کرپٹ اشرافیہ کے سرغنہ نواز شریف اب عدلیہ اور فوج کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں: پرویز خٹک

کرپٹ اشرافیہ کے سرغنہ نواز شریف اب عدلیہ اور فوج کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں: پرویز ...

پشاور(این این آئی)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی جدوجہد کا بنیادی مقصد نظام کی تبدیلی ہے اور اسی مقصد کیلئے باشعور نوجوانوں نے پی ٹی آئی کی قیادت پر اعتماد کیا تھا۔بحیثیت قوم ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ منصفانہ اور شفاف نظام کے بغیر کوئی بھی قوم اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہو سکتی ۔یہ ایسی اٹل حقیقت ہے جس پر دُنیا کی تاریخ شاہد عادل ہے ۔پاکستان کے مسائل کی بنیادی وجہ کرپٹ حکمران ہیں جنہوں نے ذاتی مقاصد کیلئے قومی سلامتی کو داؤ پر لگا دیا۔کرپٹ اشرافیہ کے سرغنہ نااہل نواز شریف اب عدلیہ اور فوج کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں ۔ ملک کے غریب عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے اشرافیہ کے رحم وکر م پر تھے ا طویل عرصے بعد عمران خان کی صورت میں قوم کو مخلص لیڈر ملا۔جس کا مشن ملک سے کرپٹ اشرافیہ اور ڈاکو راج کا خاتمہ کرنا ہے ۔لوٹ مار اور پاکستان مزید ایک ساتھ نہیں چل سکتے ۔ اب قوم کی تقدیر اُس کے اپنے ہاتھ میں ہے قوم نے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے ۔ غریب کی ذلت ورسوائی کے خاتمے اوراُس کے حقوق کے تحفظ کیلئے عمران خان کا ساتھ دینا ہوگاکیونکہ عمران خان کی کوئی ذاتی جنگ نہیں ۔ وہ عام آدمی کے حقوق کیلئے کھڑا ہے اور موجودہ صوبائی حکومت نے ساڑھے چار سال پی ٹی آئی کے منشور کے مطابق عام آدمی کی عزت کی بحالی اور اُس کے حقوق کے تحفظ کیلئے دیر پا اقدامات کئے ہیں جن کی بدولت ہم دوبارہ اقتدار میں آکر غریب دشمن اشرافیہ کا مکمل خاتمہ کریں گے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع کوہاٹ کے ایک روزہ دورہ کے دوران یونین کونسل جرمہ میں عوامی اجتماع جبکہ شیخ اﷲ داد زیارت کے علاقہ پستہ سنڈا میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مقررین نے وزیراعلیٰ کے دورہ کو علاقے کی ترقی کیلئے نیک شگون قرار دیا۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر جرمہ ، گنڈیالی، بیزادی ، چکر کوٹ اور شاہ پور کے عوام کوسیکشن فور ختم کرکے زمین کے مالکانہ حقوق دینے کا اعلان کیااور عندیہ دیا کہ آئندہ ایک سال کے اندر تمام انتقالات مکمل کرلئے جائیں گے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ یہ سب اقتدار کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ روٹی ، کپڑا ، مکان ،اسلام اور پختونوں کے نام پربظاہر پرکشش مگر حقیقتاً کھوکھلے نعروں کے ذریعے غریب عوام کی ہمدردیاں سمیٹی گئیں اور اقتدار میں آنے کے بعد غریب کو اُس کے حال پر چھوڑ دیا گیاپرویز خٹک نے افسوس کا اظہار کیا کہ پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بنانے والے اپنے دور میں بالکل غافل رہے۔کیااُنہیں اُس وقت یہ سکول نظر نہیں آئے۔ امیر اور غریب کیلئے الگ پیمانہ کیوں بنایا گیا ۔امیر کے بچے ائرکنڈیشن کمروں اور بہترین سہولیات سے آراستہ ماحول میں تعلیم حاصل کریں اور غریب کے بچے کیلئے ٹوٹی پھوٹی عمارتوں میں دو کمرے ، دو اُستاد اور چھ کلاسز ،یہ غریب کے ساتھ کتنا بڑا ظلم تھا۔کیا غریب کا وسائل پر کوئی حق نہیں ۔ آخر اس کا استحصال کیوں کیا گیا۔ پیداگیر سیاستدان اس قومی جرم پر جوابدہ ہیں ۔ وزیراعلیٰ نے حکومت کے اسلامی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اس صوبے میں ایم ایم اے نے بھی اسلام کے نام پر حکومت بنائی مگر وہ کوئی ایک کام بھی نہیں بتا سکتے جو اسلام کیلئے کیا ہو۔ موجودہ حکومت نے جہیز اور سود کے خلاف قانون سازی کی ۔علماء کے مطالبے پر یکم محرم کی چھٹی منظورکی ۔ رشوت کے خاتمے کیلئے قابل عمل قوانین بنائے۔سکولوں میں پرائمری کی سطح پر ناظرہ قرآن جبکہ چھٹی سے بارہوویں تک ترجمہ قرآن کو نصا ب کا حصہ بنایا۔ نصاب میں غلطیوں کو دور کیااور مزید اسلامی تعلیمات و اقدار کیلئے پرعزم ہیں۔ اس سلسلے میں علماء سے تجاویز طلب کی گئی ہیں۔مساجد کی سولرائزیشن کی جارہی ہے ۔ تاریخ میں پہلی بار جامع مساجد کے آئمہ کو سرکاری طور پر اعزازیہ دینے جارہے ہیں ۔ ہمارے اس اقدام سے مولانا فضل الرحمن کے پیٹ میں مروڑاُٹھ رہے ہیں کیونکہ اُن کو اب مسجد پر سیاست کا موقع نہیں ملے گا۔ وزیراعلیٰ نے شعبہ پولیس میں اصلاحات کا بھی حوالہ دیا اور کہاکہ ہمیں فخر ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس ایک فورس بن چکی ہے ۔سیاسی تبادلے و تعیناتیاں اور پولیس کے بل بوتے پر سیاستدانوں کی بد معاشی ماضی کا حصہ بن چکی ہے ۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار دیوانی مقدمات کا فیصلہ ایک سال میں یقینی بنانے کیلئے 108 سال کے بعد سول پروسیجر ایکٹ کے رولز میں ترمیم کی گئی ہے ۔ پرویز خٹک نے کہا کہ صوبائی حکومت کی کارکردگی کی بدولت صوبے بھر میں تحریک انصاف کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ سوات دھماکے کے شہید کیپٹن جازب کے اہلخانہ سے اظہار تعزیت کیلئے شہید کے گھر کوہاٹ ٹاؤن شپ گئے۔وزیراعلیٰ کچھ دیر وہاں رکے اور لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے شہید کے درجات کی بلندی کیلئے دُعا بھی کی ۔

مزید : صفحہ آخر