کیا واقعی ابوظہبی کے ولی عہد ہندوﺅں کی تقریب میں ان کے ساتھ عبادت کرتے رہے؟ سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد انتہائی حیران کن حقیقت سامنے آگئی

کیا واقعی ابوظہبی کے ولی عہد ہندوﺅں کی تقریب میں ان کے ساتھ عبادت کرتے رہے؟ ...
کیا واقعی ابوظہبی کے ولی عہد ہندوﺅں کی تقریب میں ان کے ساتھ عبادت کرتے رہے؟ سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد انتہائی حیران کن حقیقت سامنے آگئی

  



نئی دلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی میڈیا کے مکروفریب سے ہم پاکستانی تو اچھی طرح آگاہ ہیں لیکن پہلی بار بھارت کے روایتی اور سوشل میڈیا نے مل کر متحدہ عرب امارات کے بارے میں بھی ایسی بے بنیاد خبریں چلا دی ہیں کہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

گلف نیوز کے مطابق بھارتی ٹی وی چینلز ’ٹائمز ناﺅ‘ اور ’زی ٹی وی‘ سمیت متعدد بڑے میڈیا ہاﺅسز کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو ٹویٹ کی گئی اور کہا گیا کہ اس میں ابوظہبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات آرمڈ فورسز کے ڈپٹی سپریم کمانڈ شیخ محمد بن زاید النہیان ایک بڑے ہجوم کے سامنے ہندومت کے دعائیہ کلمات ’جئے سیا رام‘ پکارتے نظرآ رہے ہیں۔ خبروں میں بتایا گیا کہ شیخ محمد بن زاید نے ستمبر 2016ءمیں گرو موراری باپو کی جانب سے ابوظہبی میں منعقد کئے جانے والے ہندو مذہبی پروگرام میں یہ کلمات بآواز بلند پکارے۔

اب اس ویڈیو کی حقیقت سامنے آئی ہے تو پتا چلا ہے کہ بھارتی میڈیا نے وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ متحدہ عرب امارات کے پیش نظر سراسر جھوٹ پر مبنی خبریں چلائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ شیخ محمد بن زاید نے کبھی اس طرح کی ہندو مذہبی تقریب میں شرکت ہی نہیں کی، مزید یہ کہ جو صاحب ویڈیو میں نظر آرہے ہیں وہ متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والے ایک کالم نگار سلطان سعود القاسمی ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو اور متعلقہ خبریں آتے ہیں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئیں او رہزاروں انٹرنیٹ صارفین نے انہیں ری ٹویٹ کیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بات حیرانی کا باعث ہے کہ شیخ محمد بن زاید بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر مہمان خصوصی تھے لیکن اس کے باوجود ممتاز ترین بھارتی نیوز چینل ویڈیو میں دکھائی دینے والے کسی اور شخص کو شیخ محمد بن زاید قرار دیتے رہے۔ ایک اہم ملک کی انتہائی اہم شخصیت کے متعلق جھوٹی خبریں شائع کرنا حد درجہ غیر ذمہ داری اور مایوس کن طرز عمل ہے۔

میڈیا پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ بات خارج از امکان نہیں کہ متعدد بھارتی چینلوں نے سوچی سمجھی سکیم کے تحت ایک جعلی ویڈیو اور پروپیگنڈا پر مبنی خبریں پھیلائیں، لیکن اس کا دونوں ممالک کے تعلقات پر انتہائی منفی اثر مرتب ہو سکتا ہے۔

مزید : بین الاقوامی