مرجھائی زندگیاں اب پھر سے مسکرائیں گی۔۔۔!!

مرجھائی زندگیاں اب پھر سے مسکرائیں گی۔۔۔!!
مرجھائی زندگیاں اب پھر سے مسکرائیں گی۔۔۔!!

  



تحریر :فضہ شہباز

حدِ نگاہ صفر، اور دور تک پھیلے کالے دھو یں کے بادل، تپتے سورج کی گرم شعاعیں ، جلا کر راکھ کرنے والی آگ اور آگ سے اٹھتے شعلے۔ اس بے رحم آگ کی زد میں آئے افراد کی چیخ و پکار، آہیں اور سسکیاں۔۔۔۔ !!یہ حادثہ مجھ سمیت نہ جانے کتنے لوگوں کے ذہنوں پر انمٹ نقوش چھوڑ گیا اور نا جانے کتنے لوگوں کے دل آج بھی اس آگ کی تپش میں جل رہے ہیں جنہوں نے اس حادثے میں اپنے پیاروں کو کھویا۔۔ میں بات کر رہی ہوں ا س گھڑی کی جب25 جون 2017 کوبہاولپور کی تحصیل احمد آبادشرقیہ میں ایک آئل ٹینکر کو آگ لگی۔

یہ آئل ٹینکر لاہور سے کراچی جا رہا تھا جس میں چالیس ہزار لیٹر پٹرول موجود تھا۔ٹینکر جب احمدآباد کے قریب پہنچا تو کسی تکینی خرابی کی وجہ سے الٹ گیا۔ وہاں کے مقامی لوگ مفت پٹرول حاصل کرنے کی تگ و دو میں اتنے مگن ہوگے کہ اپنی عادت سے مجبور ایک شخص نے سکریٹ کی کش لگانا چاہی اور وہ سب جانوں کی قضا کا سبب بن گیا۔ دیکھتے دیکھتے آگ تیزی سے پھیلنے لگی،اور اس آگ کے بجھتے بجھتے 148 سے زائد افراد کی زندگیوں کے چراغ بھی ہمیشہ کے لئے گل ہو گئے۔ کچھ افراد اتنی بری طرح سے جھلس گئے تھے کہ انکی شناخت کرنا مشکل ہی نہیں ، نا ممکن ہو چکا تھا۔

پاکستان کی تاریخ میں کئی المناک واقعے رونما ہوئے ہیں ،قدرتی آفات سے لے کر انسانی آفات تک، پاک آرمی سمیت سرکاری، نیم سرکاری اور غیر سرکاری سماجی اور فلاحی اداروں کے کارکنوں نے عوام کو ریلیف فراہم کیا۔احمد آباد شرقیہ کے واقعے میں ہر کوئی قاصر تھا کہ کس طرح سے متاثرہ افراد کی مدد کی جائے۔ تمام ہسپتالوں میں ’’برن انجریز‘‘ کا بنیادی علاج تو موجود تھا مگر اتنی پیچیدہ برن انجریز اور وہ بھی اتنی کثیر تعداد میں سنبھالا مشکل تھا۔کہتے ہیں ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔۔؟ موت کا اک دن مقرر ہے۔بیماری اور حادثات تو صرف بہانہ ہیں۔ اسی طرح آئل ٹینکر کا خراب ہونا اور پٹرول جمع کرنے کی ہوس ان افراد کی موت کا سبب بنی۔

میری اک دوست اجالا کی زندگی کی تمام رعنائیاں اسی حادثے کی نذر ہو گئیں۔ جسکی خوبصورتی کے چرچے پورے کالج میں تھے ا س حادثے میں اسکا پورا جسم بری طرح جھلس گیا اور اسکی تکلیف نا قابل بیان تھی۔ اس کی حالت دیکھ موت کی بے رحمی پر ملال ہوا کہ کاش اس حادثے میں موت ہی اس کا بھی مقدر بن جاتی۔ انسان کے لئے ایسی اذیت ناک زندگی سے قدر بہتر اور آسا ن موت ہے۔ اس واقعے کے بعد اس سے ملنے کی ہمت مجھ میں نہیں ہوئی مگر کل اپنی دوست سے ملنے کے لئے دل بہت بے قرار تھا۔ بڑی ہمت حوصلہ کر کے اس کے گھر گئی کونکہ ہر وقت ہنستی مسکراتی اجالا کو روتے بلکتے دیکھناکٹھن تھا۔ اسکے گھر پہنچی تو اسے چلتا پھرتا دیکھ حیران ہوگئی۔ اسکی برن انجریز کافی حد تک ٹھیک ہو چکی تھیں۔ اسے دیکھ ایسا لگا کہ خدا اس پر خاص مہربان ہوا ہے اور اسکا ٹھیک ہونا کسی معجزے سے کم نہیں۔ اجالا نے بتایا کہ وہ اپنا علاج جناح برن اینڈ ریکنسٹریکٹیو سرجری سنٹر ( Jinah burn and reconstructive surgery centre)سے کرا رہی ہے۔

ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ ہم خوبصورتی پر مرتے ہیں ، کوئی ایسا شخض جس میں حادثاتی یا قدرتی طور پر کوئی کمی ہو،تو ہم طنز و مزاح کرنے یا حقارت جتلانے سے ہرگز پرہیز نہیں کرتے۔ بنا سوچے کہ ہمارے تلخ رویے متاثرہ افراد کی خود اعتمادی کا گلہ گھوٹ کر، ان میں احساسِ کمتری کو پروان چڑھاتے ہیں۔ اگرچہ قدرت کا کوئی نعم البدل نہیں ،مگروسیلے بھی اسی دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ایسے افراد جو کسی ناگہانی آفت کا شکار ہوئے، جنہوں نے اپنے چہرے کی پہچان کھو دی ،آگ یا تیزاب کی نذر ہوئے اپنا وجودختم کیا ،جناح برن اینڈ ریکنسٹریکٹیو سرجری سنٹر ایسے لوگوں کی زندگیاں سنوارنے کا وسیلہ ہے۔

جناح برن اینڈ ریکنسٹریکٹیو سرجری سنٹر اپنی نوعیت کا پاکستان کا پہلا برن یونٹ ہے جو چھ کینال اورپندرہ مرلے کے اراضی پر مشتمل ہے۔ جہاں پیچیدہ سے پیچیدہ تیسر ے درجے کے جلے زخموں کا علاج بھی ممکن ہے۔ صحت عامہ کے اس پروجیکٹ کی تعمیر کی معیاد مئی 2016 میں مکمل ہوئی مگر یہاں نومبر 2014سے ہی علاج کیا جا رہا ہے اور اس مختصر سے عرصے میں کامیاب علاج کی بہت سے کارنامے جناح برن اینڈ ریکنسٹریکٹیو سرجری سنٹر نے اپنے نام کیے۔ ہر روز تقریباً 192 مریض جناح برن سینٹر میں علاج کے لئے آتے ہیں۔پورے خلوص اور نیک نیتی سے شروع کیے جانے والے اس منصوبے نے انتہائی کم معیاد میں 101198 مریضوں کا علاج کر کے، ان میں زندگی کی نئی دمک پیدا کی ہے۔

تمام جدید سہولیات سے آراستہ جناح برن اینڈ ریکنسٹریکٹیو سرجری سینٹر پراجیکٹ کی کل لاگت ایک ہزار دو سو 42 ملین روپے ہے۔ جہاں برن انجری کے مریضوں کے لئے کل 78 بیڈ موجود ہیں اور حسبِ ضرورت ان بستروں کو جنرل وارڈ، آئی سی یو اور ایچ ڈی یو میں ترتیب دیا گیا ہے۔انتہائی پیچیدہ مریضوں کے لئے آئی سی یو (ICU) 10جبکہ ایچ ڈی یو میں(HDU) 6 بیڈ پر مشتمل ہے۔ جناح برن یونٹ میں دو جنرل وارڈ موجود ہیں جہاں بیک وقت 48 مریض باآسانی داخل کیے جاسکتے ہیں۔

جناح برن اینڈ ری کنسٹریکٹیو سرجری سینٹر میں 9 نومبر 2014سے اب تک انتہائی سطح کے پیچیدہ، تیسرے درجے کے جلے 639 افراد کی جلد کی پیوند کاری کی گئی ہے۔ اس قلیل عرصے میں 127 مریض ایسے بھی آئے جن کے جسمانی اعضاء حادثاتی طور پر ناکارہ ہوچکے تھے،آپریشن کے ذریعے ان عضاء کو نئے سرے سے جوڑنے کا علاج کیا گیا۔ جبکہ 203 مریضوں کو مائیکرو سرجیکل کے عمل سے گزرنا پڑا۔ ہر وہ فرد جو جینے کی امید لے کر اس مرکز آیا، بیماری کی نوعیت کے مطابق اسکا علاج کیا گیا اور اسے بااعتماد زندگی عطا کی گئی۔

جناح برن اینڈ ریکنسٹریکٹیو سرجری سنٹر ( Jinah burn and reconstructive surgery centre) کی تعمیر، کسی انہونی سے کم نہیں کیونکہ اس سے پہلے بھی سرکاری ہسپتالوں میں برن یونٹ کے نام پر چند بستر اور علاج کی بنیادی سولیات موجود تھیں۔

مگر ایک شخص کی دن رات کی محنت اورکاوشوں کے بعد جدید علاج اور سہو لیات پرمشتمل ایک مکمل برن یونٹ تشکیل دیا گیا۔ دکھی انسانیت کا مسیحااور عوام الناس کی بھلائی کا عزم رکھنے والایہ انسان، جس کے بنا صحت عامہ کے منصوبوں کی تکمیل اور شعبہ صحت میں ہونے والی ترقی و اصلاحات ناممکن ہیں ،وہ کوئی اور نہیں وزیر اعلیٰ پنجاب شہبازشریف ہیں۔ جو صحت کو عبادت جانتے ہوئے اپنے وژن پر قائم و دائم ہیں اور فلاحِ عامہ کے لئے بہت سے منصوبے متعارف کروا رہے ہیں۔ جناح ہسپتال میں برن اینڈ ریکنسٹریکٹیو سرجری سنٹر کی تعمیر کے بعد ، نشتر ہسپتال ملتان میں بھی برن سنٹر یونٹ کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔72 بستروں پر مشتمل نشتر ہسپتال میں سٹیٹ آف دی آرٹ برن یونٹ کی کل لاگت 878069 ملین روپے پے۔ جہاں اٹلی کے تربیت یافتہ ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل سٹاف پر مشتمل ٹیم مریضوں کے بروقت علاج کے موجود ہے۔یقیناً نشتر ہسپتال ملتان میں برن یونٹ کا قیام جنوبی پنجاب کے عوام کے لئے بڑا تحفہ اور نعمت ہے۔الائیڈ ہسپتال فیصل آباد، اور شیخ زائد ہسپتال رحیم یار خان میں بھی اسی طرز کے بین الالقوامی معیارکے سپیشل برن یونٹ قائم کیے گئے ہیں جنکا اجراء جلد ہی کر دیا جائے گا۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پنجاب کے مختلف شعبہ جات خاص طور تعلیم اور صحت کے شعبے میں ہونے والی ترقی اور اصلاحات قابل فخر ہیں اور انقلابی تبدیلیوں کو متعارف کروانے کا کریڈٹ شہباز شریف کو جاتا ہے۔یوں معلوم ہوتا ہے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی نگرانی میں صوبہ پنجاب میں ہونے والی کامیابی و کامرانی کا قافلے، اب رکنے والے نہیں ہیں اور پنجاب دن بدن مزید ترقی کرے گا۔ کسی شاعر نے بھی کیا خوب کہا ہے

جواں ہمت سبق لیتے ہیں دنیا میں حوادث سے

زبوں ہمت جو ہوتے ہیں، وہ پچھتایا ہی کرتے ہیں 

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ