سوموٹو ایکشن اور عوام کی ضروریات

سوموٹو ایکشن اور عوام کی ضروریات
سوموٹو ایکشن اور عوام کی ضروریات

  



پاکستان کے آئین میں سوموٹو ایکشن ایک ایسا قانون ہے جس کا اختیار چیف جسٹس پاکستان کو حاصل ہوتا ہے۔ جس کے تحت جب بھی چیف جسٹس آف پاکستان کسی کیس، ایشو یا واقعہ کے متعلق یہ سمجھیں کہ حکومتی ادارے اس کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں یا کسی بھی سیاسی دباؤ یا ذاتی مفاد کے پیش نظر انصاف کی فراہمی میں دخل اندازی کی جا رہی ہے تو چیف جسٹس آف پاکستان انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے اس پر سوموٹو ایکشن لے سکتے ہیں۔

پاکستان میں جس نے بھی عوام کے مسائل کیلئے آواز اٹھائی عوام نے اس کو عزت بخشی ، اپنی دعاؤ ں میں شامل کیا۔زیادہ دور نہیں اگر ان 10 سالوں کا جائزہ لیا جائے تو افتخار چوہدری، جنرل راحیل شریف اور اب ثاقب نثار اس کی واضح مثالیں ہیں۔

افتخار چوہدری کا سب سے مشہور ایکشن آصف علی زرداری کے سوئس بنک کیلئے خط نہ لکھنے پر اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو گھر بھیجنا تھا۔ لیکن جس وجہ سے یوسف رضا گیلانی کووزیر اعظم کے عہدے سے ہٹایا گیا وہ مقصد بھی ان کے جانے کے ساتھ دفن کر دیا گیا۔سوئس بنک سے ملک کی لوٹی گئی رقم واپس نہیں لائی گئی۔ آج بھی عوام اس ایکشن کے فائدے کو سمجھنے سے قاصر ہے۔

جنرل راحیل شریف نے بہت سے ملکی مسائل میں سامنے آ کر بات کی۔ خاص کر کراچی کو ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ مافیا سے پاک کرنے کاارادہ اور دہشت گردوں کے سہولت کار وں کا صفایا۔ کراچی میں کسی حد تک سکون ہوا لیکن کراچی کے قبرستان اور سیاسی گروپس کے گھروں سے نکلنے والا اسلحہ، ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری، ایک سابقہ صوبائی وزیر اعلٰی کے سیکرٹری کے گھر سے سونے کے صندوق اور ان گنت کالا دھن دریافت ہونے ، وغیرہ جیسے کتنے اور کارنامے جس کیلئے شکریہ راحیل شریف زبان زد عام ہوا۔مگر ان پر عوام کو بے خبر رکھتے ہوئے کوئی ایکشن نہ لیا جانا اور کسی ایک ٹارگٹ کلر کو بھی قابل ذکر سزاکانہ ملنا عوام کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔

چیف جسٹس محترم ثاقب نثار نے حکومت کے آخری چند ماہ میں سوموٹو ایکشن لینا شروع کیا ہے جس سے عوام میں انصاف کی امید پیدا ہوئی ہے۔ہم امید کرتے ہیں کہ چیف جسٹس پاکستان کے بڑے مسائل پر بھی سوموٹو ایکشن لیں گے جس میں حکومتی ڈھانچہ کا مکمل نہ ہونا ، کئی ماہ سے ملک کا وزیر خزانہ کے بغیر چلنا، 4سال تک ملک کا وزیر خارجہ مقرر نہ کرنا، ایک ہی وزیر کے پاس کئی کئی وزارتیں ہونا، ملک میں ہونے والے بڑے سانحات جس میں بلدیہ فیکٹری، سانحہ ماڈل ٹاؤن،ہزارہ برادری کا قتل عام، وغیرہ پر توجہ دیتے ہوئے نہ صرف از خود نوٹس لیں گے ، بلکہ ایسے اقدامات کیلئے خود نگرانی کریں گے جس سے آئندہ کیلئے اسیے واقعات رونما نہ ہو سکیں۔ عوام اور پاکستان کے حقیقی معنی میں وفادارہونے کا ثبوت دیں گے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ