اسمبلی کے ارکان کا موجود ہ طرز انتخاب صوبوں کی مساوی حیثیت کو متاثر کرتاہے اور کثرت آبادی کی جیت کا موقع دیتاہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ماہرین کے ساتھ اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سراج الحق نے مطالبہ کیا کہ اسلام آباد سے دو سیٹوں کے موجودہ طرز انتخاب کو بدل کر اسے چاروں صوبوں سے منتخب شدہ ارکان اسمبلی کو مساوی وزن دیا جائے ۔ اس سے صوبوں کے اندر وفاق میں برابر نمائندگی کا حق رکھنے کا احساس پختہ ہو گا۔ سراج الحق نے منصورہ میں جاری مرکزی تربیت گاہ کے آخری سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بھارت اور اسرائیل جیسے دشمنوں سے بڑھ کر ہمیں آستین کے سانپوں سے ہوشیار رہنا ہوگا ۔ ہماری لڑائی کسی فرد یا خاندان سے نہیں بلکہ اس ظالمانہ استحصالی نظام سے ہے جو ستر سال سے ملک پر مسلط ہے ۔ غربت ، مہنگائی ، بے روزگاری اور بد امنی جیسے تحفے ان حکمرانوں کے ہیں جو تین تین بار اقتدار میں رہے ۔ ا ہم جمہوری طریقے اور عوام کی تائید سے ملک میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں ۔ انقلاب کا راستہ پولنگ بوتھ سے ہو کر گزرتاہے ۔ افسوس یہ ہے کہ ملکی اقتدار پر قابض سکیولر اور لبرل ٹولہ زینب اور اسماء جیسی معصوم بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کی بھیانک وارداتیں تو برداشت کر لیتاہے لیکن ملک میں شریعت اور قرآن و سنت کے عادلانہ نظام کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ اگر شرعی سزائیں نافذ کر دی جائیں تو مہینوں میں نہیں دنوں میں حالات بدل سکتے ہیں۔ملک میں جاری قتل و غارت گری ، ڈکیتیوں ، راہزنی اور معصوم بچیوں کے ساتھ بد اخلاقی کے واقعات پر قابو پایا جاسکتاہے ۔ شریعت صرف سزاؤں کا نام نہیں ، بلکہ یتیموں ، بیواؤں کی کفالت ، استحصالی ظالمانہ اور سودی نظام معیشت کا خاتمہ ، طبقاتی نظام تعلیم کی بجائے یکساں نظام تعلیم اور علاج کا نفاذ اور غریب اور امیر کے لیے سستے انصاف کے حصول کا عدالتی نظام بھی شریعت کا تقاضا ہے ۔ ستر سال میں ایک دن کے لیے بھی اسلامی نظام کو موقع دیا گیا نہ آئین میں موجود اسلامی دفعات پر عمل کیا گیا ۔یہی وجہ ہے کہ ملک میں غربت ، جہالت ، مہنگائی ، بے روزگاری اور بدامنی مسلسل بڑھ رہی ہے ۔ عدالتوں سے عام آدمی کو انصاف ملنے کی کوئی امید نہیں ۔ کروڑوں بچے سکولوں سے باہر اور تعلیم سے محروم ہیں اور لاکھوں پڑھے لکھے نوجوان بے روزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں ۔ عوام کی محرومیوں کے اصل ذمہ دار وہی لوگ ہیں جو سیاست اور اقتدار پر صرف اپنا حق سمجھتے ہیں ۔ جماعت اسلامی کارخانوں اور کھیتوں کی پیدوار میں مزدور اور کسان کو شریک کرے گی تاکہ سرمایہ دار اور جاگیردار محنت کش طبقے کا استحصال نہ کرسکیں ۔ 2018 ء کے انتخابات کرپٹ مافیا کے لیے یوم حساب ہو نگے ۔ عوام کرپشن اور لوٹ مار کے اس نظام سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارے کے لیے جماعت اسلامی کی دیانتدار قیادت کا ساتھ دیں۔

مزید : صفحہ آخر