نوشہرہ ،ناظم اعلیٰ دار العلوم حقانیہ مولانا اظہار الحق حقانی کی وفاتر پر تعزیت جاری

نوشہرہ ،ناظم اعلیٰ دار العلوم حقانیہ مولانا اظہار الحق حقانی کی وفاتر پر ...

نوشہرہ(بیورورپورٹ)ناظم اعلیٰ دارالعلوم حقانیہ مولانا اظہار الحق حقانی مرحوم کے فاتحہ وتعزیت کے لئے ملک بھر سے وفود علماء کرام، مشائخ ملت، ارباب سیاست، فلاحی ورفاہی رہنمایان اور عقیدت مندان دارالعلوم حقانیہ جوق در جوق ہر روز تشریف لارہے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اکوڑہ خٹک پہنچ کر مرحوم کے فرزند مولانا عرفان الحق ، مولانا لقمان الحق ، نائب صدر وفاق المدارس و مہتمم دارالعلوم حقانیہ مولانا انوار الحق ، جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا حامد الحق حقانی ، ڈاکٹر حسیب الحق و جملہ خانوادہ مولانا عبدالحقؒ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ مولانا عبدالحق رحمہ اللہ کے ساتھ ان کی اولاد میں سب سے زیادہ شکل و شباہت اور چال وچلن ، خاکساری و تواضع کے اعتبار سے مشابہ مولانا اظہار الحق مرحوم تھے، جنہوں نے کچھ عرصہ قبل میرے ساتھ اکھٹے حج بیت اللہ ادا کیا اور میں بار بار ان کی صورت میں اپنے عظیم استاد و مربی مولانا عبدالحق رحمہ اللہ کی زیارت کرتا رہا۔ خاکساری و ملنساری ان میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ جمعیت علماء اسلام نظریاتی کے رہنما مولانا خلیل احمد مخلص نے ان کے خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یکے بعد دیگرے اس خاندان پر غموں سے جملہ فضلاء کے دل زخمی زخمی ہیں۔ جمعیت کے سابقہ سنیٹر اور رابطہ عالم اسلامی کے رکن مولانا ہدایت اللہ نے کہا کہ دارالعلوم حقانیہ جیسے عظیم ادارے کے انتظامی امور میں اور خاص کر اس کے فارغ التحصیل فضلاء کے قومی، عالمی خدمات میں مولانا اظہار الحق جیسے درویش منش شخصیت کے خدمات عنداللہ اظہر من الشمس ہیں۔ پیر شمس الامین سجادہ نشین مانکی شریف نے تعزیت کرتے ہوئے مولانا عرفان الحق کو کہا کہ آپ کے والد نے جس طرح اپنی ذات وانا کو مخفی رکھا اسی طرح اپنے خدمات کو بھی مولانا سمیع الحق و مولانا انوار الحق کی شخصیات میں چھپائے رکھا۔ جمعیت علماء اسلام (س) کے مجلس شوریٰ کے اجلاس کے موقع پر ملک بھر کے دور دراز سے آئے ہوئے معزز اراکین نے دارالعلوم حقانیہ کے ایوان شریعت ہال میں آکر مولانا انوار الحق صاحب کی موجود گی میں ہزاروں طلباء کرام و خانوادہ حقانی کے جملہ خاندان سے تعزیت کی۔ قافلہ حق کے سالارو جرنل سکرٹری جمعیت علماء اسلام مولانا عبدالرؤف فاروقی نے سب اراکین کی طرف سے نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ الحاج اظہار الحق حقانی کی رحلت کے غم سے مولانا سمیع الحق شہیدؒ کا غم مزید گہرا ہوگیا۔مرحوم کی خدمات دارالعلوم حقانیہ کی تعمیرات، مالیات، انتظامی امور میں کبھی بھی بھلانے والی نہیں ہیں۔ مولانا انوارالحق صاحب نے آخر میں سب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا : ہمارے اس بھائی نے امانت ودیانت اور دارالعلوم کی خدمت کی وہ تاریخ رقم کی جو بہت کم دیکھنے میں آئی ہے، دارالعلوم کی چھوٹی سی چھوٹی شئ کی حفاظت ان کا مشن تھا، وہ ایک عظیم ہیرا تھا جو ہم سے مستور ہو چلا۔ ان کی مغفرت اور رفع درجات کے لئے ایصالِ ثواب اور دعائیں کی گئی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر