’یہ لوگ شراب پی کر میرے گھر میں گھس آتے ہیں، میری جوان بیٹیوں کو میرے سامنے زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ۔۔۔‘ پاکستانی بیوہ خاتون نے ایسی بات کہہ دی کہ ہر پاکستانی شرمندہ ہوجائے

’یہ لوگ شراب پی کر میرے گھر میں گھس آتے ہیں، میری جوان بیٹیوں کو میرے سامنے ...
’یہ لوگ شراب پی کر میرے گھر میں گھس آتے ہیں، میری جوان بیٹیوں کو میرے سامنے زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ۔۔۔‘ پاکستانی بیوہ خاتون نے ایسی بات کہہ دی کہ ہر پاکستانی شرمندہ ہوجائے

  


قصور(ویب ڈیسک) بااثر ملزمان کی بیوہ کے گھر گھس کر اس کی بیٹیوں کے ساتھ زیادتی اور اغواءکی کوشش لیکن جب قانونی کارروائی کیلئے پولیس سے رابطہ کیاگیا تو درخواست واپس لینے کے لیے دباؤڈالنا شروع کردیا گیا، بیوہ خاتون نے موقف اپنایا کہ  رانا نعیم اور رانا ہارون شراب کے نشے میں دھت ہوکر گھر میں گھس آئے۔

روزنامہ خبریں کے مطابق خاتون نے بتایاکہ اپنی بیٹیوں کے ہمراہ گھر میں موجود تھی کہ رانا نعیم اور رانا ہارون شراب کے نشے میں دھت ہوکر ان کے گھر میں گھس آئے اور گالی گلوچ کرتے ہوئے بیوہ راج بی بی کی بیٹی شاہدہ بی بی کو زبردستی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا جس پر دونوں ماں بیٹیاں ملزمان کی منت سماجت کرتی رہیں اور ان کو گھر سے چلے جان ے کو کہتی رہیں لیکن ملزمان نے ان کی ایک نہ سنی اور اپنے گھناﺅنے فعل کو سرانجام دیتے رہے جس کے بعد شاہدہ بی بی ہمت ہار کر ان کے گھر کی جانب دوڑی اور ان کے بڑے بھائیوں کو بلا کر لائی لیکن ملزمان نے پھر بھی ان کی جان نہ چھوڑی اور جاتے وقت شادہ بی بی اور اس کی بہن کو زبردستی ساتھ لیجانے کی کوشش بھی کرتے رہے۔

متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ ملزمان آئے روز اس طرح کرتے ہیں، شراب کے نشے میں دھت ہوکر گھر میں گھس آتے ہیں اور کبھی کسی اور کبھی کسی بہن کو ساتھ چلنے کو کہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم غریب، لاچار اور بے یار و مددگار صرف اللہ کے بھروسے زندگی گزاررہی ہیں، ہماری کوئی مدد کو نہیں آتا جس کی وجہ سے یہ آئے روز ہمارے ساتھ زیادتی کرتے ہیں۔ ملزمان انتہائی بااثر ہیں اور کھڈیاں قصوری بازار میں دکانوں اور کروڑوں کی جائیداد کے مالک ہیں جس وجہ سے پولیس بھی ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی اور پیسے لے کر چپ ہوجاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے کئی دفعہ 15 پر کال بھی کی، پولیس آئی اور خانہ پوری کرکے چلی گئی لیکن ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوئی او رکئی بار باقاعدہ طور پر تھانے میں درخواستیں بھی دیں لیکن اس کے باوجود پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی الٹا ہم پر درخواست واپس لینے کے لئے دباﺅ ڈال رہی ہے۔

ان درندوں اور پولیس کی زیادتیوں سے تنگ آکر متاثرہ خواتین نے عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا جس کی بابت انہوں نے کارروائی کے لئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں درخواست بھی دائر کی جس پر ملزمان مزید طعیش میں آگئے اور ان کو جان سے ماردینے کی دھمکیاں دینا شروع کردیں۔ ملزمان کا کہنا تھا کہ تم نے اگر اپنی درخواست واپس نہ لی تو تمہیں جان سے ماردوں گا اور تمہاری بیٹیوں کو سرعام بازار میں نیلام کروں گا۔ متاثرہ خواتین نے وزیراعلیٰ پنجاب، ڈی پی او قصور اور اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کو تحفظ فراہم کیا جائے اور ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے سخت سے سخت کارروائی کی جائے۔

مزید : جرم و انصاف /علاقائی /پنجاب /قصور