مغربی د نیامیں طلاق کی شرح میں کمی، وجہ بھی انتہائی حیران کن

مغربی د نیامیں طلاق کی شرح میں کمی، وجہ بھی انتہائی حیران کن
مغربی د نیامیں طلاق کی شرح میں کمی، وجہ بھی انتہائی حیران کن

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں 1969ءمیں طلاق کے متعلق ایک قانون بنایا گیا جس کے ذریعے طلاق کا عمل انتہائی آسان بنا دیاگیا۔ یہ قانون لاگو ہونے کے بعد طلاق کی شرح میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا تاہم اب موجودہ نسل میں طلاق کی شرح مذکورہ قانون بنانے کے بعد سے کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے ، جس کی ماہرین نے ایسی حیران کن وجہ بتا دی ہے کہ سن کر آدمی کو یقین ہی نہ آئے۔ میل آن لائن کے مطابق برطانیہ کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 2017ءمیں 62ہزار712 خواتین نے طلاق کے لیے درخواست دی۔ اس سے پچھلی نسل میں یہ شرح اس سے لگ بھگ دو گنا زیادہ تھی کیونکہ 1993ءمیں 1لاکھ 18ہزار401خواتین نے طلاق لی تھی۔

برطانیہ میں طلاق کی شرح اس قدر کم ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ اب مردوں نے بیوی اور ازدواجی رشتے کے متعلق اچھے روئیے کا مظاہرہ کرنا شروع کر دیا ہے جس کی وجہ سے طلاق لینے والی خواتین کی شرح تیزی سے کم ہو رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق اعدادوشمار میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس عرصے میں طلاق کی درخواست دینے والی مردوں کی تعداد بھی نمایاں طور پر کم ہو کر صرف38ہزار 957رہ گئی ہے۔ اس حوالے سے میرج فاﺅنڈیشن کے ریسرچ ڈائریکٹر ہیری بینسن کا کہنا تھا کہ ”گزشتہ عشروں میں خواتین کی طرف سے مردوں کے بیویوں کے ساتھ برے روئیے کو بہت چیلنج کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ گزشتہ 25سال میں مردوں کا رویہ بہت کچھ تبدیل ہو چکا ہے اور طلاق کی شرح کم ہونے کی صورت میں اس کے ثبوت بھی سامنے آ رہے ہیں، کیونکہ اب بیویاں اپنے شوہروں کے روئیے سے زیادہ مطمئن ہیں اور وہ طلاق کے لیے عدالت سے کم رجوع کررہی ہیں۔“

مزید : برطانیہ