ناقص تفتیش سے مظلوم پر انصاف کے دروازے بند ہوئے:ڈاکٹر طاہرالقادری

ناقص تفتیش سے مظلوم پر انصاف کے دروازے بند ہوئے:ڈاکٹر طاہرالقادری
 ناقص تفتیش سے مظلوم پر انصاف کے دروازے بند ہوئے:ڈاکٹر طاہرالقادری

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر  طاہر القادری نے کہا ہے کہ ناقص تفتیش سے مظلوم پر انصاف کے دروازے بند ہوئے،نظام انصاف میں انقلابی تبدیلی لانے کے لئے نظام تفتیش کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے حوالے سے چیف جسٹس کا بیان قابل تحسین ہے، دعا ہے کہ وہ اس اہم آئینی فریضہ کو خوش اسلوبی سے انجام دے سکیں۔

عوامی لائرز موومنٹ کے مرکزی رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ تفتیش کو کسی کے صوابدیدی اختیار تک محدود کر دینے سے مظلوم پر انصاف کے دروازے بند ہوئے، ماڈل ٹاؤن جیسے سانحات اور بے گناہوں کے قتل عام کے واقعات میں پولیس کی ناقص اور جانبدارانہ تفتیش کی وجہ سے انصاف کا خون بھی ہوتا ہے،مقدمات غیر ضروری تاخیر کا نشانہ بھی بنتے ہیں اور مظلوم غیر جانبدار تفتیش کے آئینی حق کے لئے تڑپتا رہتا ہے ،ماڈل ٹاؤن قتل عام کیس میں صرف غیر جانبدار تفتیش کا حق لینے کے لئے ساڑھے چار سال لگے اور ناقابل بیان مالی بوجھ برداشت کرنا پڑا، ایسے  واقعات میں اکثر مقتولین کے ورثا تھک ہار کر قاتلوں سے ’صلح‘ کر لیتے ہیں، یہاں تک کہ مائیں اپنے بچوں کے نا حق قتل کا انصاف مانگنے سے بھی عاجز آ جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ نظام تفتیش اور پراسیکیوشن میں موجود سقم دور کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یہ ان کی ایک بڑی انسانی خدمت ہو گی،اس سے انصاف کا نظام ٹریک پر آجائے گا اور لاتعداد غریب مظلوموں کو فائدہ پہنچے گااور پاکستان کو ریاست مدینہ کے ماڈل پر استوار کرنے میں مدد ملے گی،انصاف کی عدم فراہمی سے محرومی، اشتعال، متشدد روئیے، انتہا پسندی اور پھر یہیں سے دہشت گردی جنم لیتی ہے اور سوسائٹی کا امن تہس نہس ہو کر رہ جاتا ہے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور