حج، بتدریج مہنگا اور نجی شعبہ کے سپرد؟

حج، بتدریج مہنگا اور نجی شعبہ کے سپرد؟

اسلامیان پاکستان حکومت کی طرف سے حج کے لئے سبسڈی نہ دینے پر مایوسی کا اظہار کر رہے تھے کہ وفاقی وزیر مذہبی امور نے ایک اور دل شکن اطلاع دی ہے کہ حج بتدریج مہنگا ہوتا جائے گا اور بالآخر سرکاری نظام ختم ہو کر حج نجی شعبہ کے ذریعے ہی ہو گا، وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریاست مدینہ میں حج کے لئے سبسڈی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ حکومت کی طرف سے سرکاری طور پر حج کے لئے جانے والے حضرات کے اخراجات کو کم کرنے کے لئے سبسڈی دینے سے انکار کر دیا گیا ، جبکہ اس صورت میں فریضہ حج کی ادائیگی گزشتہ برس کی نسبت زیادہ مہنگی ہو گئی، گزشتہ برس سرکاری سکیم کے تحت حج کرنے والوں کے اخراجات دو لاکھ اسی ہزار روپے کے قریب تھے، جو اس سال بڑھ کر چار لاکھ اسی یا نوے ہزار ہو گئے ہیں، اسی وجہ سے سبسڈی کا مطالبہ کیا گیا جو نا منظور کر دیا گیا تھا، چنانچہ نیا تخمینہ بھی جاری کیا جا چکا ہے اور وزیرمذہبی امور نے اگلا مرحلہ بھی بتا دیا ہے، ان کے مطابق سعودی حکومت کا اصرار ہے کہ حج بتدریج نجی شعبہ کے ذریعے ممکن بنایا جائے اور پاکستان کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا۔وفاقی وزیر مذہبی امور کو اس پورے سچ پر داد دینا چاہیے، لیکن ان کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ڈالر کی قدر میں اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی کے باعث سعودی ریال مہنگا ہوا تو اخراجات بڑھے، جبکہ ایئر لائنوں نے بھی کرایوں میں اضافہ کر دیا، اسی طرح مکہ اور مدینہ میں رہائشی کرایوں کو بڑھایا گیا اور سعودی حکومت کی بعض فیسیں بھی عائد ہیں جو انڈونیشیا تو رہا اپنی جگہ بھارت کے حاجیوں پر بھی لاگو نہیں ہوتیں۔ ہماری وزارت مذہبی امور اور حکومت نے اس طرف توجہ نہیں دی اور کوشش نہیں کی کہ ایئرلائنیز اور سعودی حکومت سے مذاکرات کرکے مختلف مدات میں کمی کرائی جاتی اور ممکن حد تک اخراجات کم ہو جاتے۔ نہ صرف یہ کوشش نہیں کی گئی بلکہ سبسڈی سے بھی انکار کر دیا گیا۔ یوں اخراجات ایک سال میں دوگنا ہو گئے۔ وزیر مذہبی امور کے تازہ بیان سے یہ واضح ہو گیا کہ اب فریضہ حج بھی بالائی طبقہ ہی کے لئے ہو گا کہ نجی شعبہ کے اخراجات توپہلے ہی زیادہ ہیں، نچلے درمیانہ طبقہ والے سرکاری سکیم سے مستفید ہو لیتے تھے جو نئی صورت حال میں ممکن نہ رہے گا۔ یوں یہ حکومت مبارکباد کی مستحق ہے جو بات محروم اور نچلے طبقات کی کرتی اور اقدامات ایسے کرتی ہے کہ یہ طبقات مزید زیربار ہو جائیں اور مستقبل ایسا ہی نظر آ رہا ہے۔

مزید : رائے /اداریہ