”عاصمہ جہانگیر کو نواز شریف سے بات کرتے ہوئے دل کا دورہ پڑا اور۔۔۔“ دونوں کے درمیان کیا گفتگو ہوئی اور عاصمہ جہانگیر نے کس بات کا وعدہ کیا تھا؟ حیران کن تفصیلات سامنے آ گئیں

”عاصمہ جہانگیر کو نواز شریف سے بات کرتے ہوئے دل کا دورہ پڑا اور۔۔۔“ دونوں کے ...
”عاصمہ جہانگیر کو نواز شریف سے بات کرتے ہوئے دل کا دورہ پڑا اور۔۔۔“ دونوں کے درمیان کیا گفتگو ہوئی اور عاصمہ جہانگیر نے کس بات کا وعدہ کیا تھا؟ حیران کن تفصیلات سامنے آ گئیں

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) معروف وکیل و قانون دان عاصمہ جہانگیر کو جب دل کا دورہ پڑا تو وہ ایڈووکیٹ اعظم تارڑ کیساتھ ہی نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف کیساتھ بھی بات کر رہی تھیں جس دوران انہوں نے وزیر مملکت برائے امور داخلہ طلال چوہدری کی وکالت پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

روزنامہ جنگ کے مطابق ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ انسانی حقوق کی چیمپئن سمجھی جانے والی تجربہ کار وکیل مرحومہ عاصمہ جہانگیر اعظم نذیر تاررڑ، جن کیساتھ نواز شریف بھی موجود تھے، کیساتھ بات کر رہی تھیں۔ نواز شریف نے اسی فون کال کے دوران مرحومہ سے بات کی تھی جس کے دوران انہیں دل کا جان لیوا دورہ پڑا۔

جب عاصمہ جہانگیر نے اچانک ایک چیخ کے بعد فون پر بولنا بند کر دیا تو نواز شریف اور ان کے ساتھ موجود وکلاءکو تشویش لاحق ہوئی، نواز شریف مسلسل فون کرتے رہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آخر کیا ہوا ہے۔ تاہم 25 فون کالز کے باوجود کسی نے فون کال وصول نہیں کی۔ بعد میں جب انہیں ہسپتال میں مردہ قرار دیا گیا تو ان کے ساتھ آنے والے افراد نے فون کال وصول کی اور مسلم لیگ (ن) کے صدر کو بتایا کہ عاصمہ جہانگیر کا انتقال ہو چکا ہے۔

اس طرح نواز شریف وہ پہلے شخص تھے جنہیں اس بات کا علم ہوا۔ مسلم لیگ (ن) طلال چوہدری کا کیس لڑنے کیلئے عاصمہ جہانگیر کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھی، طلال چوہدری سے سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 فروری کو کہا تھا کہ وہ ایک ہفتے کے اندر توہین عدالت کیس میں وکیل کر لیں۔

اس ضمن میں عاصمہ جہانگیر سے درخواست کی گئی تھی جس پر انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس پر غور کریں گی۔ ایڈووکیٹ تارڑ نے عاصمہ جہانگیر کو آمادہ کیا تھا کہ وہ کیس لڑیں کیونکہ اس سے ملک میں اظہار کی آزادی کی اہم مثال قائم ہو گی۔ مزید برآں، اعظم تارڑ نے عاصمہ کو بتایا تھا کہ طلال چوہدری کا تعلق وکلاءبرادری سے ہے اور وہ ان کے گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ نواز شریف اپنے ماہرین قانون کی ٹیم کیساتھ جاتی امراءمیں اجلاس میں مصروف تھے۔

اس موقع پر اعظم تارڑ بھی موجود تھے۔ نواز شریف نے تارڑ سے کہا کہ وہ طلال چوہدری اور خواجہ سعد رفیق کی عاصمہ جہانگیر کے ساتھ اتوار کی شام چار اور پانچ بجے کے درمیان ملاقات کا انتظام کریں۔ نواز شریف نے عاصمہ سے اسی فون کال کے دوران بات کی اور انہوں نے نیک تمناﺅں کے اظہار کے بعد طلال چوہدری کا کیس لڑنے کیلئے آمادگی ظاہر کرنے پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

اس کے بعد انہوں نے فون اعظم تارڑ کو دیدیا تاکہ ملاقات کے حوالے سے حتمی انتظامات پر بات کی جا سکے۔ رابطہ کرنے ایڈووکیٹ اعظم تارڑ نے اس بات کی تصدیق بھی کی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /علاقائی /اسلام آباد /پنجاب /لاہور