ایڈیشنل ڈائریکٹر سٹاف نیب ملتان بیورو ممتاز باجوہ کا نام سینئر منیجمنٹ کورس کی فہرست سے باہر

ایڈیشنل ڈائریکٹر سٹاف نیب ملتان بیورو ممتاز باجوہ کا نام سینئر منیجمنٹ کورس ...

  



ملتان(نمائندہ خصوصی) اختیارات کا ناجائز استعمال، کرپشن کی شکایات اور غیر قانونی ترقی جیسے الزامات ایڈیشنل ڈائریکٹر سٹاف نیب ملتان بیورو احمد ممتاز باجوہ کے پاؤں کی زنجیربن گئے ہیں۔ چیئرمین نیب پاکستان کے احکامات پر احمد ممتاز باجوہ کا نام سینئر مینجمنٹ کورس کی فہرست سے (بقیہ نمبر21صفحہ12پر )

نکال باہر کردیا گیا ہے۔ 23 ویں سینئر مینجمنٹ کورس کی لسٹ سے نام خارج ہونے کے بعد احمد ممتاز باجوہ کا گریڈ 20میں ترقی کا خواب کوسوں دور چلاگیا۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر سٹاف اسلام آباد ہیڈ کوارٹر میں موجود تمام دوستوں، ہمدردوں کی تمام تر کوشش کے باوجود حتمی فہرست میں نام شامل نہ کرواسکے۔ بتایا جاتا ہے حکومت پاکستان کے رولز کے مطابق تمام وفاقی اور صوبائی محکموں کے انتظامی آفیسران کو گریڈ 20میں ترقی کیلئے سینئر مینجمنٹ کورس کی تربیت لازمی حاصل کرنا ہوتی ہے۔ اس مقصد کیلئے ہر محکمہ کا سربراہ اپنے گریڈ 19کے افیسران کا میرٹ پر انتخاب کرتا ہے ۔ اس کیلئے باقاعدہ چھان بین کی جاتی ہے۔ ترقی کے اہل افیسران کا سروس ریکارڈ چیک کیا جاتا ہے۔ تمام محکموں سے این ای سی حاصل کیا جاتا ہے۔ مکمل چھان پھٹک کے بعد گریڈ 19کے آفیسر کو سینئر مینجمنٹ کورس کی تربیت کیلئے روانہ کیاجاتا ہے۔ معلوم ہوا ہے نیب پاکستان کے افسران کا بھی انہیں قواعد پر انتخاب کیا جاتا ہے۔ اس مرتبہ جب سینئر سے 23ویں سینئر مینجمنٹ کورس کیلئے نیب پاکستان کے افسران کی فہرست تیار ہوئی تو متوقع امیدواروں میں ملتان بیورو میں تعینات ایڈیشنل ڈائریکٹر سٹاف احمد ممتاز باجوہ کا نام بھی شامل تھا۔ اسلام آباد ہیڈ کوارٹر میں موجود ان کے بہی خواہوں نے انہیں سینئر مینجمنٹ کورس کیلئے منتخب ہونے کی خوش خبری بھی سنادی۔ یہ بہی خواہ اسی گروپ میں شامل ہیں اسلام آباد ہیڈ کوارٹر میں موجود احمد ممتاز باجوہ کے مفادات کی نگرانی کرتے ہیں ان کیخلاف ہر آنے والی شکایت پر پردہ ڈالنا ان کے ہمدردوں کا اولین فرض ہے۔ ملتان میں محکمہ بلڈنگ کے آفیسر کی کوٹھی پر قبضہ کا سکینڈل بھی انہی ہمدردوں نے ہینڈل کیا اورتمام کیس پر مٹی ٹال دی۔ احمد ممتاز باجوہ نے ملتان تعیناتی کے بعد نیب کے انٹیلی جنس ونگ کے سربراہ ڈپٹی ڈائریکٹر قیصر کو اپنے سحر میں مبتلا کیا جس کے بعد انٹیلی جنس ونگ کے سربراہ احمد ممتاز باجوہ کے ہم نوالہ ہم پیالہ بن گئے۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر سٹاف اپنے محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کو تو قابو کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ لیکن اسلام ہیڈ کوارٹر ان کے تعلقات اور انتظامی نا اہلی اور مبینہ کرپشن کی شکایات مسلسل ملتی رہیں۔ جس کا نتیجہ اب برآمد ہوا۔ بتایا گیا ہے کہ احمد ممتاز باجوہ کی ترقی پر بھی سوالیہ نشان ہیں جس کے بارے میں انکوائری ہو رہی ہے۔ ان کی نیب میں انڈکشن کے بارے میں سوال موجود ہے۔ جب ان حالات کے بارے میں چیئرمین نیب پاکستان کو معلوم ہوا ہے تو انہوں نے احمد ممتاز باجوہ کا نام سینئر مینجمنٹ کورس کی حتمی فہرست سے نکال دیا۔صرف اسلام آباد ہیڈ کوارٹر ایڈیشنل ڈائریکٹرز طارق اور کرنل (ر) طارق محمود بھٹی کے نام سینئر مینجمنٹ کورس کیلئے بھجوادیئے۔ جب احمد ممتاز باجوہ کو علم ہوا تو انہوں نے اسلام آباد ہیڈ کوارٹر میں ڈیرہ لگادیئے۔ اپنے تمام تر وسائل ہمدردوں اور دوستوں کے استعمال کے باوجود انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ 23ویں سینئر مینجمنٹ کورس کی فہرست سے نام خارج ہونے کے بعد ایک طرف احمد ممتاز باجوہ کا گریڈ 20میں ترقی کا خواب ٹوٹ گیا۔ دوسری طرف اب انہیں سنگین نوعیت کے الزامات کی انکوائریوں کے خوف نے گھیر لیا ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر