نیب صوبے میں 1ارب درخت لگانے کی تحقیقات کرے: آفتاب شیر پاؤ

نیب صوبے میں 1ارب درخت لگانے کی تحقیقات کرے: آفتاب شیر پاؤ

  



چارسدہ (بیورو رپورٹ) قومی وطن پارٹی کے مرکز ی چیئر مین آفتاب شیر پاؤ نے کہا ہے کہ نیب صوبے میں ایک ارب 15کروڑ درخت لگانے کے دعوے کی شفاف تحقیقات کریں تاکہ دوددھ اور پانی کا پانی ہو جائے ۔ خیبر پختون خوا کے ہیلی کاپٹر کی مبینہ غیر قانونی استعمال کے الزام کی تحقیقات بھی ہونی چاہیے۔ مشال خان کے کیس فیصلہ پر ان کے خاندان کے افراد مطمئن نہیں۔ مشال خال قتل کیس کا مرکزی ملزم تحصیل کونسلر جبکہ کوہاٹ کے عاصمہ رانی کے مبینہ قاتل بھی پی ٹی آئی ہی کے رہنماء ہے ۔ عمران خان نے خیبر پختونخوا پولیس کے مثالی قربانیوں کے باوجود ان کی کوئی خدمت نہیں کی۔ فرانزک لیبارٹری کا عدم قیام پی ٹی آئی حکومت کی ناکام پالیسی ہے ۔ عمران خان نے خیبر پختونخوا حکومت کو جنگ کا ایندھن بنا کر پنجاب میں اکثریت حاصل کرنے کیلئے استعمال کر رہا ہے ۔ میٹرو کو چارسال تک جنگلہ بس کہنے والوں نے پشاور میں بی آ رٹی کا آغاز کرکے پشاور کے لوگوں کو بد حال کیا ہے ۔ یہ منصوبہ کسی صورت پی ٹی آئی حکومت میں مکمل نہیں ہو سکتا ۔ وہ شیر پاؤ میں حیات محمد خان شیر پاؤ کے 43ویں برسی کے حوالے سے منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے ۔ جلسہ سے قومی وطن پارٹی کے مرکزی رہنماء انیسہ زیب طاہر خیلی ، صوبائی چےئرمین سکند رحیات خان شیر پاؤ اور مزدو ر کسان پارٹی کے مرکزی چےئرمین افضل شاہ خاموش نے بھی خطاب کیا جبکہ اس موقع پر معراج ہمایون ، ایم پی ایز ارشد خان عمر زئی ، بخت بیدار خان ، خالد خان مہمند اور سابق سنیٹر عٖفران خان بھی موجو د تھے جبکہ پارٹی کے صوبائی رہنماء فقیر حسین لالا ، عارف پراچہ ، پیر رحمان اللہ ، کے علاوہ پنجاب ، سندھ ، خیبر پختونخوا کے عہدیداروں ، خواتین ، وکلاء ، اساتذہ ، یوتھ ، اقلیت اور کارکنوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔ برسی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے قومی وطن پارٹی کے مرکزی چےئرمین آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے سابق گورنر حیات محمد خان شیر پاؤ کو خراج عقیدت پیش کر تے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی جان کی قربانی دیکر پختون قوم کا نام فخر سے بلند کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان کے ساتھ مثالی تعلقات کا قیام وقت کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اس خطے کو در پیش صورتحال میں بہتر ی اس وقت آسکتی ہے جب دونوں کے درمیان غلط فہمیوں کا خاتمہ ہوں اور ایک ہمسایے کی حیثیت سے ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوں۔ انہوں نے کہاکہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت میں اضافہ وفود کے تبادلے اس بات کی عکاسی کر تے ہیں کہ دونوں کے درمیان تعلقات کو مزید بہتر بنایا جائے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سی پیک منصوبہ میں افعانستان کو شریک کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک خود مختار ملک ہے جس کی اپنی خارجہ پالیسی ہے ۔ اور برابری کی بنیاد پر ہمسایوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنا ضروری ہے مگر ایک سپر طاقت کی ایماء پر یہاں ہمسایہ ملک بھارت کا تسلط قائم کرنا کسی صورت قبول نہیں ۔ انہوں نے فاٹا کے فوری انضمام اور آئندہ انتخابات سے پہلے ان کو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دینے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہاکہ فاٹا میں محض سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کو وسعت دینا کافی نہیں بلکہ انضمام کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں تاکہ فاٹا کے عوام میں پائی جانیوالی احساس محرومی کا خاتمہ ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت آئی ہے چھوٹے صوبوں کو نظر انداز کیا ۔ آج بھی این ایف سی ایوآرڈ اور سی پیک میں ہمیں اپنا حق نہیں مل رہا ہے ۔ یہ محرومیت جو عر صہ دراز سے دی گئی اب اس کا آزالہ ضروری ہے ۔ نقیب اللہ محسود کے ملزم کی گرفتاری کیلئے جو دھرنا دیا گیا ہم نے اس کی مکمل حمایت کی ۔ حکومت نے اب ان کے مطالبات تسلیم کئے ہیں مگر ہم اس وقت مطمئن ہونگے جب ان کے تمام مطالبات پر عمل در آمد بھی ہو ۔ انہوں نے کہاکہ احساس محرومی کے خاتمے کیلئے وفاق ایسے اقدامات کریں جس کے نتیجے میں ہم واضح طور پر کوئی تبدیلی محسوس کریں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان خیبر پختونخوا کے حکومت کو جنگ کا میدان بنا چکے ہیں اورا س کے ذریعے سے وہ پنجاب میں اکثریت حاصل کرنے کے خواب دیکھ کر ملک کا وزیر اعظم بننا چا ہتے ہیں لیکن اگر وہ ایک صوبے کو نہ چلا سکے تو پورے پاکستان کو کیسے چلائینگے ۔ سوشل میڈیا پر بڑے بڑے دعوے کرنا کافی نہیں ۔ تبدیلی وہ ہوتی ہے جو نظر آسکے ۔ انہوں نے کہاکہ ایک ارب 15کروڑ درخت درخت لگانے کے دعوے کی نیب تحقیقات کریں اور اس میں جو دھاندلی ہوئی ہے وہ منظر عام پر لے آئیں ۔ نیب ان کے ہیلی کاپٹر کے غلط استعمال کے تحقیقات کو اپنے منطقی انجام تک پہنچائیں تاکہ دوددھ کا دودھ او ر پانی کا پانی ہو جائیں ۔ انہوں نے کہاکہ مر دان کے معصوم بچی آسماء کے قتل کی تحقیقات پنجاب کے فرانزک لیبارٹری سے ممکن ہوئی ۔ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے کہا کہ عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کے قتل کیس کے فیصلہ پر ان کے خاندان کے افراد مطمئن نہیں۔ مشال خال قتل کیس کا مرکزی ملزم پی ٹی آئی کا تحصیل کونسلر جبکہ کوہاٹ کے عاصمہ رانی کے مبینہ قاتل بھی پی ٹی آئی ہی کے رہنماء ہے ۔ عمران خان نے خیبر پختونخوا پولیس کے مثالی قربانیوں کے باوجود ان کی کوئی خدمت نہیں کی کیونکہ پنجاب پولیس کے شہداء کا پیکج آج بھی خیبر پختونخوا پولیس سے کافی زیاد ہے ہے ۔ فرانزک لیبارٹری کا عدم قیام پی ٹی آئی حکومت کی ناکام پالیسی ہے ۔ عمران خان نے خیبر پختونخوا حکومت کو جنگ کا ایندھن بنا کر پنجاب میں اکثریت حاصل کرنے کیلئے استعمال کر رہا ہے ۔ میٹرو کو چارسال تک جنگلہ بس کہنے والوں نے پشاور میں بی آ رٹی کا آغاز کرکے پشاور کے لوگوں کو بد حال کیا ہے ۔ یہ منصوبہ کسی صورت پی ٹی آئی حکومت میں مکمل نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا کہ وفاقی سطح پر بھی تصادم کی جو فضا ء بنی ہوئی ہے اس سے نکلناضروری ہے کیونکہ اداروں کے ٹکراؤ کا فائدہ ہمیں یا جمہوریت کو نہیں بلکہ کسی او ر کو ہو گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ 2018کے انتخابات بر وقت اور شفاف کرائے جائیں۔ جمہوریت کے استحکام کیلئے پہلے بھی اپنی کو ششیں کر چکے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں نگے ۔

مزید : صفحہ آخر