متحدہ تقسیم،رابطہ کمیٹی نے خالد مقبول کو نیا کنویئر منتخب کر لیا،فاروق ستار نے رابطہ کمیتیکو ختم کر کے اختیارات واپس لے لئے ،17فروری کو نئے انٹراپارٹی انتخابات کرانے کا اعلان

متحدہ تقسیم،رابطہ کمیٹی نے خالد مقبول کو نیا کنویئر منتخب کر لیا،فاروق ستار ...

  



کراچی: (سٹاف رپورٹر ، نیوز ایجنسیاں) ، متحدہ پاکستان 2 دھڑوں میں تقسیم، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی رابطہ کمیٹی نے پارٹی کے سربراہ فاروق ستار کو کنوینر کے عہدے سے فارغ کر دیا ہے ،وہ پارٹی میں کارکن کی حیثیت سے کام کرتے رہیں گے۔بہادرآباد میں ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی کے اراکین کا اجلاس ہوا جس میں فاروق ستار کوکنوینر کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ڈپٹی کنوینر کنور نوید جمیل نے بہادر آباد میں عامر خان، خالد ،مقبول صدیقی اوع نسرین جلیل سمیت دیگر ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی سے دھوکے بازی کی ،ڈاکٹر فاروق ستار پر کئی چارجز ہیں ،رابطہ کمیٹی کے علم میں لائے بغیر پارٹی آئین تبدیل کیا، فاروق ستار کی کوتاہی سے پارٹی کی رجسٹریشن منسوخ ہوئی۔اس لئے ڈاکٹر فاروق ستار کو کنوینر کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ جبکہ خالد مقبول صدیقی کو نیا کنوینئر بنانے کا کیا عامر خان سینئر ڈپٹی کنوینر ہیں ۔ کنور نوید جمیل نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کے علم میں لائے بغیر پارٹی آئین تبدیل کیا، فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی، فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کو بتائے بغیر ارکان کو چننے اور فارغ کرنے کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے تھا۔انہوں نے کہا کہ خدمت خلق فانڈیشن (کے کے ایف) ایک فلاحی ادارہ ہے، فارو ق ستار اس کے چیف ٹرسٹی ہیں، لیکن کے کے ایف تباہ ہوگئی، رابطہ کمیٹی کہتی رہ گئی لیکن کچھ نہ کیا گیا۔ پورا کراچی سمجھا جارہا تھا لیکن فاروق ستار سمجھنے کو تیار نہ ہوئے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق ستار آج بھی ہماری پارٹی کے کارکن ہیں، پارٹی میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے، عہدے آتے جاتے رہتے ہیں، میں آج ڈپٹی کنوینر ہوں،چھٹی بار ڈپٹی کنوینر بنا، ہم نے تقسیم ختم کرنے کے لئے تمام شرائط ختم کردیں تھیں۔انہوں نے کہا کہ خالد مقبول صدیقی نے سینیٹ کے لئے امیدواروں کے خالی فارم بناکر دیئے ، ہم نے فاورق ستار کو کہا آپ جس کو چاہیں ، سینیٹر بنالیں۔کنور نوید جمیل نے کہا کہ ہماری کوشش تھی کہ گھر کی بات گھر میں ہی رہے، فاروق ستار پر بہت سارے چارجز ہیں، کچھ چارجز کا ذکر کررہا ہوں، فاورق ستار کی کوہاتی کی وجہ سے الیکشن کمیشن میں ایم کیوایم پاکستان کی رجسٹریشن منسوخ ہوئی۔انہوں نے کہا کہ رابطہ کمیٹی کے کئی بار کہنے کے باوجود گوشوارے جمع نہیں ہوسکے اور گوشوارے جمع نہ ہونے پر ایم کیوایم کی رجسٹریشن منسوخ ہوئی، فاروق ستار نے ہر سطح کے عہدیداروں کو شامل اور فارغ کرنے کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے لیا جبکہ کسی کو شامل کرنے اور نکالنے کا اختیار رابطہ کمیٹی کا تھا۔انہوں نے کہا کہ ٹکٹ دینے کا اختیار رابطہ کمیٹی کا تھا، جس میں تبدیلی کی گئی ، یہ ایک بڑا دھوکا یا بڑی بے قاعدگی ہے، آج نذیر حسین یونیورسٹی تباہ حالی کا شکار ہے، ملازمین کو کئی ماہ سیتنخواہیں نہیں ملیں، ہم کہتے رہے کوئی کب تک بغیر تنخواہ کیکام کرسکتا ہے پر فاروق ستار کے پاس وقت نہ تھا۔انہوں نے کہا کہ سینیٹ انتخابات کے لیے رابطہ کمیٹی میں ووٹنگ کی گئی، ہم روزانہ فاروق ستار کو منانے جارہے ہیں، رابطہ کمیٹی نے تقسیم سے بچنے کیلئے ڈپٹی کنوینر کو مینڈیٹ دیا، ہم آج بھی جانے کو تیار ہیں، کسی نے بھی فاروق ستار کے باریمیں کوئی تضحیک آمیز بات نہیں کی،22اگست کیبعد رابطہ کمیٹی نے طے کیا تھا کہ اب شخصیت کو نہیں تنظیم کو چلایاجائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم کراچی میں ماضی کی طرح کی کشیدگی نہیں چاہتے، پی آئی بی میں ہمارے خلاف نعرے لگائے گئے، وہ کارکنان نہیں تھے، ہمیں پتا ہے وہ بلائے گئے لوگ تھے، ورکرز اجلاس میں پی ایس پی اور آفاق احمد کو آنے کا کہا گیا، ایم کیو ایم کے ورکرز اجلاس میں پی ایس پی کا کیا کام ہے۔دوسری جانب خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ اب فاروق ستار پارٹی کے سربراہ نہیں ہیں اور پارٹی دفتر بہادرآباد میں ہے۔دوسری طرف بہادر آباد والوں کے جواب میں پی آئی بی والے نے بھی پریس کانفرنس کر ڈالی۔ فاروق ستار بولے، ثابت ہو گیا، مسئلہ ایک فرد کا نہیں، مسئلہ ایم کیو ایم پاکستان کی سربراہی کا ہے، سازش بے نقاب ہو گئی، بلی تھیلے سے باہر آ گئی، آج مجھے نہیں ایم کیو ایم کے ایک ایک وفادار کارکن کو نکالا گیا، میں پھر بھی نہیں کہوں گا مجھے کیوں نکالا؟ کیونکہ مسئلہ کسی کو سیٹ دینے کا نہیں تھا، مسئلہ سیٹ دینے کے اختیار پر قبضہ کرنے کا تھا، آج لاپتہ ساتھیوں اور شہیدوں کی قربانیوں سے انحراف کیا گیا، لاپتہ ساتھیوں کے خون کا سودا کیا گیا، الیکشن کمیشن کو غلط خط دیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ کل کہا گیا تھا کہ ہم میں سے کسی کو بھی کنوینر نہیں بننا، آج کنوینر کو ہی ہٹا دیا گیا ہے، جنرل ورکرز اجلاس میں کارکنوں کی عدالت فیصلہ دے گی، میں مفاد پرستوں کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ تھا، قبضہ مافیا کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ تھا، میرے ساتھ وہ سلوک ہوا ہے جو برادران یوسف نے ان کے ساتھ کیا تھا، برادران یوسف کا جو انجام ہوا تھا وہ تمہارے ساتھ ہو گا، اگر میں بااختیار ہوتا تو کیا مجھے نکال سکتے تھے بہادر آباد والے کہتے ہیں میری شرائط مان لی تھیں، میری تو کوئی شرط تھی ہی نہیں، تجاویز تھیں۔فاروق ستار نے جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب میں بہادر آباد والوں پر 22 اگست کے واقعے میں ملوث ہونے کا الزام لگا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کامران ٹیسوری کا مسئلہ ہوتا تو شب خون نہ مارا جاتا، وقت آ گیا ہے کہ اب پارٹی کے وڈیروں کو بھی پارٹی سے نکالا جائے۔فاروق ستار نے اپنے خطاب میں رابطہ کمیٹی کو فارغ کرنے کا اعلان کر دیا۔ اْن کا کہنا تھا کہ نام نہاد رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر اور اراکین کو آرٹیکل 6 جے کے تحت فارغ کر دیا ہے۔ فاروق ستار نے 16فروری کو انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا بھی اعلان کریا۔اس سے پہلے۔ الیکشن کمیشن نے ڈپٹی کنوینر خالد مقبول صدیقی کے دستخط شدہ پارٹی ٹکٹ قبول کرتے ہوئے بیرسٹر فروغ نسیم اور نسرین جلیل کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے۔کاغذات نامزدگی کی سکرونٹی کے دوران بیرسٹر فروغ نسیم نے صوبائی الیکشن کمشنر کو پارٹی آئین پیش کیا۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ پارٹی آئین کے مطابق ٹکٹ جاری کرنے کا اختیار رابطہ کمیٹی کے پاس ہے۔بیرسٹر فروغ نسیم اور نسرین جلیل کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے بعد فاروق ستار بھی الیکشن کمیشن آفس پہنچے۔ انہوں نے صوبائی الیکشن کمشنر کو پارٹی آئین کا آرٹیکل 6 اے اور 7 اے پڑھ کر سنایا۔ ان کا مؤقف تھا کہ وہ بطور کنوینر پارٹی ٹکٹ جاری کر سکتے ہیں۔ انہوں نے ٹکٹ کے ساتھ کنوینر کے توثیقی لیٹر کے ناگزیر ہونے پر بھی اصرار کیا۔ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ وہ قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔صوبائی الیکشن کمشنر نے فاروق ستار کا مؤقف مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ رابطہ کمیٹی نے ڈپٹی کنوینر کو ٹکٹ جاری کرنے کا اختیار دیا ہے، اس لئے خالد مقبول صدیقی کے دستخط والے ٹکٹ ہی منظور کئے گئے ہیں۔

مزید : کراچی صفحہ اول