فوڈاتھارٹی نے 6ماہ میں ای لائسنسنگ نظام کے تحت 7ہزار لائسنسن جاری کردیے ، ریاض محسود

فوڈاتھارٹی نے 6ماہ میں ای لائسنسنگ نظام کے تحت 7ہزار لائسنسن جاری کردیے ، ...

پشاور(سٹی رپورٹر) خیبر پختونخواہ فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے چھ ماہ کی قلیل مدت میں اشیائے خوردونوش کے سات ہزار لائنسنس جاری کردئے ہیں جو کہ خیبرپختونخوا کے کسی بھی ادارے سے زیادہ ہیں۔ آن لائن نظام نے عوام کیلئے کام انتہائی آسان اور شفاف کردیا ہے۔ ڈائریکتر جنرل کے پی فوڈ اتھارٹی ریاض خان محسود نے یہاں سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ فوڈ اتھارٹی ڈیجیٹائزیشن میں دیگر اداروں کیلئے مثال ہے اگر کوئی اور ادارہ فوڈ اتھارٹی کی مدد لینا چاہتاہے تو ہر ادارے کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے ٹیم تیار ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صاف اور شفاف نظام سے سرکاری اداروں پر عوام کا اعتماد بحال ہوتا ہے جبکہ سہل اور آسان طریقہ کار سے صارفین کو ریلیف ملا ہے۔ ڈائریکٹر لائسنسنگ سید اویس علی کا کہنا تھا کہ لائسنس کا عمل تیز اور سہل بنانا ان کی اولین ترجیح ہے اور عوام کو ان کی دہلیز پر لائسنس اپلائی کی سہولت دینا سروس ڈلیوری کی جانب پہلا قدم ہے۔ مزید تفصیلات دیتے ہوئے سید اویس علی کا کہنا تھا کہ فوڈ اتھارٹی نے تین دن کے اندر اندر لائسنس جاری کرکے کسی بھی سرکاری ادارے سے جاری ہونے والے قلیل مدت لائسنس کا سہرہ اپنے سر سجالیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا سب سے زیادہ لائسنسنگ پشاور سے ہوئی جہاں اب تک چار ہزار سے زائد اشیائے خوردونوش کے روزگاروں کو لائسنس فراہم کئے جاچکے ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر مردان سے زیادہ لائسنسنگ ہوئی جہاں پندرہ سو سے زائد فوڈ آوٹلٹس کو رجسٹرڈ کیا گیا ہے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر لائسنسنگ کا یہ بھی کہنا تھا کہ لائسنسگ کی مد میں اب تک تین کروڈ بیس لاکھ سے زائد کا ریونیو جنریٹ ہوچکا ہے جو کہ اتھارٹی کی خودکفالت کی جانب اہم اقدام ہے۔ لائسنس کے آن لائن نظام کے بارے میں اویس علی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے کسی بھی کونے سے بیٹھ کر لائسنس کیلئے اپلائی کی جاسکتی ہے جبکہ لائسنس فیس بھی کسی بھی بینک سے کہیں بھی جمع کی جاسکتی ہے۔ای لائسنسنگ کا نظام خدمات کی فراہمی کیلئے انتہائی ناگزیر ہے۔ اس مد میں فوڈ اتھارٹی کے ای لائسنسنگ کا نظام دیگر اداروں کیلئے مشعل راہ ہے اور اگر کوئی ادارہ یہ نظام اپنانا چاہتاہے تو اس مد میں ان کی بھرپور رہنمائی اور مدد کی جائیگی۔ای لائسنسنگ بارے ڈائریکٹر اپریشنز خالد خان خٹک کا کہنا تھا کہ روزانہ کی بنیاد پر درجنوں لائسنس درخواستیں موصول ہوتی ہیں جنہیں متعلقہ ٹیموں کو مارک کرکے تکنیکی پہلو جانچنے کے بعد لائسنس کیلئے تجویز کیا جاتا ہے جو کہ سب سے سہل اور آسان طریقہ کارہے جبکہ لائسنس کی آن لائن ویری فیکیشن بھی سسٹم کا حصہ ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اسی ہفتے ایس ایم ایس نظام بھی متعارف کیا جائے گا جس کے تحت جب صارف کا لائسنس تیار ہوجاتا ہے تو ان کو مذریعہ میسج مطلع کیا جائے گا کہ وہ اپنا لائسنس متلعقہ دفتر سے وصول کرسکتے ہیں

مزید : پشاورصفحہ آخر