محکمہ صو با ئی خا تون محتسب پنجاب 6 سا ل میں صرف 139شکا یتیں سن سکا

محکمہ صو با ئی خا تون محتسب پنجاب 6 سا ل میں صرف 139شکا یتیں سن سکا

لاہور(دیبا مرزا سے ) پنجا ب بھر کی خواتین کو ہرا سمنٹ سے بچا نے کیلئے بنا یا جانیوالا ادارہ’’ صو با ئی خا تون محتسب پنجا ب‘‘ ویمن امپاورمنٹ کے نا م پر سفید ہا تھی بن کر ر ہ گیا ۔اپنے قیا م کے 6 سا لو ں کے دورا ن صرف 139شکا یا ت وصول ہو ئیں جو کہ ادارہ کی کارکردگی پر ایک بڑا سوا لیہ نشا ن ہے جبکہ دوسری جانب مو جو دہ چیئر پرسن رخسا نہ گیلا نی بھی دعووں اور زبا نی جمع خرچ سے آگے نہ بڑ ھ سکیں ۔اور ادراہ کی ہرا سمنٹ کے نا م پر کروڑں روپے کی آگا ہی مہم سوائے پیسوں کے ضیا ع کے عملی طور پر کارگر ثا بت نہ ہو سکی ۔پنجا ب بھر کی خواتین کی بڑی اکثریت’’ Harasment on work place‘‘ کے قا نو ن اور ادا رہ کے نام سے ہی لا علم ہیں ۔جو کہ ادارہ کی ناکامی کا منہ بو لتا ثبو ت ہے دوسری جا نب اب تک خا تون محتسب پنجا ب کو زیا دہ تر شکا یا ت محکمہ ہیلتھ اور محکمہ ایجو کیشن کی جانب سے خواتین نے رپو رٹ کیں ہیں اس کے علاوہ ڈینگی کنٹرول پروگرا م کی LSPلیڈی سینٹری خوا تین کو بھی ہرا سمنٹ کا شدید سا منا کر نا پڑتا ہے ۔گزشتہ روز روزنا مہ پاکستان کی جانب سے صو با ئی خاتون محتسب پنجا ب کے وزٹ کے مو قع پر یہ با ت واضح دکھا ئی دی کہ ویمن امپاورمنٹ کے نا م پر بنا یا جا نے والا یہ ادارہ اپنی کا رکر دگی دکھا نے میں بری طرح نا کا م رہا ہے ۔ہر ماہ لا کھوں روپے کی فنڈنگ،کرا ئے کی بلڈنگ والا یہ ادارہ خواتین کی امپا ورمنٹ کیلئے کو ئی خا ص کا رکر دگی دکھا نے میں نا کا م ہے ۔آگا ہی نہ ہو نے کیساتھ ساتھ ہرا سمنٹ کے قانون کی مکمل قا نو ن سا زی نہ ہو نے کے با عث ادارہ بھی اس قا نو ن کی عملدرآمد ی میں نا کا م ہے ۔اس حوالے سے ’’ پا کستان ‘‘ سے گفتگو کر تے ہو ئے ترجما ن خا تو ن محتسب پنجاب عا صم صا دق قریشی نے بتا یا کہ مو جو دہ چیئر پر سن کے آنے کے بعد کیسز کو سنا جا رہا ہے چو نکہ موجو دہ چیئر پر سن کے آنے سے پہلے ایک سا ل تک سیٹ خا لی رہی تھی ۔انہو ں نے کہا کہ اب تک چھ سا لو ں کے دورا ن صرف 139شکایات آئیں ہیں ۔ انہو ں نے کہا کہ ہما ری ہر ممکن کو شش ہو تی ہے کہ ہم ان کی شکا یا ت سن کر قا نو ن کے مطا بق کا روا ئی کر یں ۔ اس مو قع پر چیئر پرسن رخسا نہ گیلا نی سے جب ان کے آفس میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کسی بھی سوال کا جوا ب دینے سے انکا ر کر دیا اور کہا کہ میں ایک جج ہو ں آپ کو کس طرح جواب دے سکتی ہو ں ۔پھر ان سے سوال کیا گیا کہ یہا ں پر آنیوا لی سا ئل خواتین کو پر یشا نی کا سا منا ہے تو انہو ں نے پھر اس با ت پر اصرا ر کیا کہ آپ میر ے ترجما ن سے ملیں میں بہت مصروف ہو تی ہو ں میرے سے ٹا ئم لیں کر ملنے آئیں ۔

صو با ئی خا تون محتسب پنجا ب

مزید : صفحہ اول