متحدہ قومی موومنٹ پر ایک بار پھر کڑا وقت ،پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار

متحدہ قومی موومنٹ پر ایک بار پھر کڑا وقت ،پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار

  



کراچی (رپورٹ / نعیم الدین ) سندھ کی سیاست نے ایک بار پھر نئی کروٹ لے لی ، وہ تنظیم جس کا قائد صرف ایک اشارہ کرتا تھا تو پورے جلسہ گاہ میں خاموشی چھا جایا کرتی تھی، اس وقت اندرونی خلفشار کے باعث ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی ہے، پرانی ایم کیو ایم قصہ پارینہ بن گئی ہے، فاروق ستار کو ایم کیو ایم رابطہ کے کنوینر کے عہدے سے فارغ کردیا گیا، کارکن اور دیگر رہنما پریشان ہوگئے ہیں کہ یہ کیسا فیصلہ ہوا ہے کہ کارکنان کس کا ساتھ دیں، لوگوں کا کہنا ہے کہ کامران ٹیسوری کی آمد ایم کیو ایم کو ڈبونے کا سبب بنی، ان کی آمد سے متعدد رہنماؤں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور یہ خدشہ بھی ظاہر کیا تھا کہ نئے فرد کی آمد سے پارٹی کو نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ خدشات اس وقت مزید بڑھ گئے جب سینٹ کی سیٹوں کی ٹکٹوں کی تقسیم کا مرحلہ آیا ، جہاں فاروق ستار نے کامران ٹیسوری کے متعلق سوچنا شروع کیا اور انہیں سینٹ کا ممبر بنانے کیلئے رابطہ کمیٹی سے مشورہ کیا جس پر رابطہ کمیٹی نے انکار کردیا ، اور یہی وجہ اختلافات کی بنیاد بنی ۔ اندرونی خلفشار کی باعث ایم کیو ایم مزید دھڑوں میں تقسیم ہوگئی، ایک گروپ کا کہنا تھا کہ فاروق ستار اپنے طور پر فیصلہ نہیں کرسکتے ، جبکہ دوسرے گروپ جس میں عامر خان ، کنور نوید ، نسرین جلیل ، وسیم اختر، فیصل سبزواری اور رؤف صدیقی شامل تھے، اس گروپ نے فاروق ستار پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے کامران ٹیسوری کو ٹکٹ دینے کیلئے پارٹی کے آئین میں تبدیلی کی ہے، جو کہ پارٹی کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فاروق ستار کے عہدے سے فارغ کرنے کے بعد ایم کیو ایم جو کہ پہلے ہی زوال پذیری کا شکار ہے، آئندہ اس کے مستقبل پر کیا اثرات مرتب ہونگے ، اس کا اندازہ آنے والے الیکشن میں بخوبی ہوجائے گا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ تبدیلی ایک ایسے وقت میں لائی گئی ہے یعنی الیکشن میں چند ماہ رہ گئے ہیں۔ کچھ عرصے قبل بھی فاروق ستار روٹھ گئے تھے تو انہیں پارٹی رہنماؤں نے منانے کی کوشش کی تھی اور وہ کامیاب ہوگئے تھے ، گذشتہ چند دنوں سے جاری کشمکش میں آخر کار فاروق ستار کو کنوینر کے عہدے سے ہاتھ دھونے پڑے، فاروق ستار پر لگائے جانے والے الزامات کا جواب انہوں نے یہ کہہ کر دیا ہے کہ یہ مسئلہ ٹکٹوں کی تقسیم کا نہیں بلکہ ایم کیو ایم پر قبضہ کا ہے اس طرح ’’بلی تھیلے سے باہر آگئی ‘‘ ہے۔ اب عوام کو سوچنا یہ چاہیے کہ وہ ایسے لوگوں کا ساتھ نہ دیں جنہوں نے پارٹی پر زبردستی قبضہ کیا ہے ، میں یہ نہیں کہوں گا کہ ’’مجھے کیوں نکالا ‘‘ہے، البتہ میں یہ ضرور کروں گا کہ پارٹی کارکنوں کو نئے سرے سے منظم کرکے اپنے ساتھ ملاؤں گا ، میں تو یہ کہتا ہوں کہ اگر مجھے اتنا اختیار ہوتا تو آج مجھے کیوں نکالا جاتا۔ یہ حقیقت ہے کہ الیکشن میں چند مہینے رہ گئے ہیں اور کراچی میں دوسری سیاسی جماعتیں اپنی پوری قوت کے ساتھ شہر قائد پر قابض ہونے کے خواب دیکھ رہی ہیں، لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ ایم کیو ایم کے رہنما ان مشکل حالات سے کس طرح نبروآزما ہونگے، کیونکہ بانی تحریک پر پابندیوں اور ایم کیو ایم پاکستان بننے کے بعد متحدہ میں ایک بڑا خلاء محسوس کیا جارہا تھا، اور کارکنوں کی بھی خواہش تھی کہ فاروق ستار کنوینر رہیں، مگر اچانک خالد مقبول صدیقی کو رابطہ کمیٹی کا نیا کنوینر منتخب کرلیا گیا ، حالانکہ عامر خان گروپ کے ساتھ صوبائی اسمبلی کے اراکین کی بہت بڑی تعداد موجود ہے جو کہ سینٹ کے الیکشن میں ووٹ ڈالیں گے، اب دیکھنا یہ ہوگا کہ فاروق ستار نے جو نام دیئے تھے ان کا کیا ہوگا؟ اور کارکنوں کو آپس کی پھوٹ سے کس طرح بچا سکیں گے۔ ان کارکنان کی آئندہ الیکشن میں سخت ضرورت ہوگی۔ سیاسی حلقوں کا کہنا یہ ہے کہ کیا یہ تمام گروپ پھر سے متحد ہوسکیں گے؟ کیا فاروق ستار پی ایس پی کے سربراہ مصطفی کمال کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھائیں گے ؟ جبکہ سلیم شہزاد نے فاروق ستار سے ہاتھ ملا لیا ہے ۔ کیا فاروق ستار نئے سرے سے پارٹی کو تشکیل دینے میں کامیاب ہوجائیں گے؟

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی رابطہ کمیٹی نے پارٹی کے سربراہ فاروق ستار کو کنوینر کے عہدے سے فارغ کر دیا ہے ،وہ پارٹی میں کارکن کی حیثیت سے کام کرتے رہیں گے۔بہادرآباد میں ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی کے اراکین کا اجلاس ہوا جس میں فاروق ستار کوکنوینر کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ڈپٹی کنوینر کنور نوید جمیل نے بہادر آباد میں عامر خان، خالد ،مقبول صدیقی اوع نسرین جلیل سمیت دیگر ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی سے دھوکے بازی کی ،ڈاکٹر فاروق ستار پر کئی چارجز ہیں ،رابطہ کمیٹی کے علم میں لائے بغیر پارٹی آئین تبدیل کیا، فاروق ستار کی کوتاہی سے پارٹی کی رجسٹریشن منسوخ ہوئی۔اس لئے ڈاکٹر فاروق ستار کو کنوینر کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ابھی نئے کنوینئر کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے عامر خان سینئر ڈپٹی کنوینر ہیں ۔ کنور نوید جمیل نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کے علم میں لائے بغیر پارٹی آئین تبدیل کیا، فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی، فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کو بتائے بغیر ارکان کو چننے اور فارغ کرنے کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے تھا۔انہوں نے کہا کہ خدمت خلق فانڈیشن (کے کے ایف) ایک فلاحی ادارہ ہے، فارو ق ستار اس کے چیف ٹرسٹی ہیں، لیکن کے کے ایف تباہ ہوگئی، رابطہ کمیٹی کہتی رہ گئی لیکن کچھ نہ کیا گیا۔ پورا کراچی سمجھا جارہا تھا لیکن فاروق ستار سمجھنے کو تیار نہ ہوئے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق ستار آج بھی ہماری پارٹی کے کارکن ہیں، پارٹی میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے، عہدے آتے جاتے رہتے ہیں، میں آج ڈپٹی کنوینر ہوں،چھٹی بار ڈپٹی کنوینر بنا، ہم نے تقسیم ختم کرنے کے لئے تمام شرائط ختم کردیں تھیں۔انہوں نے کہا کہ خالد مقبول صدیقی نے سینیٹ کے لئے امیدواروں کے خالی فارم بناکر دیئے ، ہم نے فاورق ستار کو کہا آپ جس کو چاہیں ، سینیٹر بنالیں۔کنور نوید جمیل نے کہا کہ ہماری کوشش تھی کہ گھر کی بات گھر میں ہی رہے، فاروق ستار پر بہت سارے چارجز ہیں، کچھ چارجز کا ذکر کررہا ہوں، فاورق ستار کی کوہاتی کی وجہ سے الیکشن کمیشن میں ایم کیوایم پاکستان کی رجسٹریشن منسوخ ہوئی۔انہوں نے کہا کہ رابطہ کمیٹی کے کئی بار کہنے کے باوجود گوشوارے جمع نہیں ہوسکے اور گوشوارے جمع نہ ہونے پر ایم کیوایم کی رجسٹریشن منسوخ ہوئی، فاروق ستار نے ہر سطح کے عہدیداروں کو شامل اور فارغ کرنے کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے لیا جبکہ کسی کو شامل کرنے اور نکالنے کا اختیار رابطہ کمیٹی کا تھا۔انہوں نے کہا کہ ٹکٹ دینے کا اختیار رابطہ کمیٹی کا تھا، جس میں تبدیلی کی گئی ، یہ ایک بڑا دھوکا یا بڑی بے قاعدگی ہے، آج نذیر حسین یونیورسٹی تباہ حالی کا شکار ہے، ملازمین کو کئی ماہ سیتنخواہیں نہیں ملیں، ہم کہتے رہے کوئی کب تک بغیر تنخواہ کیکام کرسکتا ہے پر فاروق ستار کے پاس وقت نہ تھا۔انہوں نے کہا کہ سینیٹ انتخابات کے لیے رابطہ کمیٹی میں ووٹنگ کی گئی، ہم روزانہ فاروق ستار کو منانے جارہے ہیں، رابطہ کمیٹی نے تقسیم سے بچنے کیلئے ڈپٹی کنوینر کو مینڈیٹ دیا، ہم آج بھی جانے کو تیار ہیں، کسی نے بھی فاروق ستار کے باریمیں کوئی تضحیک آمیز بات نہیں کی،22اگست کیبعد رابطہ کمیٹی نے طے کیا تھا کہ اب شخصیت کو نہیں تنظیم کو چلایاجائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم کراچی میں ماضی کی طرح کی کشیدگی نہیں چاہتے، پی آئی بی میں ہمارے خلاف نعرے لگائے گئے، وہ کارکنان نہیں تھے، ہمیں پتا ہے وہ بلائے گئے لوگ تھے، ورکرز اجلاس میں پی ایس پی اور آفاق احمد کو آنے کا کہا گیا، ایم کیو ایم کے ورکرز اجلاس میں پی ایس پی کا کیا کام ہے۔دوسری جانب خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ اب فاروق ستار پارٹی کے سربراہ نہیں ہیں اور پارٹی دفتر بہادرآباد میں ہے۔

مزید : کراچی صفحہ اول