شہبازشریف کی سپریم کورٹ پیشی کی کہانی سینئر صحافی کی زبانی

شہبازشریف کی سپریم کورٹ پیشی کی کہانی سینئر صحافی کی زبانی

  



لاہور (کاشف شکیل سے) وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو عدالت میں طلبی کے موقع پر چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ زمین اس لئے خوبصورت ہے کیوں کہ یہاں زندگی ہے، اس زندگی کی حفاظت کریں ، انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو پینے کے صاف پانے کے حوالے سے 3ہفتے کے اندر اندر جامع پلان عدالت میں جمع کرانے کا بھی کہا۔وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی سپریم کورٹ رجسٹری میں پیشی کے بعد ’’ ڈیلی پاکستان لائیو ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اجمل جامی نے وزیر اعلیٰ پنجاب کی عدالت میں پیشی کے موقع پر عدالت کے اندر ہونے والے واقعات بیان کئے، اجمل جامی کا کہنا تھا کہ پیشی کے موقع پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے چیف جسٹس کے سامنے اپنے دور حکومت میں اپنی کارکردگی کا بار بار ذکر کیا، چیف جسٹس نے بار بار ان کی باتیں سن کر ان کی تعریف بھی کی اور کہا کہ جو ہوا سو ہوا، آپ بتائیں آپ نے اب کیا کیا؟کیوں کہ کئی ہزار گیلن گندہ پانی دریاؤں کی اور نہروں کی نظر ہو رہا ہے،جس سے نہ صرف فصلوں بلکہ انسانی صحت پر بھی بر ا اثر پڑتا ہے۔انہوں نے شہباز شریف کو پانی کی ایک بوتل بھی پیش کی جو انہیں کل اعتزاز احسن نے پیش کی تھی ، چیف جسٹس نے وزیر اعلیٰ سے پوچھا کہ کیا میں اور آپ یہ پانی کی بوتل پی سکتے ہیں؟۔میں نے اپنے چیمبر کا پانی بھی چیک کرایا اس میں بھی آرسینک کا لیول بہت زیادہ تھا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے آئی جی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے آپ نے تو نہیں کچھ کہا ، لیکن ایک ڈی ایس پی اور رینجرز اہلکار نے مجھے کہا کہ ہم آپ کو سکیورٹی دیتے ہیں، گھروں کی چھتوں پر 20،20بندے کھڑے کردیتے ہیں لیکن میں نے انہیں منع کردیا کیونکہ ان اقدامات سے میرے گھر کے آس پاس رہنے والے لوگوں کی زندگیاں اور ان کی پرائیویسی متاثر ہوتی ہے۔اجمل جامی کے مطابق چیف جسٹس نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے کہا کہ آئیں میرے ساتھ چلیں ہم دونوں لاہور کے ہسپتالوں کا دورہ کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ وہاں ایمرجنسی میں لوگوں کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے؟ آئیے شہباز شریف صاحب میرے ساتھ گاڑی میں بیٹھیں اور ہم کسی بھی ہسپتال کا دورہ کرتے ہیں ،اجمل جامی کا کہنا تھا کہ اس پر شہباز شریف نے چیف جسٹس سے کہا کہ آپ مجھے کچھ دیر دیں ، وزیر اعلیٰ کے اس جواب پر ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ نہیں اچانک دورہ کرتے ہیں تب آپ کو معلوم ہوجائے گا۔

اندرونی کہانی

مزید : صفحہ اول /رائے