من چلی

من چلی
 من چلی

  



وہ ابھی 21برس کی قانون کی طالبہ تھیں جب ان کے والد کو جنرل یحییٰ خان نے جیل میں ڈال دیاتھاوہ اپنے والد کی رہائی کیلئے پاکستان کے ایک سے بڑھ کر ایک بڑے وکیل کے پاس گئیں، سب نے جنرل یحییٰ خان کے خوف سے کیس لینے سے انکار کردیا۔انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ اپنے والدکا کیس خود لڑیں گی ، عدالت نے اجازت دی اور وہ کیس جیت گئیں۔پاکستان کی اس بہادر بیٹی نے نہ صر ف اپنے والد کو رہا کرایا بلکہ ڈکٹیٹر شپ کو عدالت سے غیر آئینی قرار دلوا کر پاکستان کی آئینی تاریخ میں ایک عظیم کارنامہ انجام دیا۔اسی کارنامے کی وجہ سے ذوالفقارعلی بھٹو کو سول مارشل لاء ختم کرنا پڑا اور ملک کا آئین فوری طور پر تشکیل دیا گیا۔اس لڑکی کا نام عاصمہ جہانگیر ہے۔یہ پاکستان میں ملک دشمنی، غداری اور اسلام مخالف ایک ایسا استعارہ بن چکی ہیں جسے گالی دینا گویا ایک روایت ہے ۔1983میں 13برس کی صفیہ بی بی سے بداخلاقی ہوئی اور وہ حاملہ ہوگئی،صفیہ بی بی کو عدالت نے جیل بھیج کر اس پر جرمانہ عائد کردیاکیونکہ وہ اپنے ساتھ ہونیوالی بداخلاقی کے گواہ نہیں لاپائی تھی اور ملزمان نے ثابت کردیا تھا کہ صفیہ بی بی نے اپنی رضامندی سے یہ گناہ کیا۔عاصمہ جہانگیرنے یہ کیس لڑا اور مظلوم صفیہ کو بچالیا، ضیاء الحق کے اس دورمیں عاصمہ جہانگیر نے ایک احتجاجی ریلی بھی نکالی ، جس پر پولیس نے تشدد کیا۔1993میں 14برس کے سلامت مسیح کو مذہب کی توہین کے جرم میں سزائے موت ہوگئی، ایسے حساس کیس کو کون لڑتا، اس موقع پر عاصمہ جہانگیر آگے آئی اور اس نے سلامت مسیح کے حق میں ایسے دلائل دیئے کہ عدالت کو ماننا پڑا کہ سزائے موت کا فیصلہ غلط تھا اور کچھ شرپسندوں نے مذہب کا نام استعمال کرکے ننھے بچے کو پھنسایا۔کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں کوئی عورت اپنی مرضی سے شادی نہیں کرسکتی تھی! پاکستان کا آئین یہ کہتا تھا کہ عورت کی شادی کیلئے اس کی مرضی ہو یا نہ ہو۔سرپرستوں کی مرضی لازمی ہے اور یہ بات بھلا عاصمہ جہانگیر کو کہاں برداشت ہوتی۔انہوں نے عدالت سے پاکستان کی عورت کو اس کا آئینی ومذہبی حق دلایا کہ وہ اپنی مرضی سے کہیں بھی شادی کرسکتی ہے ۔عاصمہ جہانگیرکی شخصیت کا اگر اندازہ کرنا ہوتو انکی بینظیر بھٹو سے مثالی دوستی اور مثالی مخالفت قابل ذکر ہے، بینظیربھٹو اور عاصمہ جہانگیر بچپن کی سہیلیاں تھیں مگر ہر دور میں عاصمہ جہانگیر نے بینظیر بھٹو کی زبردست سیاسی مخالفت کی۔پاکستان میں عورتوں اور اقلیتوں کیلئے لڑنے والی اس عورت کا معیار بہت عجیب ہے۔کچھ عرصہ قبل ٹم سبسٹن کو انٹرویو دیتے ہوئے مذہبی انتہا پسندی کی بدترین مخالف عاصمہ جہانگیرنے کہا کہ اگر طالبان کا بھی ماورائے عدالت قتل ہوا تو وہ طالبان کے حق میں آواز اٹھائیں گی۔ کیا کوئی عورت تصور کرسکتی ہے کہ سڑک پر اس کے ملک کے محافظ اس کے کپڑے پھاڑیں اور اور وہ بے بسی سے اپنے تن پر چادر ڈالنے کیلئے ادھر ادھر دیکھتی پھرے۔عاصمہ جہانگیر پر یہ وقت بھی گزرا ہے۔ جب ٹین ایجر تھی تو ایوب خان اور یحییٰ خان کیخلاف لڑیں، نوجوان ہوئیں تو ذوالفقارعلی بھٹو کے غلط اقدامات کیخلاف آوازاٹھائی،وہ ضیاالحق کیخلاف جمہوریت پسندوں کی ننھی ہیروئن کہلاتی تھیں،وہ اپنی بہترین سہیلی بے نظیر بھٹو سے لڑیں، انہوں نے نوازشریف کے اقدامات کو چیلنج کیا اور یہ پرویز مشرف کیلئے سوہان روح بن گئیں وہ کسی کی نہیں ہیں۔ان کے اپنے اصول ہیں اور یہ ان کے آگے کسی کی نہیں سنتیں۔وہ پاکستان کی بہادر عورت ، قوم کی ایک قابل فخر ماں ہے۔ ان سے اختلاف کیا جاسکتا ہے مگر اس کو غلط ثابت کرنا آسان نہیں ہے۔

مزید : رائے /کالم