مقبوضہ کشمیر: بھارتی فورسز کی فائرنگ سے زخمی 18سالہ صائمہ ہسپتال میں چل بسی

مقبوضہ کشمیر: بھارتی فورسز کی فائرنگ سے زخمی 18سالہ صائمہ ہسپتال میں چل بسی

  



سرینگر (اے پی پی)مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ ماہ ضلع شوپیان میں محاصرے اور تلاشی کی ایک کارروائی کے دوران بھارتی فوجیوں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والی لڑکی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے سرینگر کے ہسپتال میں چل بسی۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق 18سالہ صائمہ وانی24جنوری کو ضلع شوپیان کے علاقے چائی گنڈ میں بھارتی فوجیوں کی فائرنگ سے زخمی ہوئی تھی اور اس کوصورہ ہسپتال کے انتہائی نگہداشت والے وارڈ میں داخل کیا گیا تھا۔ بھارتی فوجیوں نے 24جنوری کو ایک کمسن بچے شاکر احمد میر سمیت تین نوجوانوں کو شہید اور دو لڑکیوں سبرینہ اور صائمہ وانی سمیت متعدد افراد کو زخمی کیا تھا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سبرینہ کی حالت بہتر ہے۔دریں اثناء حریت فورم کے چےئرمین میرواعظ عمرفاروق نے صائمہ کی موت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کشمیر میں خواتین اور بچوں سمیت کوئی محفوظ نہیں ہے۔

انہوں نے اتوار کوسرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ انہیں شوپیان کی صائمہ وانی کی شہادت پر دلی صدمہ ہواہے جس کے سر پر بھارتی فورسز نے گولی ماری تھی اور وہ گزشتہ دو ہفتوں سے ہسپتال میں موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا تھی ۔ادھر اتوار کو صائمہ کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

مزید : عالمی منظر