سپریم کورٹ اور از خود نوٹس

سپریم کورٹ اور از خود نوٹس
سپریم کورٹ اور از خود نوٹس

  

وسائل اور با اثر فرد کی رشتہ داری سے محروم کسی بیوہ کی طویل عرصے سے قبضہ کرائی گئی زمین واگزار کرانا، منشا بم جیسے شخص کی گرفتاری، غیر قانونی تجاوزات پر تعمیر شدہ عمارتوں کو منہدم کرانا، زیر زمین پانی استعمال کر نے کے نام پہ منرل واٹر فروخت کرنے کا معاملہ، بڑے اسکولوں میں بچوں کی بھاری بھاری فیسوں میں کمی ، دودھ کی جگہ کیمیکل فروخت کرنے کا معاملہ، نجی اسپتالوں میں بھاری بھاری رقمیں وصول کرنے کا معاملہ، کرپشن کے بعض معاملات کو دیکھنا ، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی سست روی اور ناقص کارکردگی پر سر زنش کرنا ، تھرپارکر میں بچوں کی ہلاکت کا نوٹس لینا، اور تھرپارکر ر کا دورہ کرنا، اسپتالوں کی کارکردگی بہتر کرانا ، ملک میں پانی کی پیدا ہونے والی کمی پر بار بار اظہار تشویش ظاہر کرنا، موبائل فون پر ٹیکس کی بھرمار، عام لوگوں کو بنیادی حقوق سے محروم کئے گئے حق، اور دیگر کئی ایسے ہی معاملات تھے جن پر میاں ثاقب نثار اور ا ن سے قبل ایک اور چیف جسٹس افتخار چوہدری نے از خود نوٹس جاری کرنے کا جو عمل شروع کیا تھا ، اس سے انفرادی اور اجتماعی طور پر عوام کو مثالی فائدہ پہنچا۔

میاں ثاقب نثار کی رٹائرمنٹ کے بعد ذرائع ابلاغ میں بعض اخبارات اور چینلوں نے سپریم کورٹ کی جانب سے از خود نوٹس لینے کے معاملہ پر تحفظات کا بار ہار اظہار کرتے ہوئے لکھا اور کہا کہ ان کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی تھی۔ سیاسی رہنماؤں خصوصا حکومتوں کا حصہ رہنے والوں نے بھی از خود نوٹسوں کو ملک کے انتظامی امور میں مداخلت کا نام دیا۔

میں نے اپنے کئی کالموں میں از خود نوٹس اور عدالتوں پر معمول کے مقدمات کی تعداد کے حوالے سے یہ تجویز پیش کی ہے کہ سپریم کورٹ کو از خود نوٹس اور ایسے افراد کے مقدمات جو کسی صورت میں بھی اعلی ترین ملکی عدالت سے انصاف کے لئے رجوع نہیں کر سکتے، انسانی حقوق کی پامالی کے معاملات کی سماعت کرنے کے لئے سپریم کورٹ کو علیحدہ بنچ مستقل بنیادوں پر قائم کرنا چاہئے۔ اس کی بہت ساری معقول وجوہات ہیں۔ حکومت اور ان کے وزراء کی بنیادی ذمہ داری کیا ہوتی ہے؟ اکثر وزراء ناواقف ہیں، وہ صرف دورے کرنا جانتے ہیں، بیانات جاری کرنا سب سے بڑا مشغلہ قرار پاتا ہے، اپنے محکموں میں باقاعدگی سے بیٹھنا انہیں نہیں آتا۔

اپنے حلقے کے ووٹروں سے مسلسل ملاقات میں انہیں کوفت ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ حکومتوں کے تمام محکمے ایک طرح سے ناکارہ ہو گئے ہیں۔ جن مسائل پر سابق چیف جسٹس نے از خود نوٹس لئے، کیا یہ تمام کے تمام مسائل ایسے نہیں تھے جن پر سرکاری محکموں اور وزراء کو کارروائی کرنا چاہئے تھی۔ لیکن کیوں کریں ۔ کہیں مصروفیت آڑے آتی ، کہیں مفادات کا سامنا ہوتا ہے، کہیں منشاء بم اور چھوٹو جیسے لوگوں میں انہیں مستقبل میں اپنے کام نظر آتے ہیں، کہیں بڑا کارروبار کرنے والی پارٹیوں کے بارے میں وہ دانستہ صرف نظر کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے عام لوگ اپنے مسئلہ کو لئے پھرتے ہیں۔ کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ رہ گیا وکلاء کا معاملہ تو وہ تو سپریم کورٹ میں رجوع کرنے کی فیس اتنی زیادہ طلب کرتے ہیں جس کی ادائیگی عام لوگوں کے لئے ناممکن ہوتی ہے۔

موجود چیف جسٹس جناب آصف سعید کھوسہ درست فرماتے ہیں کہ ملک کی عدالتوں میں انیس لاکھ مقدمات فیصلوں کے منتظر ہیں جب کہ ججوں اور مجسٹریٹوں کی کل تعداد تین ہزار ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر دن چھتیس گھنٹوں کا بھی ہو اورران اوقات میں صرف کام ہی کیا جائے تو بھی انیس لاکھ مقدمات کو منصفین کی موجود تعداد پورا نہیں کر سکتی ہے۔ فل کورٹ ریفرنس میں تقریر میں انہوں نے زور دیا کہ ملک میں تینوں بنیادی اداروں کے درمیاں مذاکرات کی ضرورت ہے تاکہ ایک دوسرے پر ان کے احاطہ اختیار میں قدم نہ رکھنے کے معاملہ پر غور کیا جاسکے۔

میاں ثاقب نثار کے جانشین چیف جسٹس آصف کھوسہ نے البتہ یہ بتا کر اکثر لوگوں کو حیران کردیا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 184(3) پر ’’ بہت احتیاط‘‘ سے کام کیا جائے گا چہ جائیکہ معاملہ قومی نوعیت کی اہمیت رکھتا ہو جسے حل کرنے کا کوئی اور راستہ نہ ہو۔

جناب چیف جسٹس نے وہ راستہ ہی بند کر دیا جس سے عام لوگ مستفید ہوجایا کرتے تھے ۔ جناب چیف جسٹس کو یقین رکھنا چاہئے کہ اس ملک میں سرکاری محکموں کی موجودہ ناقص کارکردگی اور سست رفتاری کی وجہ سے ایسا نہیں ہو سکے گا جس کا انہوں نے اپنی تقریر میں ذکر کیا کہ ’’ جس کا کوئی قانونی حل نہ ہو‘‘۔ اگر کسی صورت یہ تبدیلی پیدا ہوجائے جس کی توقع ہی کی جاسکتی ہے جب تک منتخب نمائندے اپنی ذمے داریوں کا احساس کرتے ہوئے اپنے فرائض ادا کر سکیں۔

مقننہ اور انتظامیہ کو اس ملک میں عوام کو درپیش مسائل کے پیش نظر خلوص کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ بااثر افراد کے معاملات اور مسائل تو ایک فون کال پر ہی حل ہوجاتے ہیں۔ اس تماش گاہ میں بے اثر، وسائل اور آواز سے محروم ، مختلف قسم کے مافیاؤں کی چیرہ دستیوں کے مسائل کے مارے لوگ ازخود نوٹس نہ لئے جانے پر محروم ہی رہیں گے۔

اسی لئے بہتر ہوگا کہ سپریم کورٹ میں ایسے مسائل اور معاملات کی سماعت کے لئے علیحدہ مستقل بنیادوں پر بنچ بنایا جائے ۔ مرحوم سیاسی رہنماء اور شاعر حسرت موہانی کہتے ہیں :

’’ جو سنا ئی انجمن میں شبِ غم کی آپ بیتی

کئی رو کے مسکرائے کئی مسکرا کے رو ئے ‘‘

مزید : رائے /کالم