نظریات کی جنگ یا نفرت کا بازار ؟

نظریات کی جنگ یا نفرت کا بازار ؟

عاصمہ جہانگیر کی وفات پر سوشل میڈیا پر ایسے سٹیسٹس دیکھنے کو ملے جس سے دل کھٹا ہوا ہے ،افسوس ہوا ہے کہ ہمارے لوگوں میں سوشل میڈیا سے نکل کر عملی طور پر علمی اختلاف کرنے کی جرات کیوں نہیں،کیا گالی گلوچ کرنے سے فکری عمل پورا ہوجاتا ہے۔

پاکستان میں دو طبقات کے درمیان کشمکش جاری ہے۔کبھی کوئی بر سر میدان فتح کا علم بلند کرتا ہے کبھی دوسرا حساب برابر کرنے کی تاک میں ہوتا ہے۔موقع کوئی بھی ہو اپنے مطلب اور ضرورت کی دلیل ہر ایک کے پاس ہے ۔ اس کا اظہار بھی ہوتا ہے۔الیکڑانک میڈیا تو ان کی تعریفوں کے پل باندھ رہا ہے۔لیکن اس کے برعکس سوشل میڈیا پر جس کا جتنا فہم ہے اس کے مطابق اپنا موقف پیش کر رہا ہے۔اعتدال کے نام پر کچھ زیادہ ہی اعتدال اور مخالفت کے نام پر بے جا مخالفت ہمارے مزاج کا حصہ ہے۔اس بات کے قطع نظر عاصمہ جہانگیر نے اسلام ،مسلمانوں اور کے خلاف جو کیا اس کو اس کا نقد یا ادھار چکانا بھی پڑا ہے۔ان کو گالیاں دینے اور خوشی کے شادیانے بجانے والوں کے پاس دلائل بھی ہیں۔کیا ان کے انسانیت اور قانون کے لیے کیے جانے والے کام اس قابل نہیں کہ ان کی تحسین کی جائے؟۔ہم جس معاشرہ میں رہ رہے ہیں کیا اس کے بھی کچھ تقاضے نہیں؟۔

اسّی کی دہائی میں عاصمہ جہانگیر نے اسلام مخالف یا اس کے بعد ہر دور میں عاصمہ جہانگیرنے کام کیا اور کرتی رہی۔آج وہ اپنا ایک مضبوط گروپ چھوڑ کر گئی ہیں۔وکلا ،سول سروسز ،سول سوسائٹی ،کالجز ،یونیورسٹیز ہر سطح پر عاصمہ جہانگیر کے خیالات کے ہزاروں لوگ مل جائیں گے۔کیا آپ نے کبھی مخالفت برائے مخالفت اور لبرل سوچ ،فکر سے زبانی نفرت کے علاوہ اس کا راستہ روکنے کی کوشش کی۔ہماری مخالفت صرف وقتی اور سطحی رہی جس کا نتیجہ ہے کہ آج وہ ایک طاقتور آواز بن چکے ہیں۔ مقابلے باتیں کرنے سٹیٹس لکھنے،گالیاں بکنے،اور فتوے لگانے کے نہیں ہوتے عملی اقدامات کے ہوتے ہیں۔ ہم آج تک اس کو موثر نہیں کر سکے۔اس لیے اگرآپ کو اختلاف ہے ضرور کریں لیکن ان حدود میں رہ کر جو مسلمان کا شیوہ ہے۔ہم یہ کفر واسلام کی ساری جنگ فیس بک سوشل میڈیا پر لڑ کر سرخرو ہونا چاہتے ہیں۔لیکن یاد رکھیں نظریات سے لڑنے کا جذبہ پیدا کریں۔عوام میں اور سوسائٹی میں بھی اٹھنے بیٹھنے اور ان کے نظریات کو سننے کا بھی اہتمام کریں۔ورنہ یہ خلیجیں مزید گہری ہوتی جائیں گی یہاں تک کہ آپ خود اس کو پاٹ نہیں سکیں گے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...