پنجاب کا وہ علاقہ جو انسانی سمگلروں کی شکار گاہ بن کر رہ گیا

پنجاب کا وہ علاقہ جو انسانی سمگلروں کی شکار گاہ بن کر رہ گیا
پنجاب کا وہ علاقہ جو انسانی سمگلروں کی شکار گاہ بن کر رہ گیا

  



لاہور(ویب ڈیسک) گجرات اور منڈی بہاء الدین انسانی سمگلروں کی شکار گاہیں بن چکی ہیں، ان شہروں میں انسانی سمگلنگ کا وسیع اور مربوط نیٹ ورک قائم ہے، مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی سوالیہ نشان بن گئی ہے۔

روزنامہ دنیا کے مطابق قانون میں سقم یا انسانی سمگلروں کے ساتھ گٹھ جوڑ کی وجہ سے سینکڑوں خاندان بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ ضلع گجرات اور ضلع منڈی بہاء الدین کا شمار ان سرسبز، زرخیرز اور شاداب اضلاع میں ہوتا ہے جس کی ایک وجہ ان اضلاع کا دریائے چناب اور دریائے جہلم کے درمیان آباد ہونا بھی سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان دونوں اضلاع سے وابستہ 70 فیصد آبادی دیہات پر مشتمل ہے۔ ان علاقوں میں آج بھی تعلیم کی پسماندگی کے باعث قدیمی رسم ورواج، چودھراہٹ کی جھلک کے علاوہ خود نمائی کر کے اپنے علاقہ میں ایک دوسرے سے اپنے خاندان کو نمایاں کرنے کا احساس بتدریج موجود ہے، یہی وہ احساس کمتری ہے جس نے ضلع گجرات اور ضلع منڈی بہاء الدین کے عوام کو انسانی معاشرے میں ایک ایسی نہ ختم ہونے والی دوڑ میں شامل کر دیا ہے جس نے ہنستے بستے گھروں کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو موت کی ایسی وادی میں دھکیل دیا ہے جس کی وجہ سے یہ اضلاع اب ملک کی تاریخ میں انسانی سمگلنگ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

ان ضلاع میں انسانی سمگلروں کی آسان شکارگاہیں موجود ہیں اور ان کا ایک ایسا وسیع نیٹ ورک ہے جسے قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی ختم کرنے یا توڑنے میں ناکام رہے ہیں۔حال ہی میں لیبیا کے سمندر میں ڈوبنے والی کشتی کے المناک سانحہ نے روشن مستقبل کے سہانے خواب سجا کر جانے والے گجرات اور منڈی بہاء الدین کے 12 خاندانوں کو تمام عمر کیلئے سسک سسک کر رونے پر مجبور کر دیا ہے۔

مزید : جرم و انصاف