قافلۂ1947ء چل رہا ہے

قافلۂ1947ء چل رہا ہے
قافلۂ1947ء چل رہا ہے

  

برصغیر میں انگریزوں کے جانے کے بعد دو قومی نظریہ کی بنیاد پر پاکستان دُنیا کے نقشے، میں اُبھر آیا، اِس سے پہلے تمام اقوام اور مذاہب کے لوگ مل جل کر زندگی بسر کر رہے تھے۔ ایک دوسرے کے خوشی و غم میں شریک ہوتے تھے، اپنی عبادات کرتے تھے، ملاوٹ نہیں کرتے تھے،چوری، ڈاکہ ، قتل کی واردات کے واقعات نہ ہونے کے برابر تھے۔ انسان تو انسان جانور بھی محفوظ تھے۔ اپنے اپنے راستے چلتے تھے، گلی، محلے ، بازار صاف ستھرے نظر آتے تھے۔ میدان سجے ہوئے تھے۔کبڈی، نیزہ بازی، ہاکی کے آپس مقابلے ہوتے تھے۔

نامی گرامی پہلوان اپنے علاقے اور بچیوں کی حفاظت کرتے تھے۔ کسی جماعت کے ہاتھوں میں استعمال نہیں ہوتے تھے۔امن سے رہتے تھے، شام ڈھلے گھروں کو لوٹ جاتے تھے۔ پیداوار خوب ہوتی تھی، مصنوعی کھاد استعمال نہیں ہوتی تھی۔ فارمی اشیاء نہیں ہوتی تھیں۔ عوام کو خالص دیسی گھی، مکھن، دودھ، دالیں، سرسوں کا تیل میسر تھا۔ اپنی حفاظت کے لئے نیزے، چاقو، چھری سجائے ہوئے رکھتے تھے۔ میلے ٹھیلے لگتے تھے۔ کبھی کسی گاؤں میں، کبھی کسی شہر میں۔ یہ سلسلہ سارے سال چلتا رہتا۔ لوگ اِن میلوں میں شریک ہوتے۔ اپنی ضروریات زندگی کی اشیاء بھی خریدتے۔

اپنے بچوں کی شادیوں کا سامان بھی لاتے۔ کہار ڈولیاں اُٹھا کر اُنہیں اپنی منزل پر پہنچا دیتے۔پاکستان بننے کے بعد یہ سلسلہ ٹوٹ گیا۔ اسلامی فلاحی ریاست میں مسلمانوں نے ہجرت کا سفر شروع کر دیا۔ صدیوں سے آباد گھر، زمین، محلات چھوڑنے پڑ گئے۔ بہن بھائی،والدین بچھڑ گئے۔ بیل گاڑیوں میں لُٹے پٹے قافلے اس نئی ریاست میں آنے لگے۔ پھر ملک کے مختلف شہروں، گاؤں، قصبوں میں آباد ہو گئے اور مُلک کی تعمیر و ترقی میں لگ گئے،مگر اب ماحول بدل چکا تھا۔ طاقتور کمزور کو دبا رہا تھا۔

سیاسی و انتہا پسند جماعتیں اپنا اثرو رسوخ استعمال کر رہی تھیں۔ کبھی سیاسی جماعتیں غالب آ جاتیں، پھر ان جماعتوں کو دبانے کے لئے انتہا پسند جماعت کو کھلی چھٹی دی جاتی۔اس طرح سندھ صوبے میں قتل و غارت کا بازار گرم ہو گیا۔ عوام غیر محفوظ ہو گئے، پرچیاں چلنے لگیں، لوگ جانیں بچانے کے لئے اُن کو رقم دیتے رہے،جنہوں نے ایسا نہیں کیا، اپنی جان سے گئے۔

یہاں فیکٹریوں کو آگ لگانے کے واقعات بڑھ گئے، لوگ سینکڑوں کی تعداد میں زندہ جل گئے۔کسی کا جان و مال محفوظ نہیں رہا، ہزاروں کی تعداد میں بچوں بڑوں کو اغوا کر لیا گیا۔ آخر کراچی کی صورتِ حال کو سنبھالنے کے لئے آرمی کو اپنا کردار ادا کرنا پڑا، گھر گھر تلاشی لی گئی، ہر قسم کا اسلحہ برآمد ہوا، کئی سال بعد امن قائم ہوا۔اب عوام نے پتھارے ٹھیلے لگائے، جو خوشحال لوگ تھے۔

انہوں نے منظور کاکا اور آغا مقصود عباس کو بڑی بڑی رقوم دے کر عمارتیں تعمیر کیں۔ رہائشی پلاٹوں کو کمرشل کر دیا اور عدالت نے اس کی اجازت دے دی۔بحریہ ٹاؤن میں بھی عوام نے اپنی زندگی کی جمع پونجی لگا دی اور اچھے خواب دیکھنے لگے،مگر عدالت کے فیصلے نے اُنہیں پھر بے گھر کر دیا۔ ان کا ہجرت کا قافلہ پھر چل پڑا، اُنہیں اپنے باپ دادا کی قربانیاں یاد آنے لگیں، اب کدھر جائیں۔

ہماری آنے والی نسل کا کیا مستقبل ہے؟ ابھی تک تجاوزات کے بعد توڑی جانے والی دکانوں کے مالکان کو متبادل دکانیں فراہم نہیں کی جا سکیں۔اب ہزاروں گھروں کو گرا کر متبادل گھر چند ماہ میں نہیں دیئے جا سکتے۔ سندھ حکومت کے پاس اتنا بجٹ نہیں ہے کہ وہ اربوں روپیہ ان کی بحالی پر خرچ کر سکے۔

دوسری طرف وہاں کے عوام کو بجلی، گیس، پانی کی فراہمی میں مشکلات پیدا کی گئیں۔ اُن کی روزمرہ زندگی عذاب بنا دی گئی۔بے روزگاری میں اضافہ ہو گیا۔ بچے بھوکے پیاسے رہنے لگے، سکول کالج جانے سے رہ گئے، کارخانے بند ہو گئے، مگر عوام اس بات سے مطمئن تھے۔ ہم پاک وطن میں زندہ ہیں۔ عدلیہ کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہئے، جبکہ2001ء کے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے بعد یہ تمام سٹی ڈسٹرکٹ کونسل کے پاس محکمے چلے گئے۔ پھر2003ء میں سٹی کونسل کی قرارداد کی منظوری سے26 شاہراہوں کو کمرشلائز کیا گیا۔

پھر اس کے خلاف عدالتوں سے رجوع کیا گیا۔ عدالتوں نے اُن کی قرارداد کو منظور کیا، جبکہ سینکڑوں پلاٹ ایسے ہیں جن کو محکمے نے کسی وجہ سے کمرشل نہیں کیا۔ آج عدلیہ ان ہی فیصلوں کے خلاف فیصلے دے ری ہے۔

عدالتوں کو انسانی حقوق کے حوالے سے سوچنا چاہئے۔ کیا حکومت اُن کو بنیادی سہولتیں مہیا کر سکی؟ پانی، بجلی، گیس کے بغیر اُن کی زندگی کسی جہنم سے کم نہیں۔ اب کئی برسوں سے آباد گھروں کو گرانا ظلم نہیں تو اور کیا ہے

۔ البتہ جہاں ضروری ہو راستے میں رکاوٹ اور جو لوگ عوام کا پیسہ لوٹ کر ملک سے فرار ہو گئے ،اُنہیں قانون کے شکنجے میں لانا ضروری ہے۔یہ کراچی کا مسئلہ نہیں، تمام بڑے بڑے شہروں کا مسئلہ ہے۔ اب بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر نقشے تبدیل ہوں گے، پہلے جیسے شہر نہیں رہیں گے، اب ہمیں آگے بڑھنا ہے، اپنی قوم و مُلک کی ترقی کے لئے آسانیاں پیدا کرنا ہے۔ آگ کے دریا سے کراچی کو نکالنا ہے:

‘‘کراچی میرا جل رہا ہے

قافلۂ 1947ء چل رہا ہے‘‘

مزید : رائے /کالم