پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری

پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری
 پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اندلس وہی ملک ہے جہاں جبرالٹر کے مقام پر طارق بن زیاد اپنی کشتیاں جلا کر بارہ ہزار کا لشکر لے کر ایک لاکھ فوج سے ٹکرا یا تھا اور فتح حاصل کرکے مسلمانوں کے جدید طرز حکومت کی داغ بیل ڈالی ، لیکن اب صدیاں گزر گئیں ہیں اِس داستان کو تاریخ کا حصہ بنے ہوئے ،اب تو اندلس کا نام سپین لکھا اور پکارا جاتا ہے، مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن کا جو خواب علامہ اقبالؒ نے دیکھا تھااُس کی تعبیر پاکستان کی شکل میں قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے ہاتھوں سر انجام پائی ، پاکستان وجود میں آیا تو اس مملکت خداداد کو تسلیم کرنے والے سر فہرست ممالک میں سپین کا شمار بھی ہوتا ہے ۔

مختلف ادوار گزرنے کے ساتھ ساتھ سپین اور پاکستان کے ثقافتی اور اقتصادی تعلقات میں مضبوطی آتی گئی ، دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات نے نیا موڑ لیا اور درامدات و برامدات کی مد میں سرمایہ کاری کا رجحان دن بدن بڑھتا چلا گیا اور آج دونوں ممالک ایک دوسرے کی پروڈکٹس سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں ۔دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید بہت بنانے کے لئے سفارت خانہ پاکستان میڈرڈ اور قونصلیٹ جنرل آف پاکستان بارسلونا نے ایک پل کا کردار ادا کرتے ہوئے درامدات اور برامدات کے بڑھاوے میں مکمل ساتھ دیا اور مقامی اداروں سمیت ہسپانوی حکومت کو باور کرایا کہ پاکستان ایک پر امن ملک ہے اور وہاں سرمایہ کاری کرنے کے مواقع دوسرے ممالک سے کہیں بہتر ہیں ۔

سپین میں مقیم پاکستانی بزنس کمیونٹی نے بھی مقامی تاجران کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے قائل کیا اور انہیں اپنے ساتھ پاکستان کے دورے کرائے ، پالسن کمپنی کے ڈائریکٹر امانت علی وڑائچ نے سپین کے بہت بڑے ٹریڈ مارک ’’ ایل کورتے انگلیس ‘‘ کے وفد کو پاکستان میں لے کر گئے ، امانت حسین مہر نے ٹریڈ مارک ’’ کوندیس ‘‘ کو پاکستان کا راستہ دکھایا، مہر جمشید احمد نے ویلنسیا کے ہسپانوی سرامکس کے تاجران کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے مائل کیا ، اسی طرح چوہدی امتیاز لوراں نے سپین میں کنسٹریکشن کے شعبے میں ترقی کی اور مقامی اداروں سے تعلقات بنائے ۔

تجارتی تعلقات کی بہتری کے لئے سفارت خانہ پاکستان میڈرڈ کے کمرشل سیکشن کے ساتھ ہسپانوی تنظیم کاسہ ایشیاء ، آسی او ، وزارت خارجہ اوربارسلونا بلدیہ کے نمائندگان نے ایک کانفرنس کا اہتمام کیا جس کا مقصد ہسپانوی تاجران کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے اور پاکستان ٹورازم کو فروغ دینے کے حوالے سے بریفنگ دینا تھی ۔کمرشل قونصلر ڈاکٹر حامد نے کانفرنس میں بتایا کہ برطانیہ اور دوسرے یورپی ممالک سمیت سپین کے ساتھ پاکستان کا ’’ بیلنس آف ٹریڈ ‘‘ سب سے زیادہ ہے بہت سی ہسپانوی کمپنیاں پاکستان میں پہلے سے ہی مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں جن میں’’ کوبرا ‘‘ گرڈ اسٹیشن ، اندرا آئی ٹی میں ، ٹپسا کنسٹریکشن میں ، گمیسا ونڈ انرجی میں ’’ ادلتے ‘‘ ایئر پورٹس برتھ میں اور سے لونسا گروپ سرامکس کاکام کرنے والوں میں شامل ہیں اس کے ساتھ ساتھ بہت سی مزید کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری میں بھر پور دلچسپی لے رہی ہیں ۔

ویسے بھی دسمبر 2018تک سپین کے ساتھ ایکسپورٹ 1.2بلین ڈالرز ریکارڈ کی گئی ہے جو چار سے پانچ سال تک دوگنا ہو کر 2.5بلین ڈالرز تک پہنچ جائے گی ، ایکسپورٹ کو بڑھاوا دینے کا ایک لنک پاکستان میں ہونے والی ’’ ٹیکسپو 2019‘‘ ہے جو 11سے 14اپریل تک منعقد ہو گی جس میں شمولیت کے لئے سپین کی دو سو بڑی کمپنیوں کو پیغام دیا گیا ہے جن میں سے بارہ کمپنیاں پاکستان جانے پر راضی ہو چکی ہیں اور باقی بہت سی کمپنیاں پاکستان جانے کے حوالے سے جلد اطلاع دیں گی ، گذشتہ سال پاکستان میں ہونے والی ایکسپو میں سپین کی بڑی گیارہ کمپنیاں شامل ہوئی تھیں لیکن اس سال یہ تعداد کہیں زیادہ ہو گی ۔ تجارت اور ٹورازم بڑھانے کے لئے پاکستان کی موجودہ حکومت نے 175ممالک کو ای ویزہ اور 50ممالک کو’’ آن ارائیول ‘‘ ویزہ کی سہولت مہیا کی ہے ،آن ارائیول ویزہ کے لئے غیر ملکی کسی بھی پاکستانی ایئر پورٹ پر اُترے تو اُس کے پاس اپنے ملک میں موجود سفارت خانہ پاکستان کے کمرشل قونصلر، مقامی یا پاکستانی چیمبر آف کامرس کا خط ہونا
چاہیئے جسے دکھا کر وہ پاکستان میں انٹر ہو سکے گا ۔

بہت سی ہسپانوی کمپنیاں پاکستان کے ٹورازم ، آئی ٹی ، ڈیری سیکٹر ، فوڈ پراڈکٹس ، سولر و ونڈ انرجی ، زراعت اورٹیکسٹائل سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی لے رہی ہیں ۔سپین کے بہت بڑے ٹریڈ مارک ، مینگو ، کورتے فیل ، وویمن سیکرٹ ، انڈی ٹیکس کے ٹریڈ مارک ، زارا ، لیفتھیز ، ماکسیمو ڈیوٹی اپنے بائینگ ہاؤسز کراچی سمیت پاکستان کے بڑے شہروں میں بنا چکے ہیں۔موجودہ حکومت نے ملکی و غیر ملکی انوسٹمنٹ پالیسی کو مزید نکھارا ہے ، اِسے دوستانہ ماحول کے ساتھ ساتھ ڈیوٹیز پر سہولت دی ہے ، سیاحت کے فروغ کے لئے ویزے کھول دیئے گئے ہیں ۔

خیبر پختون خواہ ٹورازم کا ایک وفد ایم ڈی مشتاق خان کی قیادت میں سپین کے سیاحت کے اعتبار سے سب سے بڑے فیسٹول ’’ فتور ‘‘ FITUR) ( میڈرڈمیں شرکت کر چکا ہے ۔کمرشل قونصلر ڈاکٹر حامد اس فیسٹول کے جنرل سیکرٹری کو مل کر پاکستان کی موجودہ صورت حال ، سیکیورٹی کے حوالے سے مکمل تحفظ اور موجودہ حکومت کا ٹورازم کو فروغ دینے کی پالیسی کے متعلق انہیں بتا چکے ہیں جس پر جنرل سیکرٹری نے کہا ہے کہ ہم پاکستان کے ٹورازم کو مزید نکھارنے کے لئے اپنی خدمات سر انجام دیں گے ۔

ویسے بھی بہت جلد ’’ ایل کورتے انگلیس ‘‘ کا ایک وفد پاکستان جا رہا ہے جو وہاں ٹورازم کے فروغ کے لئے کام کرے گا وفد کو پاکستان لے جانے کا اہتمام امانت علی وڑائچ اور محمد بلال علی نے کیا ہے ۔اسی سلسلے میں قونصل جنرل بارسلونا عمران علی چوہدری مقامی بلدیہ کے کمشنر کو ملے تو انہوں نے کہا کہ آپ ہسپانوی ماہرین کو پاکستان بھیجیں اور اُن سے کہیں کہ وہ وہاں سرمایہ کاری کے حوالے سے سیمینار کریں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارٹی بڑھاوے کے بہتر نتائج برامد ہوں ۔سفارت خانہ پاکستان میڈرڈ کا کمرشل سیکشن اور قونصلیٹ جنرل آف پاکستان بارسلونا پاکستان میں ہسپانوی تاجران کو سرمایہ کاری کے لئے قائل کرنے اور انہیں پاکستان کا دورہ کرنے کے لئے دن رات کوشاں ہے ۔

سفیر پاکستان خیام اکبر دونوں ممالک کے ثقافتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے ’’ کاسہ ایشیاء ‘‘ کے ساتھ مل کر ایک ثقافتی پروگرام ترتیب دینے کا ارادہ رکھتے ہیں جس سے پاکستان کی تہذیب و تمدن ، رہن سہن اور ثقافتی رنگوں کو سمجھنے میں آسانی ہو اور مقامی کمیونٹی پاکستانیوں کے ساتھ میل جول بڑھانے میں کوئی جھجھک محسوس نہ کرے ۔

مزید :

رائے -کالم -