انسانی حقوق کیلئے ’’مردانہ وار ‘‘ لڑنے والی عاصمہ جہانگیر رخصت ہوگئیں

انسانی حقوق کیلئے ’’مردانہ وار ‘‘ لڑنے والی عاصمہ جہانگیر رخصت ہوگئیں

  



لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک ، سٹی رپورٹر ،نیوز ایجنسیاں) معروف قانون دان اور انسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر 66 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں۔عاصمہ جہانگیر کو طبیعت خراب ہونے پر فیروز پور روڈ پر واقع اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہوسکیں۔اسپتال حکام کے مطابق عاصمہ جہانگیر کو بیہوشی کے عالم میں اسپتال لایا گیا اور ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے انہیں برین ہیمرج ہوا۔ ڈاکٹروں کے مطابق بھرپور کوشش کی گئی کہ ان کی حالت سنبھل جائے لیکن بیہوشی کے عالم میں ہی ان کا انتقال ہوا۔ خاندانی ذرائع کے مطابق عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ 13 فروری کو ادا کی جائے گی اور تدفین لندن میں مقیم بیٹی کی وطن واپسی کے بعد ہوگی۔ 66 سالہ عاصمہ جہانگیر 27 جنوری 1952 کو لاہور میں پیدا ہوئیں اور وہ سماجی کارکن اور انسانی حقوق کی علمبردار کے طور پر جانی جاتی تھیں۔نڈر، باہمت اور بے باک خاتون عاصمہ جہانگیر کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی پہلی خاتون صدر ہونے کا اعزاز حاصل تھا اور ججز بحالی تحریک میں بھی پیش پیش رہیں۔2007 میں ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد عاصمہ جہانگیر کو گھر میں نظربند کیا گیا لیکن اس کے باوجود وہ خاموش نہ بیٹھیں اور اس وقت کے صدر پروز مشرف کے فیصلے کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا۔عاصمہ جہانگیر کو 2010 میں ہلال امتیاز سے نوازا گیا جب کہ 1995 میں انہیں مارٹن انل ایوارڈ،، 2002 میں لیو ایٹنگر ایوارڈ اور 2010 میں فور فریڈم ایوارڈ سے نوازا گیا۔ عاصمہ جہانگیر آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح کے مقدمے میں بھی سپریم کورٹ میں پیش ہوئیں اور ا?خری مرتبہ انہوں نے 9 فروری کو عدالت کے روبرو پیش ہوکر دلائل دیے۔ معروف قانون دان اعظم نذیر تارڑ نے جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'عاصمہ جہانگیر مجھ سے فون پر بات کر رہی تھیں کہ انہیں دل کی تکلیف ہوئی اور ان کا فون زمین پر گرگیا'۔اعظم نذیرتارڑ کے مطابق فون پر گھر سے بچے کی چیخ کی آواز آئی اور دس سے 15 منٹ بعد معلوم ہوا کہ عاصمہ جہانگیر کو دل کی تکلیف ہوئی ہے۔لاہور ہائیکورٹ بار نے عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے جب کہ وکلا کل عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے۔صدر مملکت ممنون حسین نے قانون دان عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا اور کہا کہ قانون کی بالادستی اور جمہوریت کے استحکام کے لیے عاصمہ جہانگیر کا کردار ناقابل فراموش ہے۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے عاصمہ جہانگیر کی وفات پر کہا کہ بے زبانوں، بے سہاروں اور ظالموں کے ستائے ہوئے مظلوموں کی آواز خاموش ہو گئی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عاصمہ جہانگیر نے آمریت کو ڈٹ کر للکارا، آج ملک ایک نڈر، بہادر اور اصول پسند شخصیت سے محروم ہو گیا۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر اظہار افسوس کیا اور ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ عاصمہ جہانگیر کی انسانی حقوق کیلئے جدوجہد ناقابل فراموش ہے۔‘ مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف‘ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف‘ وزیراطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب‘ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان‘ معروف قانون دان اعتزاز احسن‘ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری‘ شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور دیگر شخصیات نے عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔ چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے اپنے تعزیتی بیان میں عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پوری زندگی قانون کی حکمرانی ‘ جمہوری اداروں کے تحفظ اور آئین کی بالادستی کے لئے جدوجہد کی۔ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مرحومہ کو قانون اور انسانی حقوق پر ان کی خدمات کیلئے تادیر یاد رکھا جائے گا۔ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ عاصمہ جہانگیر ایک بہادر اور دلیر خاتون تھیں انہوں نے جمہوریت کی بحالی اور خواتین کے حقوق کے لئے بے پناہ قربانیاں دیں۔ عاصمہ جہانگیر کی ملک کے لئے دی جانے والی قانونی اور معاشرتی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ عاصمہ جہانگیر کا انتقال ناقابل تلافی نقصان ہے۔ عاصمہ جہانگیر نے جمہوریت اور انسانی حقوق کیلئے بہادری سے جدوجہد کی۔ ان کا انتقال بہت بڑا دھچکہ ہے۔ عاصمہ جہانگیر ایک فرد نہیں انسانی حقوق کے لئے ایک موثر آواز تھیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ ملک ایک جمہوری شمع سے محروم ہوگیا۔ عاصمہ جہانگیر زندگی بھر جمہوریت اور قانون کی بالادستی کے لئے جدوجہد کرتی رہیں۔ پاکستانی قوم ایک دلیر بیٹی اور ماں کے انتقال پر غم زدہ ہے۔ عاصمہ جہانگیر کا نام تاریخ کے سنہری الفاظ میں لکھا جائے گا۔ عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر پیپلز پارٹی سوگ میں ہے۔

عاصمہ جہانگیر

مزید : صفحہ اول /رائے