نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ،ڈاکٹر منظور حسین سومرو سمیت متعد د افراد کے خلاف انکوائری کی منظوری دیدی گئی

نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ،ڈاکٹر منظور حسین سومرو سمیت متعد د افراد کے ...
نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ،ڈاکٹر منظور حسین سومرو سمیت متعد د افراد کے خلاف انکوائری کی منظوری دیدی گئی

  


اسلام آباد (پ ر) چیئر مین نیب جسٹس ریٹارئرڈ جاوید اقبال کی زیر صدارت ایگزیکٹوبورڈ کا اجلاس ہوا جس دوران ڈاکٹر منظور حسین سومرو سابق چیئرمین پاکستان سائنس فاویڈیشن اسلام آباد/ سابق صدر ای سی او اور دیگر کے خلاف انکوائری کی منظوری دی گئی ہے۔ ڈاکٹر منظور حسین سومرو سابق چیئرمین پاکستان سائنس فاویڈیشن اسلام آباد پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے پاکستان سائنس فاویڈیشن اسلام آباد میں غیر قانونی بھرتیاں کیں۔ انہوں نے سرکاری خرچ پر 20 سے زیادہ بین الاقوامی اور 90 اندرونی دورے کئے، جس سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا۔

2۔ ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان ایگری کلچرل ریسرچ کونسل اسلام آباد کے افسران / اہلکاران کے خلاف انکوائری کی منطوری دی۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے پی اے آر سی میں 200 سے زائد مبینہ طور پر قواعد کے خلاف تقرریاں کیں۔ جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔

3۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے سی ڈی اے کے افسران / اہلکاران اور دیگر کے خلاف انکوائری کی منظوری دی۔ ملزمان پر سرکاری پلاٹ نمبر 11 سیکٹر G-6 سوک سنٹر اسلام آباد اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے کوڑیوں کے دام فروخت کرنے کا الزام ہے۔

4۔ اجلاس میں پرائیویٹائزیشن کمشن آف پاکستان کے افسران/ اہلکاران اور دیگر کے خلاف انکوائری کی منظوری دی۔ ملزمان پر پاک امریکن فرٹیلائزرز لمیٹڈ دا?د خیل میانوالی کی نجکاری میں مبینہ طور پر پیپرا رولز کی خلاف ورزی کا الزما ہے۔ جس سے قومی خزانہ کو 3.889 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔

5۔ اجلاس میں نیپرا کی انتظامیہ، وزارت پانی و بجلی، آئی پی پی ایس، میسرز بلیو سٹار ہائیڈل پرائیویٹ لمیٹڈ، میسرز بخش سولرز پرائیویٹ لمیٹڈ، میسرز سیف سولرز پرائیویٹ لمیٹڈ، میسرز لکی الیکٹرک پاور کمپنی لمیٹڈ، میسرز صدکہ سنز انرجی لمیٹڈ و دیگر کے خلاف انکوائری کی منظوری دی گئی۔ ملزمان پر مبینہ طور پر نرخوں میں سولر پاور پلانٹس کے ٹیرف میں مبینہ طور پر قواعد کے خلاف ورزی کرتے ہوئے کا الزام ہے جس سے قومی خزانہ کو 200 ارب روپے سالانہ سے زائد کا نقصان پہنچا۔

6۔ اجلاس میں ڈاکٹر اکرم چوہدری وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودھا اور دیگر کے خلاف انکوائری کی منظوری دی گئی، ملزمان پر بدعنوانی اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی تقرریاں کرتے ہوئے مبینہ طور پر قومی خزانہ کو بھاری نقصان پہنچایا۔

7۔ اجلاس میں عبدالرزق (سابق سینیٹر/کمپنی ڈائریکٹر) کامران خان چیف ایگزیکٹو آفیسرز میسرز ملک ایکسچینج پرائیویٹ لمیٹڈ اور عدنان لوہانی انسپکٹر ایف آئی اے کے خلاف انکوائری کی منظوری دی۔ ملزمان پر مبینہ طو رپر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے منی لانڈرنگ اور رشوت لینے کا الزام ہے۔

8۔ ایگزیکٹو بورڈ نے طلعت محمود، نعمان نواز، اعجاز احمد او ر راجہ کامران اور دیگر کے خلاف انویسٹی گیشن کی منظوری دی۔ ملزمان پر مبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔ جس سے قومی خزانہ کو 3.14 ملین روپے نقصان پہنچا۔

9۔ ایگزیکٹو بورڈ نے الخیر ہاوسنگ سوسائٹی کے مالکان/ڈویلپرز اور دیگر کے انکوائری کی منظوری ، ملزمان پر عوام کو لوٹنے اور ہا?سنگ سوسائٹی کے پلاٹ نہ دینے اور عوام کے 27.065 ملین روپے لوٹنے کا الزام ہے۔

10۔اجلاس میں لینڈ یوٹیلائزیشن ڈیپارٹمنٹ گورنمنٹ آف سندھ اور دیگر کے خلاف انکوائری کی منظوری دی گئی، ملزمان پر مبینہ طور پر سرکاری زمین کو غیر قانونی مستقلی کا الزام ہے جس سے قومی خزانہ کو بھاری نقصان پہنچا۔

11۔ اجلاس میں منظور قادر سابق ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ودیگر کے خلاف انکوائری کی منظوری دی گئی۔ ملزمان پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر رفاعی پلاٹوں کو کمرشل پلاٹ کی شکل میں تبدیل کرنے کا الزام ہے، جس سے قومی خزانہ کو مبینہ طور پر 500 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔

12۔ اجلاس میں محمد محسن ولد عقیل احمد عباسی اور راحیلہ مگسی ولد محمد فاروق الغاری کے خلاف انکوائری کی منظوری دی گئی۔ یہ کیس سٹیٹ بینک آف پاکستان نے نیب کو 31-D کے تحت مشتبہ ٹرانزکشن کی تحقیقات کیلئے بھیجا۔

13۔ اجلاس میں عارف علی شاہ بخاری، KASB نورڈیلپر پرائیویٹ لمیٹڈ، سابق ڈائریکٹر/سابق انتظامیہ بی آئی پی ایل اور سٹرکچرڈ وینچر پرائیویٹ لمیٹڈ کے خلاف انکوائری کی منظوری دی گئی۔ ملزمان پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے بدعنوانی، خور دبرد اور دھوکہ دہی کے الزامات ہیں۔ جس سے قومی خزانہ کو مبینہ طور پر375 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔

14۔ ایگزیکٹو بورڈ نے سید ناصر عباس، سابق ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی۔ ملزمان پر غیر قانونی طور پر رفاعی پلاٹوں کو کمرشل پلاٹ کی شکل میں تبدیل کرنے کا الزما ہے۔ جس سے قومی خزانہ کو مبینہ طور پر 354 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔

15۔ ایگزیکٹو بورڈ نے محمد حسن بھتو، سابق چیئرمین ایس پی ایس سی اور دیگر کے خلاف بدنعوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی۔ ملزمان پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی تقرریاںکرنے کے الزامات ہیں۔ جس سے قومی خزانہ کو بھاری نقصان پہنچا۔

16۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے افسران/ اہلکاران اور دیگر کے خلاف انویسٹی گیشن کی منظوری دی۔ ان پر مبینہ طور پر الزام ہے کہ یونیورسٹی کے فنڈز جو کہ طلبائ کے غیر ملکی وظائف کے لئے مختص تھے وہ مبینہ طور پر غیر مستحق اور میرٹ پر نہ اترنے والے من پسند طلبائ کودیئے جس سے قومی خزانے کو تقریبا 1176 ملین روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔

17۔اجلاس میں جناح میڈیکل کالج پشاور کی انتظامیہ اور دیگر کے خلاف انکوائری کی منظوری دی گئی۔ملزمان پرالزام ہے کہ انہوں نے بد عنوانی اور قواعدو ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔

18۔ نیب نے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں ڈاکٹر احسان علی،سابق وائس چانسلر عبد الولی خان مردان کے خلاف انویسٹی گیشن کی منظوری دی۔ان پر مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے۔

19۔نیب نے ایگزیٹو بورڈ کے اجلاس میںکسٹم کلیکٹریٹ پشاور کے افسران/ اہلکاران،بینک اہلکاران،کلیئرنگ ایجنٹ فاٹا اور دیگر کےخلاف انکوائری کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ان پر مبینہ طور پر الزام ہے کہ انہوں نے بد عنوانی اور قواعد وضوابط کے خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔جس سے قومی خزانے کو 24 ارب کا نقصان پہنچا۔

20۔نیب کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں بینک آف خیبر پشاور کے افسران/ اہلکار کے خلاف انکوائری کی منظوری دی گئی ہے۔ملزمان پر قواعد و ضوابط اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے تقریبا14 سوا فراد کو بھرتی کیاجس سے قومی خزانے کو 24 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔

21۔نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں ملک محمد عثمان چیئر مین ڈسٹرکٹ کونسل ضلع قلعہ عبداللہ بلوچستان و دیگر کے خلاف انکوائری کا فیصلہ کیا گیا ان پر مبینہ طور پر بد عنوانی اور قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام ہے۔جس سے قومی خزانے کو 120 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔

22۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں محمد اسمٰعیل گجر، سابق چیئرمین کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور دیگر کے خلاف انویسٹی گیشن کا فیصلہ کیا گیا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طو پر سرکاری زمین الاٹ کی اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا جس سے قومی خزانے کو 8.402 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔

23۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل انٹی کرپشن پنجاب کے خلاف اختیارات کا ناجائز استعمال سرکاری کام میں مبینہ طور پر رکاوٹ ڈالنے اور نیب کو مبینہ طور پر قانون کے مطابق ریکارڈ کی فراہمی سے انکار پر انکوائری کی منظوری دی گئی۔

نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں ذاکر حسین سابق وائس چانسلر رجسٹرار، ڈائریکٹر لیہ اور ساہیوال کیمپس گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد اور میسرز ایکسپورٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کے خلاف عدم ثبوت کی بنائ پر انکوائریاں بند کرنے کی منظوری دی گئی۔

چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے اجلاس کے اختتام پذیر پر نیب کے تمام افسران کو ہدایت کی کہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ ہماری اولین ذمہ داری ہے، نیب افسران تمام انکوائریوں اور انویسٹی گیشن کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچائیں۔ ان کو غیر معینہ مدت تک التوائ میں رکھنے پر اب ناصرف سخت نوٹس لیا جائے گا بلکہ غفلت برتنے والے افسران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد