ذوالفقار چیمہ سول سرونٹس کیلئے رول ماڈل، انکی کتاب پڑھ کر عمل بھی کرنا چاہیے: مقررین

ذوالفقار چیمہ سول سرونٹس کیلئے رول ماڈل، انکی کتاب پڑھ کر عمل بھی کرنا ...

  



لاہور(فلم رپورٹر)ممتاز صحافی، روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی نے کہا ہے کہ ذوالفقار چیمہ جہاں بھی گئے تبدیلی لائے، انہوں نے ہر ادارے کو ٹھیک کر کے دکھایا۔ جو خوبی ان کے پاس ہے اللہ نے بہت کم لوگوں کو عطا کی ہے۔ عمومی طور پر کالموں کی زندگی کم ہوتی ہے لیکن ان کے کالم بار بار پڑھے جاتے ہیں یہ سیاست، صحافت اور سول سروس کے لئے مشعل راہ ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیوٹیک کے سربراہ اورسابق انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار چیمہ کی کتاب’’دو ٹوک‘‘کی تقریب رونمائی کے موقع پرکیا۔اس تقریب میں لاہور آرٹس کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیپٹن (ر)عطاء محمد خان،ڈاکٹر صغریٰ صدف،امجد اسلام امجد، شفیق الرحمن،چو دھری شفیق احمد شریک تھے۔۔ تقریب کی صدارت لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اللہ نوازنے کی ۔ میزبانی کے فرائض ممتاز شاعرہ اور کالم نگارصوفیہ بیدار نے انجام دیئے ۔مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ ان میںیہ صلاحیت اور جرات ہے کہ یہ چیف جسٹس ہویاآرمی چیف یا وزیر اعظم، سب کو مخاطب کر کے دو ٹوک انداز میں غلطیوں کی نشاندہی کرسکتے ہیں ۔ اس لئے کہ ان کا کردار بے داغ ہے اور ان کے دل میں صرف ملک کی محبت ہے۔ذوالفقار چیمہ نے پوری سروس میں ہر جگہ قانون کی حکمرانی قائم کر کے دکھائی ۔ وہ روشن ضمیر اور با کردار سول سرونٹ ہیں جو پوری سول سروس کیلئے رول ماڈل ہیں۔ ملک کو ان جیسے افسروں کی ضرورت ہے۔ اُن کی کتاب ’’دو ٹوک‘‘ہر ادارے کی رہنمائی کرتی ہے۔ تحریر بڑی دل پذیر اور دلچسپ ہے۔ ذوالفقار چیمہ نے پوری سروس میں نا مساعد حالات میں بھی ہر جگہ قانون کی حکمرانی قائم کر کے دکھائی وہ ایک روشن ضمیر اور باکردار سول سرونٹ ہیں،جو نوجوان سول سرونٹس کیلئے رول ماڈل سمجھے جاتے ہیں۔ تقریب کے صدر لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اللہ نواز نے کہا کہ مصنف کے بڑے بھائی جسٹس افتخار احمد چیمہ کی دیانتداری بھی مثالی تھی ، یہ سارے بھائی نیک نام ہیں اس لئے میں نے یہ کتاب چار دفعہ پڑھی او ر پھر پڑھنے کو دل کرتا ہے۔ چیمہ نے یہ کتا ب دل سے لکھی ہے۔ حقیت یہ ہے کہ حرف خود کچھ بھی نہیں جب تک معاشرے کے لوگ حرف کی حرمت پر اکٹھے نہ ہو جائیں۔ سب لوگوں کویہ کتاب بڑھ کر اس پر عمل بھی کرنا چاہیے۔ممتاز شاعر اور ڈرامہ نگار امجد اسلام امجد نے کہاکہ ان کی تحریوں سے جو تصویر بنتی ہے اس سے خود مصنف مطابقت رکھتا ہے۔ وہ ایسے افسر ہیں جن کی صداقت اور کردار کی گواہی انکے مخالفین بھی دیتے ہیں۔ پولیس سروس میں بھرپور نیک نامی کمانے کے بعد بطور کالم نگار اور دانشور ذوالفقار چیمہ کی صلاحیتوں سے خوشگوار حیرت ہوتی ہے ۔ ان کے کالموں میں کچھ تصویروں کو بہت احتیاط مہارت اور فکری گہرائی سے پینٹ کیا گیا ہے ۔ " خدارا ! پاکستانیوں کو تقسیم نہ کریں ذوالفقار چیمہ نے دنیاوی ترقی اور مالی فوائد کو بالا طاق رکھتے ہوئے قانون کی حکمرانی قائم کی۔گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر خلیق االرحمن نے کہا کہ میرا تعلق سائنس سے ہے مگر چیمہ صاحب کی کتاب اتنی آسان ، دلچسپ اورمفیدہے کہ میں اس کو پڑھنے پر مجبور ہو گیا۔سابق سیکرٹری اطلاعات منصور سہیل نے کہا کہ ان کی کتاب سے ان کی حب الوطنی اورصداقت کا اندازہ ہوتا ہے۔ میں ایف پی ایس سی کا ممبر رہا اور سی ایس ایس کے انٹرویوز دینے والے اکثر نوجوان انہی کو اپنا رول ماڈل قرار دیتے ہیں۔یہ اپنے کردار سے پوری سول سروس کے لئے رول ماڈل ہیں ۔ معاشرے میں تبدیلی کے لئے ایسے افراد کی اشد ضرورت ہے۔ دو ٹوک میں زندگی کے مختلف پہلوووں کو روشناس کرایا گیاہے۔ ان کی تحریر پڑھ کر پطرس بخار ی اور شفیق الرحمن کی یاد آتی ہے۔جتنی جرات سے دو ٹوک بات چیمہ صاحب کر تے ہیں یہ انہی کا خاصہ ہے۔نوائے وقت کے چیف نیوز ایڈیٹر دلاور چو دھری نے کہا کہ ذوالفقار احمد چیمہ نے پہلے پولیس کو عزت دی اور اب صحافت میں آکر صحافت کی شان بڑھائی ہے۔آپ جس بھی محکمے میں گئے اسے عروج پر پہنچا دیا۔علامہ محمد اقبالؒ کے پوتے ولید اقبال نے کہاکہ ان کی کتاب میں موجود روحانی ، اصلاحی اور ادبی اقدار اقبال سے مماثلت رکھتی ہیں۔ انہوں نے بڑی خوبصورت تحریر لکھی ہے۔ انہوں نے بتا دیا کہ" ہمارے ابا جی نے ہمیں حلال اور حرام کی تمیز سیکھائی اور فرق بتایا، کچھ باتوں سے اور زیادہ عمل سے" جو باتیں سو سال پہلے علامہ اقبال نے کی تھیں ان پر چیمہ صاحب عمل کر رہے ہیں ۔سینئر بیوروکریٹ کیپٹن عطامحمد نے کہا کہ ذوالفقار چیمہ کا خمیر مارکیٹ میں نہیں پایا جاتا ۔وہ ’’آئین جواں مرداں حق گوئی و بے باکی، اللہ کے شیروں کو آئی نہیں روباہی‘‘کی تصویر ہیں۔ڈاکٹر امجد ثاقب نے کہا کہ چیمہ صاحب کی شخصیت ایک دوست ، پولیس افسر ادیب، دانشور ور محب الوطن کی حثیت سے ہمارے دل میں ہے۔ان کی بہادری ، جرات ، سچائی، راست گوئی اور دردمندی اورحب الوطنی سے سب واقف ہیں۔اس کتاب میں روانی بھی ہے اور دردمندی بھی،ماضی بھی ہے اور مستقبل کے خواب بھی،ان کی تحریر میں ہر جگہ اقبال کا دل دھڑکتا نظر آتا ہے۔میں حیران ہوتا تھا کہ اس معاشرے میں چیمہ جیسے لوگ کیسے پیدا ہوتے ہیں؟ پھر کتاب پڑھ کر جواب مل گیا کہ انہیں اپنے والد صاحب کی تربیت نصیب ہوئی جو ان کے رول ماڈل تھے۔سابق سی سی پی او چو دھری شفیق احمد نے کہاکہ ان کی تحریر اور ان کے عمل میں کوئی فرق نہیں، میری جتنی بھی چیمہ صاحب سے ملاقاتیں ہوئیں ان سب میں چیمہ صاحب نے پاکستان کو نکھارنے کا تذکرہ ضرور کیا۔ ملک میں اعلیٰ اقدار پر عمل کر نے والا ان جیسا کوئی افسر نظر نہیں آتا ، اس لیے لوگ انہیں آئیڈیل مانتے ہیں۔ممتاز کالم نگار لطیف چو دھری نے کہاکہ ایڈیٹر ہونے کے ناطے کالم نگار کی تعریف کرنا مشکل ہوتا ہے مگر ذوالفقار چیمہ ایسے بے باک اور ذہین لکھاری ہیں جن کی تعریف کئے بغیر میں رہ نہیں سکتا۔وہ حساس موضوعات کا بھی خوبصورتی سے احاطہ کرتے ہیں۔ممتاز شاعرہ ڈاکٹر صغریٰ صدف نے کہاکہ ہمارے درمیان ایک ایسا افسر موجود ہے جسکی پیروی کی جا سکتی ہے۔ چیمہ صاحب کی تمام زندگی انسانوں سے پیار کرنے والے محب الوطن اور سچے انسان کی ہے۔ اگر چیمہ صاحب جیسے چند اور لوگ موجود ہوں تو ہمارے ملک ایک مثالی ملک بن جائے گا۔ذوالفقار احمد چیمہ نے کہا کہ قلم اور کتاب کا سفر جاری رہنا چاہئے ۔ قلم سے ناطہ ٹوٹ جائے تو قومیں زوال پذیر ہوتی ہیں۔کتاب ہاتھ سے گر جائے تو معاشرت ، توازن اور حسن سے محروم ہو جاتے ہیں۔ حرف لکھنا ہے تو اُس کے آداب سیکھناا ہوں گے، قلم اُٹھانا ہے تو اُس کے نقاضے بھی پورے کرنا ہوں گے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں قانون کی حکمران قائم ہو تو ہمیں حرف کی حُرمت قائم کرنا ہوگی۔اولڈ راوینز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری شہباز شیخ نے کہاکہ چیمہ صاحب نے ہر جگہ قانو ن کی حکمرانی قائم کی اور پولیس کو غیر جانبدار رکھا ۔یہی وجہ ہے کہ ہر طبقہ فکر کے لوگوں نے ان پر اعتماد کیا۔تقریب میں بڑی تعداد میں ماہرین تعلیم دانشوروں سرکاری افسروں اساتذہ وکلاء صنعتکاران اور نوجوانوں نے شرکت کی۔

مزید : صفحہ آخر