لاہور میں تمام رکاوٹیں ختم ، سپریم کورٹ کے حکم پر وزیراعلی و گورنر ہاؤس آئی جی آفس ، پنجاب اسمبلی جاتی امرا، جامامعہ القادسیہ ماڈل ٹاؤن میں شہباز شریف کی رہائش گاہ منہاج القرآن کے دفاتر ایوان عدل کے باہر سڑکیں کھول دی گئیں

لاہور میں تمام رکاوٹیں ختم ، سپریم کورٹ کے حکم پر وزیراعلی و گورنر ہاؤس آئی ...

  



 لاہور(نامہ نگار،خبر نگار، مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوز ایجنسیاں )لاہور(خبرنگار) چیف جسٹس آف پاکستان کی ہدایت کے بعدضلعی حکومت اور پولیس نے گورنرہاؤس، ماڈل ٹاؤن وزیراعلیٰ ہاؤس اور سابق وزیراعظم کی نجی رہائش گاہ جاتی عمرہ اورتعلیمی اداروں سمیت متعدد مقامات سے کئی سال سے قائم رکاوٹیں ختم کردی جس کے بعد مسدود راستے کھول دیے گئے۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار کے رکاوٹیں ختم کرنے کے نوٹس اور احکامات پر ضلعی حکومت اور پولیس حرکت میں آگئی جس کے بعد پچاس سے زائد ٹرک درجنوں کرینیں اور سینکڑوں اہلکاروں سمیت ضلعی حکومت کے سپیشل سکواڈ نے ہنگامی بنیادوں پر آپریشن شروع کردیا۔ جس میں مال روڈ پر گورنر ہاؤس اور ماڈل ٹاؤن میں وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ سمیت سابق وزیراعظم کی نجی رہائش گاہ جاتی عمرہ سے کئی گھنٹے سپیشل آپریشن کے دوران کئی سال سے قائم رکاوٹیں ختم کردی گئی۔ اس دوران آئی جی آفس، سی سی پی اور آفس اور ڈی آئی جی آپریشن سمیت سول سیکرٹریٹ کے ساتھ ساتھ متعدد سرکاری دفاتر کے باہر لگے سیکورٹی بیرئیرز چشم زدن میں ہٹا دیے گئے۔۔اس دوران سب سے اہم بات یہ دیکھنے میں آئی کہ پولیس افسران اور ہوم سیکرٹری سمیت دیگر اعلیٰ سرکاری افسران خود اس آپریشن کی نگرانی کرتے رہے جبکہ بعض عدالتی افسران اس بیرئیر ہٹاؤ آپریشن کی خفیہ مانٹرنگ کرتے رہے۔۔ اتوار کے روز کئی گھنٹے جاری رہنے والے اس آپریشن میں 50سے زائد ٹرکوں ، گاڑیوں اور درجنوں کرینوں سمیت سینکڑوں اہلکاروں نے حصہ لیا جبکہ پولیس اور ضلعی حکومت کے سپیشل سکواڈ سمیت ریسکیو، واسا اور سٹی گورنمنٹ کے اہلکاروں پر مشتمل ٹیمیں کئی گھنٹے تک آپریشن میں مصروف رہی جس کے بعد کئی سال سے اہم مقامات کے سامنے سیکیورٹی بیرئیرز جو کہ شہریوں کے لیے انتہائی مشکلات کاباعث تھے انہیں ہٹا کر کئی سال سے مسدود راستے کھول دیے گئے آپریشن کے بعد راہ گزرتے شہری چیف جسٹس آف پاکستان کے ازخود نوٹس اور رکاوٹوں کو ختم کرنے کے حوالے سے دیے گئے احکامات پر سراہتے رہے ۔ اس سے قبل چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار ،جسٹس منظور احمد ملک اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل 3رکنی بنچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سٹرکوں کی بندش ازخود نوٹس کیس میں جاتی امرا، وزیراعلیٰ اور گورنر ہاؤس سمیت دیگر متعددجگہوں سے 24گھنٹے میں فوری رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دے دیا تھا۔چیف جسٹس پاکستان نے حکم دیا کہ جاتی امرا ، گورنر ہاؤس، وزیراعلیٰ ہاؤس، ماڈل ٹاؤن، جامعہ قادسیہ، حافظ سعید کی رہائشگاہ، چوبرجی اور ایوان عدل سے آج رات تک رکاوٹیں ہٹائی جائیں اور ہوم سیکرٹری حلف دیں کہ رات تک تمام رکاوٹیں ہٹا دی جائیں گی۔اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری ہوم نے کہا کہ رکاوٹیں دھمکیاں ملنے کی وجہ سے لگائی گئیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ 'کیا مجھے دھمکیاں نہیں ملتیں؟ وزیراعلیٰ کو ڈرا دھمکا کر گھر میں نہ بٹھائیں اپنی فورسز کو الرٹ کریں۔چیف جسٹس پاکستان نے مزیدریمارکس دیئے کہ وزیر اعلیٰ عوامی آدمی ہیں اور انہیں کہنا چاہیے کہ شہباز شریف کسی سے نہیں ڈرتے، چیف جسٹس نے وزیراعلیٰ پنجاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ تو عوامی آدمی ہیں، آپ کو خود رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دینا چاہیے تھا، چیف جسٹس نے وزیراعلیٰ پنجاب سے استفسار کیا کہ کیوں وزیراعلیٰ صاحب ہم ٹھیک کر رہے ہیں جس پر شہباز شریف نے کہا کہ چیف جسٹس صاحب آپ ٹھیک کررہے ہیں۔چیف جسٹس نے مزیدکہا کہ ان معاملات کا مقصد سیاست کرنا نہیں، عدلیہ اور انتظامیہ مل کر عوامی حقوق کا تحفظ کریں۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سماعت کے موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور پنجاب کی بیوروکریسی کے اعلیٰ افسران بھی کمرہ عدالت میں موجود رہے جن میں رانا ثنااللہ، ترجمان پنجاب حکومت ملک احمد خان، خواجہ حسان، چیف سیکرٹری پنجاب، ڈی جی اینٹی کرپشن سمیت ڈی جی فوڈ اتھارٹی سمیت دیگر افسر شامل ہیں۔

رکاوٹیں ختم

مزید : صفحہ اول /رائے