متحدہ میں توڑ پھوڑ ، رابطہ کمیٹی نے فاروق ستار کو فارغ کردیا ، معزول سربراہ کا رابطہ کمیٹی تحلیل کرکے انٹر اپارٹی الیکشن کا اعلان

متحدہ میں توڑ پھوڑ ، رابطہ کمیٹی نے فاروق ستار کو فارغ کردیا ، معزول سربراہ ...

اسلام آباد،کراچی(نیوز ایجنسیاں) متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کی رابطہ کمیٹی نے الیکشن کمیشن میں سینیٹ کے انتخابات کے لیے امیدواروں کو ٹکٹ جاری کرنے کا اختیار واپس لینے کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار کو کنوینر کے عہدے سے بھی سبکدوش کرنے کا اعلان کر دیا۔کنور نوید جمیل نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فاروق ستار پر کئی الزامات ہیں اور ان کی غفلت کے باعث حالات اس نہج پر پہنچے ہیں۔ انھوں نے رابطہ کمیٹی کو اعتماد میں لیے بغیر پارٹی آئین میں تبدیلی کی جو کہ سنگین غداری ہے اور اب وہ کنوینر نہیں رہے ۔علاوہ ازیں الیکشن کمیشن کی جانب سے سینیٹ انتخابات میں پارٹی ٹکٹ جاری کرنے کے لیے ڈپٹی کنوینر خالد مقبول صدیقی کا اختیار قبول کرلیا گیا۔ میڈیارپورٹ کے مطابق صوبائی الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے آئین کے مطابق فاروق ستار کو پارٹی ٹکٹ جاری کرنے کا اختیار نہیں بلکہ خالد مقبول صدیقی کے دستخط سے پارٹی ٹکٹ قابل قبول ہوگا۔ رابطہ کمیٹی نے کامران ٹیسوری کے ساتھ مخالف گروپ پی آئی بی کے تمام سینیٹ امیدواروں کو بھی ٹکٹ جاری کر دیئے ہیں۔فاروق ستارنے کہا کہ ثابت ہوگیا مسئلہ سینٹ کے ٹکٹ کا نہیں ایم کیو ایم پر قبضے کا ہے۔بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے ۔ایک طرف سازش اور منصوبہ بندی ہورہی تھی تو دوسری جانب مصالحت کی بات کر رہے تھے۔ بہادر آباد نے ایم کیو ایم حقیقی ٹو کی بنیاد رکھ دی ہے ، عامر خان کے آنسو مگر مچھ کے ہیں ، سو سنار کی ایک لوہار کی ،میں بھی ان کو کرار جواب دوں گا ۔ مجھ سے برادران یوسف جیسا عمل کیا گیااور اب ان کا انجام بھی برادران یوسف جیسا ہوگا،یہ باتیں انہوں نے پی آئی بی میں اپنی رہائش گاہ کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہیں۔نوید جمیل نے بہادر آباد میں عامر خان، خالد ،مقبول صدیقی اور نسرین جلیل سمیت دیگر ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی سے دھوکے بازی کی ،ان کی کوتاہی سے پارٹی کی رجسٹریشن منسوخ ہوئی۔اس لئے ڈاکٹر فاروق ستار کو کنوینر کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ابھی نئے کنوینئر کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے عامر خان سینئر ڈپٹی کنوینر ہیں ، فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کے علم میں لائے بغیر پارٹی آئین تبدیل کیا، فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی اور وہ صورتحال دیکھ کر جھنجھلا گئے ہیں۔دریں اثنافاروق ستار نے رابطہ کمیٹی تحلیل کرتے ہوئے 17 فروری کو کے ایم سی گراؤنڈ پر انٹرا پارٹی انتخابات کا اعلان کردیا۔کے ایم سی گراؤنڈ میں کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے پاس زیادہ اراکین اسمبلی موجود ہیں اور اکثریت ان کے پاس ہے، عوام کی عدالت فیصلہ دینے والی ہے۔مٹھی کو مت کھولو، تقسیم نہ کرو، ایسا نہ ہو ساری طاقت بہادرآباد سے اٹھ کر پی آئی بی آجائے۔پہلے پارٹی کے انتخابات کا انعقاد کریں گے پھر الیکشن 2018 لڑیں گے۔ہم تصادم کا راستہ اختیار نہیں کریں گے اور پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے، نام نہاد رابطہ کمیٹی کو کہتا ہوں، سینیٹ الیکشن کو لات مارو اور میرے پاس آجاؤ۔دوسری جانب فاروق ستار کی برطرفی کے بعد خالد مقبول صدیقی نے کہا پی آئی بی کے فیصلے ایم کیو ایم کے فیصلے نہیں ہیں، فاروق ستار کے الزامات کا جواب دے چکے۔عامر خان نے کہا وہ کنوینر نہیں بنیں گے، اگر انہیں بننا ہوتا تو آج موقع تھا۔اس حوالے سے فاروق ستار کے گروپ میں شامل علی رضا عابدی نے کہا ہے کہ یہ مشکل کی گھڑی ہے، مشاورت جاری ہے، فاروق بھائی جلد کچھ فیصلے کرینگے۔

مزید : صفحہ اول /رائے